پختون قوم پرست سیاست کا نیا موڑ- پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام

میری یہ تحریر تجزیاتی ہے، اس کا سیاسی حمایت و مخالفت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ کوئی اتفاق کرے تو اس کا بھلا، کوئی نہ کرے تو اس کا بھی بھلا۔ آپ اپنی رائے ضرور دیجیے مگر مجھ سے بحث میں نہ الجھیں۔

تحریک پاکستان کے دوران خان عبد الغفار خان المعروف باچا خان کی رائے اور کانگریس کے ساتھ ان کا اتحاد ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ ہندوستان کی تقسیم کے لیے مسلم لیگ کے فارمولے سے اختلاف باچا خان سمیت کئی اور لوگوں نے بھی کیا تھا گوکہ ہر ایک کا متبادل حل مختلف تھا۔ پاکستان بننے کے بعد باچا خان سمیت تمام مخالفین پاکستان نے نئی ریاست کی وفاداری کا حلف اٹھایا تھا۔

سوال یہ ہے کہ باچا خان کی وفاداری کو دل سے تسلیم کیوں نہیں کیا گیا؟

اس کی تین وجوہات تھیں:
(1) پاکستان کے نئے حکمرانوں کی بے یقینی اور ہچکچاہٹ۔
(2) پختون قوم پرستوں کا کنفیوژن۔
(3) بھارت اور افغانستان کا پختونستان سٹنٹ۔

میں اس موضوع کو تین نکات میں سمیٹنے کی کوشش کروں گا:

(الف) باچا خان اورولی خان ہمیشہ یہ شکوہ کرتے رہے کہ پاکستان کی نئی ریاست سے ان کی وفاداری کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہ گلہ وہ تقریروں اور تحریروں میں کرتے رہے ہیں جو ریکارڈ پہ ہے۔ 12 جولائی 1995 کو میں خود ولی خان مرحوم سے ولی باغ میں ملا تھا۔ اس دوران بھی انہوں نے اس شکوے کا اظہار کیا تھا۔ ان کا یہ شکوہ جزوی طور پر درست تھا، مگر وہ اس کے ساتھ ساتھ بھارت اور افغانستان کے بھی قریب رہے جس کی وجہ سے ان کی وفاداری کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ بھارت اور افغانستان نے ابتدا ہی سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا تھا، اس لیے پاکستان میں جس نے بھی ان سے تعلقات بڑھائے، وہ ریاست اور عوام کی نظروں میں مشکوک ٹھرے۔

(ب) "لر" او "بر" کے نعرے اور پختونوں کے حقوق و شناخت کے حوالے سے بھی کنفیوژن رہا۔ باچا خان، ولی خان اور اسفند یار ولی کہتے رہے کہ افغانوں کے ساتھ ان کا نسلی تعلق ہے۔ اس لیے وہ لر و بر کا نعرہ لگاتے ہیں۔ نیز پختونوں کی شناخت اور حقوق کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ریاست پاکستان سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔

اگر ایک لمحے کے لیے ان کی یہ وضاحت تسلیم کی بھی جائے تو بات یہ ہے کہ ڈیورنڈ لائن کی مخالفت اور پختونستان کے بیرون ملک سیٹ اپ کے قیام کی حمایت بھی تو انہوں نے کی تھی۔

(ج) ایمل ولی خان کے ریاست پاکستان کے حوالے سے حالیہ موقف نے ایک بار پھر اس بحث کو ہوا دی ہے۔ متعدد تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کے دو ٹوک موقف نےاس کنفیوژن کا خاتمہ کردیا ہے جو ان کے بزرگوں نے دانستہ یا نا دانستہ طور پر پیدا کیا تھا۔ میں نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر اے این پی کے اکثر حامیوں کو ایمل کے اپروچ سے متفق پایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ولی خان عملیت پسند سیاست دان تھے۔ انہوں نے بہت پہلے اپنی کتاب باچا خان اور خدائی خدمت گاری میں کھل کر الگ پختون ریاست کے قیام کی حمایت سے انکار کردیا تھا۔ تاہم ایمل ولی خان کے موقف سے شدید اختلاف رکھنے والے بھی موجود ہیں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ پختون قوم پرست سیاست اب ایک دوراہے پر آکھڑی ہوئی ہے، دیکھتے ہیں یہ کیا رخ اختیار کرتی ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */