آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا - محمد اویس حیدر

اپنی شہری زندگی کو تیاگ کر ایک درویش نے آبادی سے کوسوں دور ایک جنگل کی راہ لی اور پھر اسی کو اپنا مسکن بناتے ہوئے اپنی باقی زندگی کو فقط ذکرِ خدا کی نذر کردیا۔ کچھ دن گزرے تھے کہ ایک روز ایک گوشت خور جنگلی آدمی اس انسان کی بُو سونگھتا ادھر کو آ نکلا اور اپنے شکار پر گھات لگائے دور سے اُسے دیکھنے لگا۔ ذکر خداوندی میں مشغول وہ درویش انسان پیکرِ نورانی محسوس ہوتا تھا اور اسی نور نے اس جنگلی کی آنکھوں بھی چندیا دیا۔ وہ بہت دیر تک اس درویش کو دور سے تکتا رہا اور آخرکار سر جھکائے چوپایوں کی مانند چلتا قریب آیا اور اس کے پیروں کو چاٹنے لگا۔ کیونکہ جنگلی تہذیب میں مودب ہونے کا اسے یہی ایک طریقہ آتا تھا۔ بزرگ نے اس کی پیٹھ پر اپنا دستِ شفقت پھیرا اور اسے اپنے پاس بیٹھا لیا۔

پھر کئی ماہ گزر گئے مگر وہ جنگلی اس درویش کے پاس سے اور کہیں نہ گیا۔ اس طرح اُس جنگلی آدمی میں پنہاں شعور اب آگہی کی غذا ملنے کے بعد آہستہ آہستہ اسے ایک جنگلی سے انسان میں تبدیل کرنے لگا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے شیخ سے کسی حد تک انسانوں کی زبان بھی سیکھ لی اور جان لیا کہ وہ دو ٹانگوں والا جانور نہیں بلکہ ایک انسان ہے جس میں اچھے برے کی تمیز بھی ودیعت کی گئی ہے اور اسی تمیز نے ہی اسے پہلی بار ایک انسان کے آگے مودب ہونے پر مجبور کیا تھا۔

کچھ برسوں بعد اب جب وہ نومولود انسان درویش کی مسلسل صحبت میں رہ کر ایمانیات و اخلاقیات کا درس بھی کافی حد تک سمجھ چکا تھا تو درویش نے اسے حکم دیا کہ وہ اب اپنی باقی زندگی اس جنگل کو چھوڑ کر انسانوں کی تہذیب و تمدن میں گزارے تاکہ ناصرف وہ شعوری طور پر ایک مکمل انسان بنے بلکہ جو کچھ اس نے سیکھا اور سمجھا ہے اسے عمل میں بھی لا سکے۔

پھر جب ایک روز اس نے جنگل کو چھوڑ کر آبادی کی سمت سفر شروع کیا تو اس کے ذہن میں انسانوں کی عظمت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ایک انسان نے کس طرح اسے ایک جنگلی سے اپنی مانند انسان بنادیا۔ اور اب انسانی آبادی کی جگہ، جو اس کے لیے ایک اَن دیکھی دنیا تھی، جہاں پر انسانوں کی بہتات ہو گی وہ یقیناً عظمت کی کس قدر اعلیٰ مثال پر قائم ہو گی۔

جنگل سے نکلتے وقت اس کے بدن پر کئی جگہوں سے پھٹی ہوئی فقط ایک میلی چادر تھی جسے اس نے کمر کے گرد لپیٹ رکھا تھا۔ سر کے بال اور داڑھی بے ترتیب بڑھے ہوئے تھے یعنی بظاہر وضع قطع اب بھی جنگلی آدمیوں کی مانند ہی تھی لیکن شعور انسانی صورت میں تبدیل ہو چکا تھا۔

ایک طویل سفر کے بعد جنگل سے باہر انسانوں کی بستی میں پہنچ کر اسے الگ الگ صورتوں پر مشتمل مگر ایک جیسے کئی انسان دکھائی دیے۔ جن کا بدن مکمل طور پر لباس سے ڈھکا ہوا تھا جبکہ بالوں میں بھی ایک ترتیب موجود تھی۔ اسے ان کے چہرے بالکل صاف اور شفاف دکھائی دے رہے تھے جنہیں وہ حیرانی سے دیکھ رہا تھا اور اپنی سوچ کے عین مطابق ان میں انسانی تہذیب کے اعلیٰ معیار کو محسوس کر رہا تھا۔

مگر ان لوگوں میں سے کچھ اس نومولود انسان کے اجنبی اور غیر مانوس چہرے کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھانے لگے جبکہ کچھ بے اختیار ہنسنے لگے۔ اس نئے انسانی رویے کو دیکھ کر پہلے وہ کچھ پریشان سا ہوا لیکن پھر ان سب کو دیکھ کر خود بھی مسکرانے لگا۔ کیونکہ وہ سب کے سب اس کے لیے قابلِ احترام تھے جنہیں شاید وہ مسکراہٹ کا تحفہ دے رہا تھا۔ پھر ایک شریر نوجوان اس کے پیلے پیلے دانتوں کو دیکھتا ہوا تمسخر کی غرض سے آگے بڑھا اور پوچھنے لگا:

”یہاں کے تو نہیں ہو، کہیں دور سے آئے لگتے ہو۔۔۔ اپنے حُلیے سے جنگلیوں جیسے تو دِکھ ہی رہے ہو ، یقیناً نشئی بھی ہوگے۔ تو بولو پھر۔۔۔ خون پیش کروں یا انسانی گوشت کھاؤگے ؟“

نوجوان کی بات سن کر باقی کھڑے سب ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنسنے لگے، جبکہ وہ نومولود انسان ابھی تک بھی اس رویے کو سمجھ نہیں پا رہا تھا سب کی اس طنزیہ ہنسی کو دیکھ کر اسے جنگل کے درختوں کی شاخوں پر بیٹھے بندر یاد آنے لگے جو نیچے سے گزرتے کسی جانور کے سر پر پھل توڑ کر دے مارتے اور پھر آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے اسی طرح کھیں کھیں کرتے ہنسنے لگتے۔

”میں بھلا خون اور انسانی گوشت کیوں کھاؤں گا؟ میں اب جنگلی تو نہیں رہا۔۔۔ بلکہ میں تو انسان بن چکا ہوں۔“

یہ جواب سن کر وہاں کھڑے سب کے پھر قہقہے بلند ہوگئے اور اس شریر نوجوان نے دوبارہ اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا:

”ابے او جہاز۔۔۔ اگر انسان تیرے جیسے ہوتے ہیں نا۔۔۔ تو پھر ہم سب کو تُو جنگلی ہی سمجھ لے۔۔۔ چل دوڑ اب یہاں سے۔“

یہ کہتے ہوئے اس نوجوان نے پاؤں سے جوتا اتارا اور اس کی طرف پھینکا جو اس نومولود انسان کے منہ پر جالگا اور وہ حیران و پریشان نگاہوں سے ان سب کو تکتے ہوئے وہاں سے بھاگنے لگا۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے جنگل میں وحشی جانوروں کو اپنے تعاقب میں پا کر بھی وہ بھاگا کرتا تھا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com