ہم اور ہماری سائیکالوجی - روبینہ شاہین

میں نے سائیکالوجی کا مضمون کالج اور یونیورسٹی میں بڑے شوق سے پڑھا ہے۔سائیکالوجی کے مطابق دنیا کا ہر دوسرا آدمی ذہنی مریض ہے وہ کسی نہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہوتا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ ستر فیصد لوگ علاج کے لئے کسی معالج کے پاس نہیں جاتےمزید حیران کن بات یہ ہے کہ ۹۹٪ لوگوں کے گھر والوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا رشتہ دار کسی نفسیاتی بیماری میں گرفتار ہے۔سائیکالوجی پڑھ کر لگا شائد میں بھی ذہنی مریض ہوں کیونکہ بعد میں مختلف تجربے کرنے کے بعد یہ اندازہ ہوا پاکستان میں تقریباً تمام لوگ اس مسٔلے کا شکار ہیں۔

اب ہم ان کی وجوحات کی طرف آتے ہیں۔اب تو یہ سب جانتے ہیں کہ میڈیا ہماری نفسیات کو کس طرح قابو کر رہا ہے۔ آج کل سب سے بڑا نفسیاتی مسئائل کا گھر میڈیا ہے۔اگر کسی نے اخبار پڑھ لیا تو سب سے بڑی نیوز پاکستان کے نقصان یا حالات خراب ہونے کی ہوتی ہے اور اگر اخبار کو نظر انداز کر کے ٹی وی دیکھا جائے تو حکمرانوں کے اچھے کاموں کی بجائے ان کے بیہودہ سکینڈل دیکھنے پڑتے ہیں۔ ان سے جان چھڑا کر اگر موبائل پر نظر گھومائی جائے تو کوئی اپنی خود کشی کرتے ہوئے کی ویڈیو بنا کر اپلوڈ کر رہا ہے تو کوئی پرینک ویڈیوز دیکھا کر ڈرایا جا رہا ہے کہ ڈاکو سے بچ بھی گے تو ہم آپ کی ویڈیو بنا کر اپلوڈ کر دے گے۔
اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق ہونے والے افراد کتنے عرصے میں کتنے افراد کی اموات ہوئی کس پارٹی کے کتنے کارکن شہید ہوئے۔پنجاب میں سیلاب آیا مگر کوئی وزیر نظر نہ آیا۔ہر چینل پر روز سیاست کی دکانیں لگتی اور روزانہ کے موضوعات پر گرما گرم بحث کی جاتی ہے جیسے ملک کے مسائل کا حل صبح ہی تلاش کر لیا جائے گا۔تمام خواتین و حضرات پورا دن گھر کے کام سے فارغ ہو کر رات کو ٹی وی دیکھتے ہیں تو سیاسی معمالات کو حفظ کر لیتے ہیں اور صبح اُٹھ کر ایک دوسرے کے منہ پر اُلٹی کر دیتے ہیں۔ کسی کو کوئی غم کیوں نہ ہو مگر اس کو اگلے کی حفظ کی ہوئی ہر وہ بات سننا پڑے گی جو اس نے ایک رات پہلے بڑٰی مشکل سے یاد کی تھی تا کہ دانشور ہونے کا کچھ ثبوت مل سکے۔

ویسے میرے نزدیک پاکستان میں نفسیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ شادی شدہ ہونا اور اس سے بھی بڑی وجہ غیر شادی شدہ ہونا ہے۔شادی شدہ شخص کو یہ مسٔلہ تنگ کیے ہوئے ہے کہ اس نے شادی جلدی کر لی اور اگر کچھ دن اور انتظار کیا جاتا تو بہتر تھا اور کنواروں کا مسٔلہ یہ ہے کہ ان کی شادی کیوں نہیں ہو رہی۔گھر سے جوان باہر جا رہا ہو تو گھر والے صدقے اُتارتے ہیں کہ میرا بچہ خیر و عافیت سے گھر آ جائے جب بچہ خیر سے گھر آ جائے تو گھر والے خوشی کے مارے رونے لگ جاتے ہیں اب بتائیں ان نفسیاتی مسائل کا حل کیا ہونا چاہیے۔پہلے وقت میں بچوں کو کسی بات پر ڈرا کر سلایا جاتا تھا اور بچے ڈر کر معصوم شکل بنا کر سو جایا کرتے تھے۔ اب بچے بڑوں کو ڈرا کر کہتے ہیں سو جائے ورنہ بھاوں آ جائے گا یا تو بڑوں میں رعب نہیں رہا یا بچوں میں بڑوں کا ڈر۔

اگر کھانے میں گوشت یا چکن نہ ملے تو گھر میں سب منہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں "کیا ہمارے نصیب میں دالیں رہ گئی ہے" اور اگر روز نصیب میں بوٹی لکھی ہو تو وہ الگ روتا ہے "کیا ہمارے کھانوں میں ان مردے کھانوں کے علاوہ کچھ نہیں پک سکتا" حقیقت میں ہم کسی حال میں خوش رہنے کا فن بھول گے ہیں اور یہ فن ہمیں سیکھائے کون اور جو سیکھائے گا وہ ان میں پاگل کہلائے گا۔آج کل جدید نفسیاتی مسٔلہ کرونا بنا ہوا ہے۔جن کو ہے ان کو پتہ نہیں اور جن کو نہیں ہے وہ روز کرونا کی بجائے خوف سے مر رہے ہیں۔ہر طرف خاموشی ہے لاک ڈاون ہے انسان انسانوں سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔روز میڈیا ہمیں اس بات پر ہدایت دے رہا ہے کہ اپنے آپ کو اس بیماری سے کیسے محفوظ رکھا جائے اور انسان نے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لئے تنہائی اختیار کر لی ہے اور تنہائی بھی نفسیاتی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے۔

یہ کرونا شائد چلا جائے اور ہو سکتا ہے چلا گیا ہو مگر ہمارے ذہنوں میں ابھی بھی موجود ہے ۔ہمیں ان نفسیاتی مسائل سے آزاد ہونا ہے تو ہمیں اپنے ذہن کو فضول سوچوں سے آزاد کرنا ہوگا ۔ جو وقت ہم فضول کاموں میں خرچ کرتے ہیں عبادت میں گزارے۔میڈیا سے پرہیز کرے اچھی کتابوں سے دوستی کر لے۔بچوں کے ساتھ گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ محفلیں لگائے تا کہ ہم خوش رہے اور دوسروں کو خوش رکھنے میں وقت گزرے۔