سنت براہیمی یا خوئے آزری - ڈاکٹر خولہ علوی

ہندوؤں کے مندر بت پرستی کا مرکز ہوتے ہیں اور اسلام بت پرستی کی سختی سے مذمت کرتا ہے ہے۔ اور بت شکنی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہیں توڑنے کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ کفار ان بتوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، ان کو معبود سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہیں، ان کو سجدے کرتے ہیں، عقیدت سے ان کے سامنے نذرانے پیش کرتے ہیں، ان سے منتیں مرادیں مانگتے ہیں۔ ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔

یاد رکھیے! بت شکنی انبیاء کی سنت بھی ہے اور کافروں کی طاقت توڑنے کا ایک بڑا سبب بھی!حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے آبائی علاقے میں موجود کفار کی مرکزی عبادت گاہ میں رکھے گئے بتوں کو پاش پاش کر دیا تھا۔ ‏خاتم النبیین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے 360 بتوں کو توڑ ڈالا تھا۔ نہ صرف بیت اللہ میں بلکہ پورے حجاز کے علاقے میں جہاں جہاں بھی بت موجود تھے، رسول امین اور فرمانروان مدینہ کی حیثیت سے ان سب کو توڑنے کے لیے خصوصی احکامات جاری فرمائے تھے اور اس مہم کے لیے خصوصی افراد کے دستے تیار کیے تھے۔چاروں خلفائے راشدین کا بھی اسوۂ نبی پر عمل کرتے ہوئے یہی طرز عمل رہا تھا۔ ازل تا ابد بت پرستی کے بجائے بت شکنی مسلمان کا طرز عمل رہا ہے اور رہنا چاہیے۔

قرآن وسنت کے واضح احکامات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے شہرہ آفاق آئمہ اربعہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اور دیگر فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلامی حکومت سے پہلے اگر کسی علاقے میں غیر مسلموں کے عبادت خانے موجود ہوں تو اسلامی حکومت کو ان کی صورت حال پر رہنے دینا چاہیے اور ان کو مسمار نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اگر کفار کے عبادت خانے اسلامی حکومت بننے کے بعد تعمیر کیے گئے ہوں تو انہیں مسمار کر دینا ضروری ہوتا ہے۔

سلطنت غزنویہ (976ء سے 1186ء) کے سب سے مشہور حکمران سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 حملے کیے اور سومنات کے مشہور زمانہ مندر پر حملہ کرکے تمام بتوں کو توڑ کر خود کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے بطور "بت شکن" معروف کردیا۔ اس نے "بت فروش" بننے کے بجائے "بت شکن" بننا اور کہلوانا اپنے لیے باعث افتخار سمجھا۔

جب یہ پریشان کن خبر مجھے معلوم ہوئی کہ 23 جون 2020ء بروز منگل کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہندوؤں کے لیے ان کی عبادت گاہ یعنی مندر کا افتتاح کردیا گیا ہے، جو چار کنال رقبے پر محیط ہے اور جس کے لیے زمین سابقہ وزیراعظم نواز شریف کے دور سے2017ء سے منتخب شدہ ہے تو میرے دل ودماغ الجھ سے گئے کہ وطن عزیز میں اب یہ کیا ہونے جا رہا ہے؟ ذہن پر پریشانی طاری ہوگئی کہ ایک سال پہلے 2019ء میں ہندوؤں اور سکھوں کی پاکستان میں آمد و رفت کے لیے کرتار پور بارڈر کھولا گیا۔ اب ہندو مندر کی تعمیر کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ حساس دلوں کو حقیقتاً بہت پریشانی لاحق ہوچکی ہے۔ یہ کوئی معمولی اور نظر انداز کردینے والی بات نہیں بلکہ بہت قابل توجہ اور بڑی پریشانی والی بات ہے۔

الیکشن کمیشن ریکارڈ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صرف 178 ہندو ووٹرز رہائش پذیر ہیں جبکہ مندر کے لیے 20,000 مربع فٹ زمین (چار کنال رقبہ) اور 100 ملین یا (10کروڑ) روپے مختص کر دیے گئے ہیں۔اس خبر کی مکمل تفصیلات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ پہلے ہندو مندر کی تعمیر کا سنگِ بنیاد اسلام آباد میں رکھا گیا ہے۔ ہندو مندر کی تعمیر کا فیصلہ پاکستان میں موجود ہندو آبادی کی خواہش پر کیا گیا ہے۔ یہ مندر ایچ نائن ٹو سیکٹر میں تعمیر کیا جائے گا جس کے لیے تین سال قبل 2017ء میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے اسلام آباد میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے حکم پر ہندو پنچایت کو چار کنال رقبہ پر مشتمل پلاٹ الاٹ کیا تھا۔

شری کرشنا نامی یہ مندر صرف مندر ہی نہیں ہوگا بلکہ ہندوؤں کی سوشل سرگرمیوں کے لیے ایک کمیونٹی سینٹر کا کام دے گا جہاں ایک کمیونٹی ہال، آڈیٹوریم اور شمشان گھاٹ کے لیے بھی جگہ ہوگی۔ مندر کی تعمیر کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے اور چار دیواری کے کام کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی نے بتایا کہ 'اس وقت راولپنڈی میں 30 سے 35 مندر بند پڑے ہیں اور زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ہندوؤں کے لیے یہاں کوئی کمیونٹی سینٹر موجود نہیں تھا، اب یہاں جگہ مختص کرکے باؤنڈری لگا دی گئی ہے۔اہم ترین بات یہ ہے کہ اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں اس سے پہلے تیس پنتیس مندر ویران پڑے ہوئےہیں۔ اب جن ہندوؤں کو عبادت اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کا شوق چرایا ہے تو وہ راولپنڈی کے ان خالی پڑے ہوئے مندروں کو آباد کرکے ان میں اپنی عبادت اور مذہبی رسوم و رواج کی ادائیگی کرلیں۔

نہ جانے پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو کیا مسائل درپیش ہیں۔ کبھی گوردوارے تعمیر کرنے کے پراجیکٹ کا اعلان کر دیتی ہے اور کبھی مندروں کی تعمیر کا کام شروع کر دیتی ہے بلکہ گذشتہ سال ہی پی ٹی آئی حکومت نے ملک بھر میں ہندو مندر کھولنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ کبھی یہ حکومت قادیانیوں کے لیے سیاسی و مذہبی اعتبار سے خصوصاً ختم نبوت کے معاملے میں آسانیاں بہم پہنچانے کی کوششوں میں لگ جاتی ہے۔ غالباً اسے اقلیتوں کے حقوق کا زیادہ احساس ہے اور اسے اکثریت یعنی مسلمانوں کی پروا نہیں جن کے دس کروڑ روپے کی کثیر رقم کے ٹیکس اس نے بطور فنڈ مندر کی تعمیر کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے۔ہماری حکومت اقلیتی جماعتوں کے مذہبی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ان کی عبادت گاہیں کھولنے میں مصروف ہے۔

حالانکہ اسلامی حکومت کے لیے شریعت اسلامیہ کے صریح احکامات کے مطابق غیر مسلموں کو ان کی عبادت گاہوں کی تعمیر کی اجازت دینا یا ان کی تعمیر میں سہولت فراہم کرنا جائز نہیں ہے۔

ع بت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بت گر ہیں

تھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں

پاکستانیوں کو کبھی ایک مسئلہ اور کبھی دوسرا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ ایک مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہوتا تو دوسرے مسئلے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ کورونا وائرس کے سبب کرتارپور راہداری کو 16مارچ 2020ء کو بند کردیا گیا تھا۔ تاہم دنیا بھر میں مذہبی مقامات بتدریج کھلنے کے بعد پاکستان نے بھی سکھ زائرین کے لیے کرتارپور راہداری کھولنے کے لیے ضروری انتظامات کیے ہیں۔ اور اسے 29 جون 2020ء کو کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کے اقلیتی رہنما، رکن قومی اسمبلی اور پارلیمنٹری سیکریٹری ہیومن رائٹس لال مالہی نے مندر کی افتتاحی تعمیرات کا آغاز کیا جو اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے بجا طور پر ہندو بنیے کی تنگ نظری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت مسلمانوں کو مساجد میں جانے کی اجازت نہیں دیتا جبکہ ہم پاکستان میں ہندو شری کرشنا بھگوان کا مندر بنا رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔" انہوں نے مزید اعتراف کیا کہ "کشمیر میں بھی اقلیتوں کو مسجد میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔" انہوں نے پاکستانی حکومت سے مندر کی تعمیر کے لیے فنڈز مہیا کرنے کی اپیل بھی کی۔ اس موقع پر ہندو پنچایت کے مختلف اراکین پریتم داس، مہیش چوہدری، اشوک کمار اور چمن لال بھی موجود تھے۔

دوسری طرف اسلام آباد میں ہی موجود تاریخی “لال مسجد” کو یہ کہہ کر بند کروایا جا رہا ہے کہ یہ حکومت کی زمین پر ناجائز طور پر بنی ہے۔ اس لیے اسے بند کر دینا چاہیے۔ مسلمانوں کو وطن عزیز میں مندر کی تعمیر نامنظور ہے۔ اس آواز کو انتہائی طاقتور احتجاج کی صورت دیتے ہوئے ہمیں سوشل میڈیا پر تقریر و تحریر کے ذریعے (جیسے ممکن ہو) اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔مسلمانوں سے وصول کیے گئے ٹیکسوں کی رقم کو حکومت پاکستان یا حکومتی ادارے پاکستان میں یا کہیں بھی ہنود اور سکھوں کے مندروں، گوردواروں یا حرام کاموں میں صرف کریں تو یہ گناہ حکومت کے سر ہوگا۔ اگر ہندوؤں نے مندر بنانا ہی ہے تو اپنے خرچ پر اپنی عبادت گاہ کی تعمیر کریں۔ مسلمانوں کے ٹیکس کو ان کی عبادت گاہ کی تعمیر کے لیے کیوں استعمال کیا جا رہا ہے؟

ع شعلہ بن کر پھونک دے خاشاک غیر اللہ کو

خوف باطل کیا کہ ہے غارت گر باطل بھی تو

پاکستانی قوم اس بات کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مندر کی تعمیر شروع کرنے کو انتہائی خطرناک قدم قرار دیتی ہے۔ وہ بت پرستی کو فروغ دینے کے بجائے اسلام کی بت شکنی کی لازوال روایت اور پالیسی پر عمل پیرا ہونے میں اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔

ع گرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الااللہ

اللہ تعالی ہمیں دین اسلام اور شعائر اللہ کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com