’’میں جرنلسٹ ہو ہی گیا‘‘ ارشاد احمد عارف

’’اسی سال( 21ء میں) روس میں ایسا زبردست قحط پڑا جس کی مثال ملنا مشکل ہے‘ بھوک نے لاکھوں آدمیوں کو اپنے پنجہ میں جکڑ لیا تھا اور لاکھوں فاقہ سے مر چکے تھے۔ یورپ کے اخبارات بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ اس ہولناک تباہ ہی کے حالات شائع کر رہے تھے۔ روس کو غیر ملکی امداد دینے کے کئی غیر ملکی منصوبے بھی بنائے جا رہے تھے‘ ایک منصوبہ کا محرک ہومر تھا۔ میکسم گورکی روس میں ایک بڑی تحریک چلا رہا تھا اور اس کے موثر بیانات پوری دنیا کو ہلا دے رہے تھے۔ اسی زمانہ میں یہ افواہیں اڑ رہی تھیں کہ اس کی بیوی رائے عامہ کو زیادہ سے زیادہ عملی امداد پر آمادہ کرنے کے لیے عنقریب مغربی اور وسطی یورپ کے دورہ پر آنے والی ہے۔ چونکہ میں محض ایک ٹیلیفونسٹ تھا‘ اس لیے بلاواسطہ طریقہ پر میں اس اندوہ گیں واقعہ میں حصہ نہ لے سکا لیکن ایک چلتے ہوئے جملہ نے مجھے اٹھا کر زبردستی اس منجدھار میں پھینک دیا جو میرے ایک ملاقاتی نے سر راہ مجھ سے رواداری میں کہہ دیا۔ میرا دوست (Hotel Splaned) میں رات کا چوکیدار تھا‘ یہ ہوٹل برلن کے بڑے ہوٹلوں میں شمار ہوتا تھا‘ اس نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ ’’یہ مادام گورکی بہت دلچسپ اور لطیف عورت ہے‘ اس سے مل کر کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا کہ یہ بالشویک ہے۔‘‘ مادام گورکی؟ تم نے اسے کہاں دیکھا! میرے دوست نے یکایک اپنی آواز پست کردی اور سرگوشی کے انداز میں کہنے لگا کل ہی شام کو تو وہ ہمارے ہوٹل میں آئی ہے اور نام بدل کر وہاں مقیم ہے‘ صرف منیجر اس بات کو جانتا ہے‘ وہ چاہتی ہے کہ اخبار کے رپورٹر اس کو پریشان نہ کریں‘ تم کو یہ سب باتیں معلوم کیسے ہوئیں؟ میں نے پوچھا۔ ہم لوگ ہوٹل میں جو کچھ بھی ہوتا ہے سب جانتے ہیں‘ اس نے ہنستے ہوئے مجھ سے کہا‘ اگر ہم یہ نہ کریں تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری ملازمت زیادہ دنوں تک باقی رہ سکتی ہے۔ اگر میں اس سے ملاقات میں کامیاب ہو جائوں تو کتنی ہنگامہ خیز کہانی تیار ہو سکتی ہے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا‘ خصوصاً اس پوزیشن میں جبکہ پورے برلن میں اس کی موجودگی کے متعلق ایک لفظ بھی ابھی تک پریس میں نہیں آ سکا‘ یہ خیال آتے ہی میں مجسم اشتیاق بن چکا تھا۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ کیا کسی ترکیب سے تم اس سے میری ملاقات کروا سکتے ہو؟ ہاں مگر میں کچھ کہہ نہیں سکتا‘ بظاہر وہ اس پر مصر نظر آتی ہے کہ وہ کسی سے ملاقات نہیں کرے گی‘ البتہ اتنا کرسکتا ہوں کہ جب وہ حسب معمول شام کے وقت لابی میں آ کر بیٹھے تو تم کو مطلع کردوں گا۔

یہ سودا بہت اچھا تھا‘ میں عجلت کے ساتھ اپنے دفتر یونائیٹڈ ٹیلیگراف میں واپس آیا‘ تقریباً پورا عملہ اس وقت گھر جا چکا تھا لیکن میری خوش قسمتی کہ نیوز ایڈیٹر ابھی تک دفتر میں موجود تھا‘ میں نے اس کا گریبان پکڑ کے ہلاتے ہوئے کہا! اگر میں تم سے ایک ہنگامہ خیز کہانی کا وعدہ کروں تو کیا تم مجھے اپنا پریس کارڈ دے سکتے ہو؟ اور کس قسم کی کہانی ہوگی وہ؟ اس نے اس انداز میں پوچھا جیسے اس بات پر اس کو شبہ ہو۔ تم مجھے اپنا کارڈ دو گے اور میں تمہیں کہانی دوں گا‘ اگر میں وعدہ پورا نہ کروں تو اپنا کارڈ واپس لے لینا۔ آخر کار بوڑھے اور تجربہ کار نیوز ایڈیٹر نے اپنی رضامندی ظاہر کردی اور میں بہت فخر اور مسرت کے ساتھ اس کارڈ کو اپنے قبضہ میں لیے ہوئے (میں یونائیٹڈ ٹیلیگراف کا نمائندہ بن گیا تھا) دفتر سے باہر آگیا۔ اس کے بعد کچھ گھنٹے مجھے (Splaned) کی لابی میں گزارنے پڑے۔ 9 بجے میرا دوست اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے آیا اور کنکھیوں سے دروازہ کی طرف اشارہ کیا‘ پھر استقبالیہ ہال کے پیچھے غائب ہوگیا‘ پھر فوراً ہی واپس آ کر مجھے بتایا کہ مادام گورکی نکل چکی ہیں اور اگر میں دیر تک یہاں بیٹھوں تو اس کو دیکھنے میں کامیاب ہوسکتا ہوں۔ گیارہ بجے کے قریب پھر میں نے اپنے دوست کا اشارہ پایا‘ جو مجھے ایک عورت کی طرف متوجہ کررہا تھا جو عین اسی وقت دروازے سے نکل رہی تھی‘ وہ ایک مختصر سی عورت تھی‘ عمر اندازاً 45 سال کی رہی ہوگی اور اس وقت سیاہ پوشاک میں ملبوس تھی جس کو بہت اچھے طریقہ پر زیب تن کیا گیا تھا‘ اس کے شانوں پر ایک ریشمی کپڑا پڑا ہوا تھا جو پیچھے زمین پر لوٹ رہا تھا‘ اپنی ظاہری زیبائش میں وہ خالص استقراطی قسم کی عورت معلوم ہوتی تھی‘ اتنی زیادہ استقراطی کہ میرے لیے یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ وہ ’’محنت کش انسان کے شاعر‘‘ کی بیوی ہے نہ وہ سوویت یونین ہی کی باشندہ معلوم ہورہی تھی‘ میں اس کے سامنے آ گیا اور قدرے جھکے ہوئے انتہائی نرم اور مہذب لہجہ میں اس کو مخاطب کیا! مادام گورکی… ایک لمحہ کے لیے وہ مبہوت سی ہوگئی‘ لیکن پھر ایک دلفریب مسکراہٹ نے اس کی حسین سیاہ آنکھوں میں چمک پیدا کردی‘ اس نے جرمن زبان میں جس میں (Slav) زبان کا اثر شامل تھا مجھے جواب دیا‘ میں مادام گورکی نہیں ہوں‘ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے‘ میرا نام یہ ہے (پھر اس نے ایک روسی طرز کا نام لیا جو اب مجھے یاد نہیں) میں اپنی بات پر مصر رہا‘ نہیں مادام گورکی‘ میں جانتا ہوں کہ مجھے غلط فہمی نہیں ہوئی ہے اور یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ آپ اخبار نویسوں سے بچنا چاہتی ہیں لیکن آپ کے چند منٹ میرے اعتبار سے بہت قیمتی ہیں۔

دنیائے صحافت میں مجھے اپنی جگہ بنانے کے لیے یہ پہلا موقع مل رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ یہ پسند نہ کریں گی کہ یہ موقع رائیگاں جائے‘ میں نے کارڈ اس کے سامنے بڑھا دیا اور گفتگو جاری رکھی‘ میں نے اسے آج ہی حاصل کیا ہے اور اگر مادام گورکی کے چند منٹ لینے میں ناکام ہو جاتا ہوں تو یہ مجھے آج ہی واپس کرنا ہوگا۔‘‘ وہ مسکراتی رہی اور کہنے لگی! اگر میں اپنی عزت کی قسم کھا کر کہوں میں مادام گورکی نہیں ہوں تو آپ یقین کرلیں گے؟ اگر آپ کسی چیز کے لیے بھی اپنی عزت کی قسم کھائیں گی تو میں اسے مان لوں گا‘ میں نے کہا۔ وہ ایک دم سے ہنس پڑی‘ پھر بولی‘ آپ بالکل ایک چھوٹا سا بچہ معلوم ہوتے ہیں‘ اب میں زیادہ آپ سے جھوٹ نہ بولوں گی‘ آپ ہی جیتے‘اس نے میرے ساتھ وہاں ایک گھنٹہ صرف کیا۔ وہ قحط کے ہولناک واقعات اور روح فرسا مناظر بڑی گرم جوشی اور تفصیل سے بیان کرتی رہی۔ نصف شب کے بعد جب میں نے اس کو رخصت کیا تو میری جیب میں کاغذات کا ایک چھوٹا سا پلندہ موجود تھا۔ رات کے ڈیوٹی والے سب ایڈیٹروں نے اتنی دیر رات میں میری خلاف معمول آمد کو حیرت کے ساتھ نوٹ کیا لیکن میں ان کو کی داستان بنانے کی زحمت مول لینا نہیں چاہتا تھا‘ اس لیے کہ یہ کام مجھے بہت فوری طور پر انجام دینا تھا‘ اپنے آفس میں بیٹھ کر ہر ممکن عجلت کے ساتھ میں نے اس کو مرتب کرنا شروع کیا اور ایڈیٹر کی منظوری لیے بغیر ارجنٹ طریقہ پر میں نے یہ ساری رپورٹ صوبے کے تمام اخبارات کو بھجوا دی۔ دوسرے روز صبح یہ خبر کسی طرح بم سے کم نہ تھی‘ اس وقت جبکہ برلن کے بڑے بڑے اخبارات میں مادام گورکی کی آمد کے متعلق ایک اشارہ بھی نہ تھا‘ صوبے کے وہ تمام اخبارات جو ہماری ایجنسی سے خبریں حاصل کرتے تھے‘ اپنے پہلے صفحہ پر مادام گورکی سے یونائیٹڈ ٹیلیگراف کے نمائندہ کا انٹرویو شائع کر رہے تھے۔ ایک ٹیلیفونسٹ نے اول درجہ کی زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ اسی روز سہ پہر کو ڈاکٹر ڈامرٹ کے آفس میں سب ایڈیٹروں کا جلسہ ہوا اور مجھے اس میں مدعو کیا گیا۔ پہلے مکالمہ کے بعد جس میں ایڈیٹر کی منظوری کے بغیر کسی اہم اخباری بیان کو براہ راست بھیجنے کی ممانعت کی گئی تھی‘ مجھے بتایا گیا کہ میں رپورٹر کے عہدہ پر پہنچا دیا گیا ہوںاور اس طرح آخر کار جرنلسٹ میں ہو ہی گیا‘‘! (علامہ محمد اسد کی خودنوشت سوانح سے)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com