مائنس بائیس کروڑ- خورشید ندیم

مائنس ون فارمولے کا مطلب کیا ہے؟
یہی کہ سیاست کو مزید اسی راستے پر چلنا ہے جس کے آخری سرے پر کوئی روشنی نہیں۔ عمرِ رائیگاں کا ماتم ہے جو ہر نسل کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ وہی ٹیکسال اور اس میں ڈھلنے والے کھوٹے سکے۔ پے در پے ناکام تجربات کے بعد اسی سانچے کا ایک بار پھر استعمال۔ دیوار پر لکھا ہے کہ مسئلہ سانچے کا ہے اور ہم ہیں کہ کھوٹے سکے ڈھالنے پر مصر ہیں۔
مائنس ون کیا ہے؟ یہ کہ نظام وہی رہے اور عمران خان اس کاحصہ نہ ہوں۔ اس مفروضے کو مان لیا جائے تو دو بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ وہ کیا جوہری تبدیلی ہے، ہم جس کی توقع رکھتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ یہ سب کیسے ہوگا؟ یہ کام کون سرانجام دے گا؟ کارکنانِ قضا و قدر یا کوئی اور ؟
عمران خان کی سیاسی اختراع کیا ہے؟ اس نظام میں وہ نئی بات کیا ہے جس کو متعارف کرانے کے باعث انہیں ہٹانا ضروری ہے؟ کیا خوئے انتقام اور مخالفین کو کچل دینے کی بے قابو آرزو جو ایک نفسیاتی عارضے میں ڈھل چکی؟ انتقام بھی ایک زمانے میں ہماری سیاست کا چلن رہا ہے‘ لیکن ایک دوسرے کے ہاتھوں پے در پے زخم کھانے کے بعد، روایتی اہلِ سیاست نے جان لیا تھا کہ یہ دائرے کا سفر ہے جس میں شکاری ایک دن خود شکار بن جاتا ہے۔

اہلِ سیاست اس سے تائب ہو گئے تھے۔ رویوں میں تدریجاً تبدیلی آرہی تھی۔ دوسروں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہو رہی تھی۔ پیپلزپارٹی نے پانچ سال پورے کیے اور پیپلزپارٹی بھی نوازشریف کو گرانے کی کوشش کا حصہ نہیں بنی۔ پیپلزپارٹی کے دور میں ٹی وی اینکر صدر آصف زرداری کی ہر روز توہین کرتے اور ان کی رخصتی کی خبر دیتے۔ اس کے باوجود میڈیا کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوئی۔ بھٹو صاحب کے دور میں پریس کی آزادی کو دیکھیں اور پھر اس کا موازنہ زرداری صاحب کے دور سے کریں تو ایک غیر معمولی تبدیلی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انتقام کی خواہش ایک جمہوری صبر میں تبدیل ہوگئی تھی۔
نواز لیگ کا دور بھی اس کا تسلسل تھا۔ ٹی وی چینل چوبیس گھنٹے دھرنے اور حکومت کو گرانے کے لیے وقف ہوگئے۔ اس کے باوجود میڈیا کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی ہوئی نہ دھرنے والوں کے خلاف۔ بجلی کے بل جلا کر عوام کو قانون شکنی کی عملی ترغیب دینے کے باوجود عمران خان ایک دن جیل نہیں گئے۔ یہ سیاسی عمل بتا رہا تھا کہ سیاست سے انتقام ختم ہو رہا ہے۔ سیاست نے برداشت کرنا سیکھ لیا ہے۔ عمران خان نے آ کر اس انتقامی سیاست کو زندہ کر دیا۔ یوں ان کی اگر کوئی اختراع ہے تو وہ ماضی کی بدنام سیاست کو زندہ کرنا ہے۔ ان کی یہ خواہش بھی گہوارے ہی میں دم توڑ دیتی اگر یہی خواہش کہیں اور موجود نہ ہوتی۔ کچھ اور دلوں میں بھی نوازشریف کو انجام تک پہنچانے کی آرزو اسی طرح مچل رہی تھی۔ یوں سیاسی انتقام کے سوا، کوئی ایسی پیشرفت نہیں جو عمران صاحب کے نامۂ اعمال میں درج ہو اور یوں انہیں ہٹانے سے ملک میں کوئی جوہری تبدیلی آ جائے گی؟
تو کیا معیشت کی بدحالی؟ اس میں بھی خان صاحب کی حیثیت شریک جرم کی ہے۔ ان کو معیشت اور گورننس کی سمجھ کہاں تھی کہ خود کوئی فیصلہ کرتے؟ انہیں جو کہا گیا، وہ کرتے رہے۔ وزیر خزانہ‘ وزیر اطلاعات اور دیگر نہ جانے کون کون آتے گئے اور کابینہ میں بیٹھتے گئے۔ اب اگر کوئی ان کی کارکردگی کا ذمہ دار بھی تنہا انہیں ٹھہرائے تو اس کی سیاسی بصیرت مشتبہ ہے یا بصارت۔

لے دے کر ایک بزدار صاحب ہیں، جن کا بوجھ تنہا خان صاحب کے کندھوں پر ہے۔ یہ بوجھ اگرچہ کم نہیں لیکن اس کی ذمہ داری میں بھی وہ لوگ بالواسطہ شریک ہیں جنہوں نے خان صاحب کو حکومت سونپی اور فرض کیا کہ ان کی بصیرت قابلِ بھروسہ ہے۔ ظاہر ہے کچھ کام تو انہوں نے اپنی مرضی سے کرنا تھے۔
اب آئیے دوسرے سوال کی طرف۔ اگر مائنس ون فارمولہ استعمال ہوتا ہے تو اس کا طریقہ کیا ہوگا؟ یہی کہ قومی اسمبلی ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئے یا ان سے اعتماد کے نئے ووٹ کا مطالبہ کیا جائے۔ یوں تحریک انصاف کے بعض لوگوں کی تائید سے، خان صاحب اس منصب سے محروم ہو جائیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سب کو ان کے خلاف مجتمع کون کرے گا؟ کیا وہی جنہوں نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنایا تھا؟ اگر اب بھی وہی کچھ ہونا ہے تو پھر مائنس ون سے کون سی تبدیلی آجائے گی؟
وہ اہلِ سیاست بہت کوتاہ نظر ہوں گے جو اس عمل کا حصہ بنیں گے۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ بالکل واضح ہے۔ ہم نے امامت سازی کا ٹیکسال تبدیل کرنا ہے جہاں کھوٹے سکے ڈھلتے ہیں۔ جمہوریت میں یہ صرف عوام کا ٹیکسال ہے جہاں سکہ رائج الوقت ڈھل سکتا ہے۔ اس ٹیکسال میں اگر کوئی کم قیمت نکل آئے تو بھی چل جاتا ہے کہ یہ استحقاق اسی کا ہے کہ وہ لیڈر بنائے۔ ہمارے ہاں نوٹ اور سکے صرف سٹیٹ بینک ہی چھاپ اور ڈھال سکتا ہے۔ افراطِ زر کے دنوں میں ان سکوں کی قدر کم ہو جاتی ہے لیکن انہیں کھوٹا کوئی نہیں کہتا کہ سکے بنانے کا قانونی اور اخلاقی استحقاق بینک دولت پاکستان ہی کو حاصل ہے۔

اہلِ سیاست کی حبِ عاجلہ نے پہلے بھی ان لوگوں کو تقویت پہنچائی ہے جو کھوٹے سکے چلاتے رہے ہیں۔ اس سلسلے کو اب رک جانا چاہیے۔ سیاسی جماعتیں اس پر اتفاق کر لیں کہ تبدیلی کی صرف ایک صورت گوارا ہے اور وہ عوام کا ووٹ ہے۔ جب تک عوام کو یہ حق نہیں ملتا، مائنس ون یا ٹو جیسے فارمولے صرف لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ عمران خان صاحب کے کاموں میں وہ سب شریک ہیں جو برسوں سے ان کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ سزا کے وقت عمران خان کو تنہا کر دیا جائے۔
اہلِ سیاست کے پاس صرف دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عوامی سطح پر نئے اور آزادانہ انتخابات کے لیے یک سوئی پیدا کریں۔ اگر وہ یہ نہیں کر سکتے تو 2023ء کا انتظار کریں جب عام انتخابات ہونے ہیں۔ اس دوران میں ملک اور عوام کے ساتھ جو ہوگا، اس کو سب مل کر صبر شکر کے ساتھ برداشت کریں۔ آخر کورونا کو بھی برداشت کر رہے ہیں۔

وقت گزارنے کے لیے خواجہ آصف پتے کھیلیں اور احسن اقبال دعائیہ محافل برپا کریں۔ شہبازشریف چاہیں تو قرنطینہ میں نورانی محافل کا انعقاد کر سکتے ہیں کہ بلائیں ٹالنے کے لیے ان کے خاندان میں یہی طریقہ رائج ہے۔
یہ تجزیہ اس مفروضے کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے کہ عمران خان کا متبادل تلاش کیا جا رہا ہے۔ میری اپنی رائے اس سے مختلف ہے۔ صاحبانِ اختیار جانتے ہیں کہ عمران خان کو تنہا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو بہرحال دو سالہ کارکردگی کی ذمہ داری قبول کرنی ہے۔ جیسے ہی خان صاحب فارغ ہوں گے یہ بات گلی بازار کا موضوع بن جائے گی۔ اس کو کیا پڑی کہ سامنے کھڑی ایک دیوار ہٹا دے جبکہ اس کو ہٹانے کے لیے اس پر کوئی دباؤ بھی نہیں۔ قرنطینہ میں بیٹھنے والی اپوزیشن میں دباؤ ڈالنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ رہا عوام کا اضطراب تو وہ اسی وقت بامعنی ہو سکتا ہے جب اس کو زبان دینے والے اپوزیشن موجود ہو۔
لہٰذا اس حکومت اور اپوزیشن کی موجودگی میں قوم مائنس ون نہیں، مائنس بائیس کروڑ کا سوچے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com