سید منور حسن کی زندگی کے چند روشن پہلو - جاوید احمد غامدی

معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی نے سید منور حسن کے انتقال کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گفتگو سوالات اور جوابات کی صورت رہی۔ محمد حسن الیاس نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ قارئین دلیل تک ان کی یہ گفتگو پہنچانے کے لیے ہم اسے حسن الیاس کے شکریے اور اجازت کے ساتھ ٹرانسکرائب کرکے پیش کررہے ہیں۔

محمد حسن الیاس نے تمہید باندھتے ہوئے سوال کیا:
افسوسناک خبر آپ کے علم میں آئی ہوگی۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر جناب سید منور حسن بھی دنیا سے رُخصت ہوئے۔ آپ کا بھی عہدِ شباب اور شعوری عمر کا آغاز جماعت اسلامی کے انہی لوگوں کے ساتھ گزرا ہے۔ سید منور حسن کی شخصیت کے حوالے سے آپ کے کیا تاثرات اور ان کی وفات پر کیا جذبات ہیں؟

جاوید احمد غامدی نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا:
بہت یادیں ان سے وابستہ ہیں۔ میں جس زمانے میں اسکول کا طالب علم تھا، وہاں میرے اساتذہ میں ایک بزرگ تھے، نصیر الدین ہمایوں صاحب، اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے، بڑے غیرمعمولی لوگوں میں سے تھے۔ میں اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد اور علامہ اقبال سے تو متعارف تھا، اور بہت سی چیزیں اسکول کے زمانے میں پڑھ چکا تھا۔ لیکن مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی سے میرا تعارف انہی کی وساطت سے ہوا۔ انہوں نے بعض چیزیں پڑھنے کے لیے دیں۔ متوجہ کیا۔ بعض چیزوں سے تعارف کرایا۔

جب مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی تحریروں سے مناسبت پیدا ہوئی اور میں اپنے مذہبی پس منظر کے لحاظ سے چونکہ قدیم چیزیں پڑھے ہوئے تھا۔ عربی، فارسی زبان، ہمارے ہاں درسِ نظامی کا کچھ نصاب۔۔۔ تو کچھ وقت لگایا تاکہ میں ان کی فکر کو، حقیقی طریقے سے سمجھ سکوں۔ جب کچھ مناسبت پیدا ہوئی، تو میرے استاذ نصیر الدین ہمایوں صاحب نے مجھ سے کہا کہ اب ایک اجتماع ہورہا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ لاہور چلو۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں شاید نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اپنے استاذ کے ایما سے میں راضی ہوگیا۔ میرے ساتھ میرے بعض دیگر دوست بھی تھے۔ ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اس اجتماع میں جائیں گے۔

ابھی زیادہ تعارف نہیں تھا، اجتماعات کا، جماعت اسلامی کی تنظیم کا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی بھی چند چیزیں ابھی پڑھی تھیں اور کچھ ابتدائی سا تعارف ہی تھا۔ یہ اجتماع داؤد گارڈن، داروغہ والا لاہور میں ہوا۔ ہم لوگ وہاں آئے۔ یہ وہ اجتماع ہے جس میں پہلی مرتبہ میں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کو دیکھا۔ پروفیسر خورشید صاحب کو دیکھا اور سنا۔ اسی اجتماع میں سید منور حسن صاحب سے تعارف ہوا۔ مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے اگر حافظہ غلطی نہیں کررہا تو وہ اس وقت دوسری بار اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ جب ان کا انتخاب کیا گیا تو اس وقت جو فضا پیدا ہوئی، جس طریقے سے انہوں نے ذمہ داری اُٹھائی، اس کا آج تک طبیعت پر اثر ہے۔ پھر توجہ ہوئی کہ ان کی کچھ چیزیں دیکھی جائیں۔ اس وقت مخلوط تعلیم کے بارے میں، اسی طرح یونیورسٹی کے اندر جو اصلاحات ان لوگوں کے پیش نظر رہیں، ان کے بارے میں، ان کی بعض تحریریں بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ زیادہ تر تحریریں انگریزی زبان میں تھیں۔ جو اس زمانے میں وہ لکھتے تھے۔

خیر! ایک تعارف کی ابتدا ہوگئی، بعد میں جماعت اسلامی کے زیادہ قریب ہوا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی سے بھی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ منور حسن صاحب چونکہ کراچی میں تھے تو ان کے ساتھ زیادہ ملاقات کا موقع تو نہیں ملا، لیکن جب کبھی آتے تو ان کے ساتھ گپ شپ ہوجاتی۔ میں جب جماعت اسلامی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ ہوگیا اور میں نے رُکنیت کی درخواست دی۔۔۔ اس کی اپنی ایک داستان ہے۔ کیا ہوا کیا نہیں ہوا؟۔۔۔ لیکن اس رکنیت کی منظوری کی اطلاع دینے کے لیے میرے گھر منور حسن صاحب ہی تشریف لائے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ بھئی اب ہم نے تمہیں اپنی برادری میں شامل کرلیا ہے۔

وہ ایک موقع تھا جس میں وہ میرے پاس کچھ دیر رہے بھی، بات چیت ہوتی رہی۔ پھر جب کراچی جانا ہوتا، وہاں ملاقات ہوجاتی تھی۔ ایک لمبے عرصے تک ادارہ معارف اسلامی کے سیکرٹری رہے، وہاں ایک مرتبہ ان کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی۔ پھر لاہور آگئے، جماعت اسلامی کے قیم (سیکرٹری جنرل) ہوگئے۔ بعد میں جماعت اسلامی کے امیر بھی ہوئے۔ اس زمانے میں بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

آخری ملاقات میں میرے ہاں ”المورد“ میں تشریف لائے۔ اس ملاقات میں مجھے خیال ہوا کہ غالباً اب کچھ صوفیانہ مزاج کا زیادہ غلبہ ہوگیا ہے۔ وہ تصوف کے بارے میں بات کرتے رہے۔ ایک صوفی بزرگ سے متعلق اپنے تجربات اس ملاقات میں بیان کیے۔ مجھ سے بھی پوچھتے رہے کہ ان سب چیزوں کی کیا حقیقت ہے؟ تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے؟

ایک بڑا محبت کا تعلق ان کے ساتھ رہا۔ ظاہر ہے ان کی فکر سے، ان کے کام سے، ان کے طریقے سے دس اختلافات ہوسکتے ہیں۔ لیکن انتہائی مخلص بزرگ تھے۔ یعنی جس نقطہ نظر کے ایک مرتبہ قائل ہوگئے اور اس کے پھر حامل ہوگئے، اس کو انہوں نے اپنی زندگی کا مشن بنادیا۔

مزاج صوفیانہ تھا۔ رہن سہن میں، معاملات میں، زندگی کے دوسرے امور کو انجام دینے میں بہت سادگی، بہت درویشی ہمیشہ ان کے ہاں رہی۔ بڑے غیرمعمولی آدمی تھے۔ آپ اگر ان کی ذاتی زندگی کو دیکھیں تو آپ کہہ اُٹھتے ہیں کہ یہ واقعی اس زمانے میں درویشانہ زندگی کے مالک تھے، حقیقی معنوں میں۔ میرے دل میں ان کی بڑی قدر رہی۔ میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں۔ بہت احترام کی نظر سے ان کی مساعی کو دیکھتا ہوں۔ ان کے ساتھ دس چیزوں میں اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن میں دوبارہ عرض کروں کہ جس مشن کو ایک مرتبہ انہوں نے اپنا مشن بنالیا، اس کے ساتھ ان کے اخلاص پر اُنگلی نہیں رکھی جاسکتی۔

جس طرح انہوں نے جدوجہد کی، اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوئے اور جس اعلیٰ اخلاقی مرتبے پر قائم رہ کر یہ سب کچھ کیا، وہ ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ خاص طور پر وہ نئے نوجوان، جو دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، یعنی دین کے معاملے میں حساس ہیں، ان کو اس طرح کے بزرگوں کی خدمات کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ یہ بڑی اعلیٰ مثالیں ہیں۔ ان کو اس پہلو سے نظرانداز نہ کریں کہ کسی چیز سے علمی یا فکری لحاظ سے اختلاف ہے۔ یہ دیکھیں کہ ایک شخص نے جس چیز کو صحیح سمجھا، اس کو اپنی زندگی بنایا، اس کے ساتھ اپنا تعلق قائم کیا، اس کے لیے جدوجہد کا فیصلہ کیا، اس کو ایک مشن کی طرح اپنالیا تو پھر کس کمٹمنٹ کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی۔ اس کے تقاضے کیسے پورے کیے۔

یہ چیزیں ہیں کہ جو سید منور حسن اور اس طرح کے دیگر بزرگوں کے ہاں دیکھنے کی ہیں۔ یہ ماضی کے قصے نہیں ہیں۔ یعنی ایسی داستانیں نہیں ہیں کہ آپ کہیں کہ ہم کیا جانتے ہیں کوئی چار صدی پہلے، پانچ صدی پہلے لوگوں نے بیان کردیا۔ یہ اخلاص، یہ للہیت، یہ خدا کے ساتھ تعلق، یہ جدوجہد کرنے کا جذبہ، اس طریقے سے اپنے مشن کے لیے قربانی اور ایثار کا جذبہ، یہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ہم اس کی شہادت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ ان کی حسنات کو قبول کرے۔ اور ہم سب کو، یہ جو اصل چیز ہے، یعنی اخلاص، اللہ سے محبت، اس کے ساتھ تعلق، اپنے مشن کے لیے ایثار، ان کے ان حسنات کو ہمیں بھی اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

محمد حسن الیاس نے ایک پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے جاوید احمد غامدی سے سوال کیا:

سید منور حسن کی زندگی کا ایک پہلو جو مجھے بہت متاثر کرتا ہے، وہ یہ کہ عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اپنی زندگی اور اپنی مساعی کا مرکز سیاست کو بناتے ہیں، وہ عمر کے آخری حصے تک اسی میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن جس وقت منور حسن صاحب نے امارت چھوڑی تو اس کے بعد فاذا فرغت فانصب، کہتے ہیں کہ وہ مسجد جاتے ہیں، کوئی سیاسی گفتگو نہیں کرتے، خلوت میں بیٹھے ہیں، اس رویے کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جاوید احمد غامدی نے اس پہلو کی تعریف کی اور بتایا:

بڑا بے مثال رویہ ہے۔ میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ جس وقت آدمی اپنی ذمہ داری کے اس مقام پر پہنچنے کے بعد فارغ ہوجائے تو خود قرآن مجید نے اپنے پیغمبر کو یہی تلقین کی ہے۔ یہ بڑی صحیح آیت بڑے صحیح موقع پر آپ نے پڑھی کہ فاذا فرغت فانصب، والیٰ ربک فارغب۔۔۔ جب یہ اندازہ ہوجائے کہ اب قویٰ مضمحل ہوگئے ہیں، ذمہ داریاں جو ادا کرنا تھیں، ادا کردی ہیں۔ پھر اس کے ساتھ چمٹے رہنا اور ہر جگہ عصا پکڑکر پہنچ جانا، میں بھی اسے پسند نہیں کرتا۔ میرے نزدیک انہوں نے ایک اچھی روایت قائم کی ہے۔ یعنی بجائے اس کے کہ آدمی اپنی شخصیت اور اپنے پس منظر کی بنیاد پر دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کریں، یہ بہت اچھی بات ہے کہ جب آپ نے آخری درجے میں خدمت انجام دے دی تو پھر اطمینان کے ساتھ بیٹھیں اور جیسے کہ وہ بیٹھیں، وقار یہی تھا۔ خدا کے ساتھ تعلق کا اظہار یہی تھا۔ جو بے نفسی ان کے ہاں پائی جاتی تھی، یہ اس کا ظہور تھا۔ اصل میں جو شخصیت کی پاکیزگی ہے یہ بجائے خود اس کا ایک بڑا ہی خوبصورت پہلو ہے کہ جب آپ اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہوگئے تو پھر یہی کیا جائے۔

ہزار چیزوں سے انہیں بھی اختلاف ہوتا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک بڑے منصب پر رہے، جماعت اسلامی کے امیر رہے، ہوسکتا ہے کہ بعد میں آنے والوں کی پالیسیز اور اقدامات سے اختلاف کرتے ہوں، بہت سوچنے سمجھنے والے لوگوں میں سے تھے، لیکن انہوں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا اور اپنی خلوت کو ہی آباد کیا۔ اللہ کے ذکر سے، اللہ کی یاد سے۔ جو لوگ ان کے قریب رہتے ہیں، وہ یہی بتاتے ہیں کہ ان کی ساری دلچسپی اب اسی سے وابستہ تھی کہ اللہ کو یاد کریں۔ میرے ساتھ بھی ان کی آخری ملاقات میں وہ زیادہ تذکرہ اسی کا کرتے رہے کہ اب نماز کا کیا کرنا ہے، مسجد میں کیسے جانا ہے، میں کن چیزوں کو سمجھتا ہوں کہ ترجیح پائیں، یہ کیوں نہ ہو کہ آدمی کا دل مسجد میں لگا رہے۔ ان کی دلچسپی کا موضوع یہ تھا اور اسی پر بات کرتے رہے اور اسی کا پھر ان کی زندگی میں ظہور بھی ہوا۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.