بھٹو کی ”جمہوریت“ سے ضیاء کی”آمریت“ تک کا سفر - محمد وقاص ڈوگر

سانحات اچانک رونما نہیں ہوا کرتے۔ برسوں واقعات کی ایسی لڑی بنتی رہتی ہے کہ جن کے نتائج سانحات کی صورت ہمارے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ سانحات کا رونما ہونا ہرگز اچھنبے کی بات نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم بطور سماج سانحات سے سبق حاصل نہیں کرتے، بلکہ ایسے ”کارنامے“ شدو مد سے ”سر انجام“ دیتے رہتے ہیں جن کے نتائج بَد دیر پا اور اثرات جس کے دہائیوں پہ پھیلے ہوتے ہیں۔

ہند کے عبد الرحیم اجمیری، تقسیم  کے ہنگام جو پاکستان ہجرت کر آئے تھے، نے کیا خوب کہا تھا کہ:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

ستر کی دہائی میں اپنوں کی کرسی اقتدار واسطے کھینچا تانی اور غیروں کی مداخلت کے سبب پاکستان دو حصوں میں بٹ گیا۔ مشرقی حصہ بنگلہ دیش بنا اور مغربی حصہ پاکستان کہلایا۔ بچے کچھے پاکستان پر جنرل گل حسن کی معاونت سے ذوالفقار علی بھٹو پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ بعد ازاں صدر اور پھر تہتر کے آئین کے تحت وزیر اعظم کے منصب پر براجمان ہوئے۔ اپنی بے پناہ شخصی خوبیوں اورمدِ مقابل قومی سطح کے لیڈر کے نہ ہونے کے سبب پہلے پہل تو بھٹو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ بچ جانے والے پاکستان کو وہی بہتر طریقے سے چلاسکتے ہیں۔ اس تاثر کو اقتدار کے ابتدائی دنوں میں بعض اقدامات کی بدولت درست بھی ثابت کیا۔ بھارت کی قید سے پاکستانی فوجیوں کی واپسی، تہتر کے آئین کی متفقہ تشکیل، قادیانیت کے باب میں آئینی ترمیم، دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا لاہور میں انعقاد اور ایٹمی طاقت بن دکھانے واسطے ”گھاس کھالیں گے لیکن ایٹمی طاقت ضرور بنیں  گے“ ایسے اقدامات تھے جنہوں نے بھٹو کے مجموعی تاثر کو نہ صرف روشن کیا بلکہ انہیں عوام میں ہر دلعزیز اور نا قابل تسخیر بھی بنا ڈالا۔

جوں جوں اقتدار کے دن بڑھتے گئے توں توں بھٹو کے تیور بھی بگڑتے گئے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں سے بھٹو کا رویہ نہ صرف جارحانہ ہوتا گیا بلکہ آمرانہ مزاج بھی ان کی شخصیت پہ حاوی ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ بھٹو سرکار جمہوری رویوں سے ہٹتے ہوئے آمرانہ طرز حکومت میں ڈھلنے لگی۔ مخالف سیاسی شخصیات پہ بھرے مجمع میں ذو معنی جملے اچھالنے اور بے ہودہ القابات کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع کردیا۔ مخالفین کو دبانے واسطے عدلیہ کے متوازی اسپیشل ٹربیونلز قائم کیے گئے۔ بےہودہ، بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات کے شکنجے میں سیاسی مخالفین  کو کسا جانے لگا۔ اخبارات پر بدنام زمانہ  ”پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس 1962“ نامی تلوار لٹکائے رکھی۔

بھٹو سرکار کے آمرانہ مزاج کے ڈنگ کی ڈسی اپوزیشن جماعتوں نے ملک بھر میں جلسے اور مظاہرے شروع کر دیے۔اپوزیشن کے بڑھتے مظاہروں کو دیکھ کر بھٹو نے خفیہ اداروں سے اپنی حکومت اور شخصیت بابت خفیہ سروے کرائے۔ آیندہ ہونے والے الیکشن سے متعلق رپورٹس مرتب کرائیں۔ سروے اور رپورٹس میں بھٹو کی ایک مرتبہ پھر جیت کو یقینی دکھایا گیا۔ اپنی شخصی وجاہت، سروے رپورٹس اور عوام میں مقبولیت کا ایسا خبط سوار ہوا کہ بھٹو نے قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کیا۔ تہتر کے آئین میں نگران سیٹ اپ کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔ تبھی بھٹو نے بطور نگران وزیر اعظم اپنی زیر نگرانی جنوری سنہ ستتر میں قبل از وقت الیکشن کا اعلان کر دیا۔
غیر متوقع الیکشن کے اعلان پر اپوزیشن کی مختلف الخیال نو جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں۔ مذہبی و سیکولر تشخص کی حامل جماعتوں نے بھٹو سے مقابلے کے واسطے مل کر الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ نو جماعتی اکٹھ کو پاکستان قومی اتحاد (PNA) کا نام دیا گیا۔ ”اسلامی قوانین کے نفاذ“ کا عَلم تھام کر قومی اتحاد الیکشن کے میدان میں اترا۔ مفتی محمود جس کے سربراہ، نوابزادہ نصر اللہ نائب صدر اور رفیق احمد باجوہ سیکرٹری جنرل چنے گئے۔ قومی اتحاد نے ”ہل“ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ”تلوار“ کے انتخابی نشان پر الیکشن کمپین زور و شور سے چلائی۔ قریب دو ماہ ہر دو طرف سے ہنگامہ خیز الیکشن مہم چلی۔ حیرت کی انتہا نہ رہی جب الیکشن کے انعقاد سے قبل ہی بھٹو اپنے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور مزید چودہ ممبران کے ساتھ بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔ اپوزیشن نے جس پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیا بلکہ الزام عائد کیا کہ مخالف امیدواروں کو اغوا کرکے غائب کروادیا گیا تاکہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی جمع ہی نہ کراسکیں۔ نگران سیٹ اپ کی جانب سے اپوزیشن کے الزامات کو پرِکاہ برابر بھی اہمیت نہ دی گئی۔

سات مارچ کو دن بھرقومی اسمبلی کی نشستوں واسطے ووٹ ڈالے جاتے رہے۔ رات ڈھلے نتائج بنتے رہے۔ آٹھ مارچ کا سورج بھٹو کی پیپلز پارٹی کی واضح جیت کا پیام لے کر طلوع ہوا۔ قومی اتحاد نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ نتائج سنتے ہی قومی اتحاد نے نہ صرف دس مارچ کو صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے الیکشن کا  بائیکاٹ کردیا بلکہ انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا بھی اعلان کردیا۔ یاد رہے کہ سنہ ستتر کے الیکشن تک قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے انتخابات علیحدہ علیحدہ منعقد ہوا کرتے تھے، جنہیں بعد ازاں ایک ہی دن منعقد کرایا جانے لگا ۔

الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگاکر قومی اتحاد کی نو جماعتوں کی جانب سے ”بھٹو ہٹاؤ“ تحریک کا آغاز ہوا۔ ریلیوں، جلسوں اور مظاہروں میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ مظاہروں میں شدت تب آئی جب ”بھٹو ہٹاؤ“ تحریک ”نظام مصطفیٰ“ کے نعرے میں بدلی اور ایسی بدلی کہ لوگ مرنے مارنے پر تُل گئے۔ آئے روز ہونے والے احتجاجی جلسوں کے جنونی شرکا کی سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہونے لگیں۔ فسادات کے ہنگام سیکڑوں لوگ مارے گئے۔ حالات کی سنگینی کے پیش نظر کئی چھوٹے بڑے شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔کرفیو کی خلاف ورزی پر گولی مارنے کا حکم جاری کیا گیا۔ بے قابو ہوتے حالات کو سنبھالنے کے لیے بیس اپریل کو لاہور، حیدر آباد اور کراچی میں سول مارشل لا نافذ کردیا گیا۔ قومی محاذ تو رہا ایک طرف  پیپلز پارٹی سے ہی بھٹو کے طرز عمل اور انتخابی عمل پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے۔تشدد کے بڑھتے واقعات کو دیکھ کر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے کئی منتخب ممبران مستعفی ہونے لگے۔ بڑھتے ہوئے فسادات کے پیش نظر فوج نے بھی دبے لفظوں تشویش کا اظہار کیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں سول مارشل لا چیلنج ہوا۔کورٹ نے سول مارشل لا کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ بالآخر جون کے شروع میں مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔ اپنے قریبی رفقا عبد الحفیظ پیرزادہ اور عبدالستار نیازی کے ہمراہ ذوالفقار علی بھٹو مذاکرات کی میز پر بیٹھے جبکہ قومی محاذ کی جانب سے مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ اور پروفیسر غفور نے نمایندگی کی۔ بات چیت کا آغاز ہوا۔دونوں جانب سے مطالبات پیش کیے گئے۔ مذاکرات کے کئی دور منعقد ہوئے۔ مذاکرات کے نتائج کا حتمی مسودہ تیاری کے مراحل میں تھا کہ پہلے بھٹو آرام کا کہہ کر لاڑکانہ جاپہنچے اور پھر وہیں سے ایران کے دورے پر چلے گئے۔ واپس لوٹے تو پھر سے مذاکرات کی میز سجائی۔ مگر تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔ چار جولائی کی شب بھٹو کا من پسند جنرل جمہوری حکومت کا تختہ پلٹ دینے کا تہیہ کرچکا تھا۔ یہ وہی جنرل صاحب تھے جن کی حد سے بڑھی خوشامد سے بھٹو ایسا شاطراور ذہین آدمی بھی ٹھوکر کھا گیا۔ دلچسپ پہلو یہ کہ سنیارٹی کے لحاظ سے ساتویں درجے سے اٹھاکر جس فرد کو آرمی چیف لگایا گیا، اسی نے کچھ عرصے بعد محسن کشی کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے بھٹو سرکار کا نہ صرف تختہ الٹ دیا بلکہ اسے تختہ دار تک بھی کھینچ لے گیا۔

واقعات کی لڑی نے جس سانحہ عظیم کو جنم دیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پانچ جولائی کی صبح چھ بج کر چار منٹ پر وطن عزیز پاکستان میں تیسرا مارشل لا مسلط کر نے کا اعلان ہوا اور پھر گیارہ برس تک ضیاء الحق کی آمریت اپنے تمام تر جاہ و جلال کے ساتھ نافذ رہی۔ نامور انقلابی و عوامی شاعر حبیب جالب نے جس کے متعلق کہا تھا کہ


ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگس کو ہُما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں ، دم گُھٹتا ہے گنبدِ بے دَر میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رُسوا ہے وطن دنیا بھر میں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */