عالمی تجارت کا مستقبل - پروفیسر جمیل چودھری

دنیا میں متعدی امراض،وبائیں اور آفات پہلے بھی آتے رہتے ہیں لیکن یہ کرۃ ارض کی بہت کم آبادی کو متاثر کرتے تھے۔متاثرہ ممالک کے علاوہ دنیا کے باقی حصوں کا نظام زندگی چلتا رہتا تھا۔پہلی جنگ عظیم کے عرصے میں جنگ کے ساتھ ساتھ سپینش فلو نے بھی کافی تباہی مچائی تھی۔موجودہ وباء کے حالات ماضی سے کافی مختلف نظر آتے ہیں،پورا کرۃ ارض ہی لپیٹ میں آچکا ہے۔

انسان کم ہورہے ہیں لیکن کرۃ ارض پر موجود جانورجوں کے توں ہیں۔موجودہ وباء نے ملکی معیشت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے،معیشت کا ہر مرکز انسانوں کے کام کرنے سے رواں دواں رہتا ہے لیکن اس موذی مرض نے انسانوں کو ایک دوسرے سے دور رہنے پر مجبور کردیا ہے۔اس کے نتیجہ میں فیکٹریاں،کارخانے،تجارتی مراکز اور کمپنیوں کے دفاتر تک بند ہوگئے ہیں،جن علاقوں نے ایک لمبے لاک ڈاؤن کے بعد اپنے معاشی مراکز کھولے بھی ہیں وہاں مرض پھر بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔پاکستان کی ایسی ہی صورتحال ہے۔

ہم آج ایسی صورتحال میں عالمی تجارت کے مستقبل کا جائزہ لیتے ہیں۔ابھی تک پوری دنیا میں وباء کے حملے جاری ہیں،یہ حملے کب ختم ہونگے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔کئی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وباء کے موجودہ حملے کے بعد دوسرا دور بھی آسکتا ہے۔دنیا میں ہر طرف غیریقینی صورتحال چھائی ہوئی ہے۔گزشتہ چند دہائیوں سے عالمی تجارت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا تھا۔معاشی ترقی کے پیچھے عالمی تجارت ایک بڑا فیکٹر تھا۔بڑے تجارتی ملک اشیاء وخدمات نہ صرف اپنے ملک کے لئے بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے لئے بھی اشیاء سازی کرتے تھے۔ہرکوئی جانتا ہے کہ عالمی تجارت میں چارملک بڑے پارٹنرز تھے۔امریکہ،چین،جاپان اورجرمنی۔امریکہ اور چین تجارت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کوسیاسی لہاظ سے نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کرتے رہتے ہیں۔دونوں کی کوشش ہے کہ عالمی سطح پر صرف اسی کا اثرورسوخ بڑھے اور پھیلے۔جب موجودہ وباء پھیلنا شروع ہوئی۔تو دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی شروع کی۔پہل تو ٹرمپ جیسے غیر سنجیدہ شخص کی طرف سے ہی ہوئی۔چین نے بھی جوابی وارکئے۔دونوں ملک سالانہ77۔بلین ڈالر کی تجارت کرتے ہیں۔

یہ عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ ہے۔اب اس بڑے حصے کا مستقبل محدوش ہوگیا ہے۔امریکہ نے چینی درآمدات پر ٹیرف میں اضافہ کیا۔جواب میں چین نے بھی کچھ نہ کچھ نہ کرنا ہی تھا۔یوں عالمی تجارت پر بڑا حملہ سب سے پہلے 2۔بڑوں نے ہی کیا۔جنوبی چینی سمندر بھی اختلاف کا ایک بڑافیکٹر ہے۔یہاں چین مکمل طورپر اپنا اثرورسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے۔اس سمندر سے 5.3۔ٹریلین ڈالر لی اشیاء گزرتی ہیں۔لہذا بہت سے ممالک چاہتے ہیں کہ اس علاقے میں امن قائم رہے۔اورعالمی تجارت پر امن طورپر جاری رہے۔دونوں کے درمیان اختلافات اس وقت بڑھے جب دونوں نے وائرس کے پھیلاؤ کاذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا۔اب دونوں ملک کے سائنسدان اورطبی ماہرین ویکسین کی تیاری میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔کون پہلے مکمل ویکسین تیارکرکے دنیا میں لیکر آتا ہے۔مقابلہ جاری ہے۔ان دونوں کے علاوہ بھی کئی ممالک کی لیبارٹریوں میں دن رات کام ہوتانظر آتا ہے۔پاکستان جیسے سائنس میں پسماندہ ملک صرف دوسروں کی طرف نظر اٹھاکر دیکھیں گے۔تمام مسلم ممالک اسی طرح صدیوں سے مغرب اور امریکہ کی طرف دیکھتے چلے آرہے ہیں۔

اس دوا کی کامیاب تیاری میں6ماہ تا ایک سال کاعرصہ لگ سکتا ہے۔اس وقت تک وباء کے حملے انسان اور معیشت پرجاری رہیں گے۔سماجی فاصلے معیشت کی پیداوار میں رکاوٹ پیداکرتے رہیں گے۔چین کی معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے6۔فیصد سالانہ معاشی نمو سے آگے بڑھتی رہی ہے۔لیکن وائرس کی وجہ سے سماجی فاصلے اب اس شرح کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔وہ ممالک جو چین سے بڑے پیمانے پر تجارت کرتے ہیں۔ان کے حالات ایک جیسے نہیں ہیں۔چین کا پڑوسی بھارت،چین سے70۔ارب ڈالرکی سستی اور معیاری اشیاء درآمد کرتاہے۔اور بھارت سے چین کی درآمدات صرف15۔ارب ڈالر تک محدود ہیں۔یہاں بھارت کوچین کی زیادہ ضرورت نظر آرہی ہے۔آسٹریلیا کی Mining Industryکوچین کی ضرورت ہوتی ہے۔وائرس کے باوجود آسٹریلیا سے خام مال چین پہنچ رہا ہے۔تجارت میں کوئی بڑا خلاء پیدانہیں ہوا۔سیاحت کی صنعت کووائرس نے بہت ہی زیادہ متاثر کیا ہے۔یہ کاروبار آج کل مکمل طورپر بند ہے۔نقصان توہرملک کا ہورہا ہے۔لیکن کئی ممالک ایسے تھے جنکی آمدنی کابڑا حصہ سیاحت کی طرف سے آتاتھا۔ترکی اور مصر کی ایسی ہی صورت حال تھی۔

چینی طلباء آج کل امریکہ بہت کم جارہے ہیں۔اس سے امریکہ پر اثر پڑے گا۔چین اپنے ہی ملک کے تعلیمی نظام پرزیادہ سرمایہ کاری کررہا ہے۔تاکہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع اپنے ہی ملک میں زیادہ پیداکردیئے جائیں اورلاکھوں طلباء کو تعلیم کے لئے امریکہ نہ جانا پڑے۔امریکہ کی کوشش ہے کہ عالمی تجارت کا حجم قائم تو رہے لیکن یہ چین کے بغیر ہو۔عالمی تجارت کو اگرکوئی فیکٹر سب سے زیادہ متاثر کرے گا۔تو یہ جیو پولیٹکل حالات ہونگے۔کبھی سرد جنگ روس اورامریکہ کے درمیان تھی۔اب میدان جنگ میں چین اور امریکہ موجود ہیں۔یہ تجارت کئے بغیر رہ بھی نہیں سکتے لیکن ایک دوسرے کے اثرات کوCurtailکرنے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔جیسا کہ اکثر دوست جانتے ہیں کہ عالمی تجارت WTOکے اصولوں کے تحت ہوتی ہے۔یہ ادارہ نئی صدی کے شروع میں ہی قائم ہوگیاتھا۔اور اس ادارہ نےGATTنامی ادارے کی جگہ لے لی تھی۔W.T.Oکے دفاتر میں تمام دنیا سے معلومات آتی رہتی ہیں۔اور یہ ادارہ اپنے164ممبران کوضروری معلومات پہنچاتا رہتاہے۔ادارے میں عالمی رسد اورطلب کے امور کاجائزہ ہروقت جاری رہتاہے۔

ادارے کی طرف سے خبردارکردیا گیا ہے کہ موجودہ سال2020ء میں عالمی تجارت میں32فیصد کمی آنے کا رحجان ہے۔یورپ وباء کے بعد ابھی آہستہ آہستہ کھل رہا ہے۔اور عالمی درآمدات کے لئے آرڈردیئے جارہے ہیں۔درآمدات اوربرآمدات کے فائنل حجم کاپتہ موجودہ سال کے آخر میں لگے گا۔وہ ممالک جو اس وباء سے کم متاثر ہوئے ہیں انکی طرف سےW.T.Oکوبتایا جارہا ہے کہ وہ عالمی تجارت کومکمل طورپر کھلا رکھناچاہتے ہیں۔ایسے ممالک میں سنگاپور ،نیوزی لینڈ،کینیڈااور سوئیٹزر لینڈ شامل ہیں۔زیادہ تر ملکوں نے اپنے فنڈز میڈیکل آلات واوزار اور غذا کے لئے مختص کردیئے ہیں۔انسانی جانوں کوبچانے کے لئے ان چیزوں کی اشد ضرورت ہے۔باقی اشیاء ضرورت کے لہاظ سے بعد میں آتی ہیں۔لہذا باقی اشیاء کی درآمدات ضرور کم ہونگی۔اگرحکومتیں اپنی آمدنیوں کوبڑھانے کے لئے ٹیکس بڑھائیں گی تو عوام اورکاروبار پر اس کے الٹے اثرات ہونگے۔جب دنیا کے حالات غیرمعمولی ہوں تو معمول کے اصول کام نہیں کرتے۔

وباء میں لوگ حکومتوں سے کچھ ملنے کی توقع کرتے ہیں۔دینے کا نہیں سوچتے۔W.T.Oکی سوچ یہ ہے کہ دنیا میں اگرامن واستحکام ہوگا تو معیشت بھی بڑھے گی اورعالمی تجارت بھی اپناحجم قائم رکھ سکے گی۔بہت سے ماہرین کی رائے ہے کہ یہ وباء کا پہلا دورہے۔ہمیں مستقبل میں دوسرا دور بھی دیکھنا پڑ سکتا ہے۔وباء کی مثال ایک ایسے بم سے دی جارہی ہے جو انسان تباہ کررہا ہے۔لیکن جانوروں پر اس کے برے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔دنیا میں وباء کو شروع ہوئے6۔ماہ ہونے والے ہیں۔لیکن اس کے حملے کم ہونے میں نہیں آرہے ہیں۔فیکٹریاںبند،ہوٹل ویران اور انسان اب پیداآور نہیں رہے۔دوسرے دور کے آنے کو فناشیل ٹائمز کے مارٹن وولف نے اپنی13۔مئی کی ویڈیو میں بھرپور انداز سے بیان کیاتھا۔یہ بھی امکان ہے کہ سماجی فاصلے کوضروری سمجھتے ہوئے ایک بڑے کاروباری/پیداآور یونٹ کوچھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے مختلف جگہوں پرشفٹ کردیاجائے۔پیداوار ہوتوسہی لیکن سماجی فاصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے۔

آنے والا دورکافی مختلف نظر آتا ہے۔امریکہ جیسے ملک میں بے روزگاروں کی4۔کروڑ کی تعداد کاسن کر انسان پریشان ہوجاتا ہے۔وباء کے دنوں میں ابھی تک پاکستان میں بے روزگاری50۔لاکھ تک بتائی جارہی ہے۔لیکن ابھی تو وباء کے شدید حملے جاری ہیں۔وباء نے انسان کو بے بس کردیا ہے۔لوگ ویکسین کا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔G2Oکے ممبران نے چند ہفتے پہلےW.T.Oکوخبردار کردیا ہے کہ عالمی تجارت کاجائزہ بالکل نئے انداز سے لیاجائے۔اس کی کیا صورت ہوگی اور کیا تبدیلیاں کرنی پڑیں گی۔صورت حال دوسری جنگ عظیم کے بعد کی طرح کی نظر آتی ہے۔جب تمام دنیا کے حالات غیر مستحکم ہوگئے تھے۔یورپ کی بحالی کے لئے مارشل پلان بنایا گیاتھا۔دونوں عالمی مالیاتی ادارے بھی1945ء میں حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے بنائے گئے تھے۔تب دونوں دشمن ایک دوسرے کو پہچانتے تھے۔لیکن یہاں حملہ آور خفیہ ہے۔اور کب تک حملہ جاری رکھے گا۔ابھی تک تمام اندازے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد معاہدہ اٹلانٹک میں روزویلٹ اورچرچل نے جنگ کے بعد کہاتھا۔"تمام چھوٹی بڑی ریاستوں کے درمیان خام مال کالین دین ہواور تجارت جاری رہے"آخر میں ہم اپنے ملک کے تجارتی حالات کاذکر کرتے ہیں۔2020ء کے درمیان جولائی تااپریل کے 10ماہ میں برآمدات 19.7بلین ڈالر کی ہوئیں۔اور یہ گزشتہ سال سے2.4۔فیصد کم رہیں۔حکومت نے اس عرصہ کے دوران بجلی کے نرخ صنعتوں کے لئے کم رکھے۔تاکہ ہماری برآمدی اشیاء عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرسکیں۔اسی عرصہ کے دوران درآمدات36.1۔بلین ڈالر کی رہیں۔گزشتہ سال اسی عرصہ میں یہ40.3۔بلین ڈالر تھیں۔اس طرح درآمدات 17 ۔فیصد کم ہوئیں۔اسی عرصہ میں ترسیلات زر18.8۔بلین ڈالرتھیں۔اب برآمدات کی مالیت اورترسیلات تقریباً برابربرابر ہوگئی ہیں۔یہاں سے ہمیں دوسرے ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کی اہمیت کااندازہ ہوتا ہے۔رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کافی کم ہوگیا ہے۔اس کاکریڈٹ موجودہ حکومت کوجاتا ہے۔

تیل کی قیمتوں کے کم ہونے سے بھی پاکستان کاتجارتی خسارہ کافی کم ہواہے۔ہمیں اس سے کافی فائدہ ہوا ہے۔دنیا کے کچھ حالات ہمارے لئے مثبت پیغام بھی لائے ہیں۔تیل کا درآمدی بل رواں ساک کے10۔ماہ میں10۔ارب ڈالر تک آگیا ہے۔یہ پہلے کافی زیادہ ہوتاتھا۔عالمی تجارت کیاشکل اختیار کرتی ہے۔اسکا صحیح اندازہ تووباء کے مکمل خاتمے کے بعد ہی لگایاجاسکے گا۔اور یہ بھی دیکھاجائے گا کہ چین اور امریکہ کی آپس کی تجارت کیاشکل اختیار کرتی ہے۔بڑے اور نامور Playersہی فیصلہ کن رول ادا کریں گے۔سالانہ عالمی تجارت کے اعدادوشمار ہرسال بدلتے رہتے ہیں۔2019ء کی پہلی سہ ماہی میں عالمی تجارت341ٹریلین ڈالرکے لگ بھگ تھی۔2020ء میں یہ کافی کم ہوتی نظر آرہی ہے۔کیاچین بھارت سرحدی تناؤ آپس کی تجارت کومتاثر کرے گا۔یہ بات ابھی دیکھنے والی ہے۔

اگرتناؤ میں اضافہ ہوگیا تودونوںملکوں کی تجارت میں کمی عالمی تجارت کوبھی متاثر کرے گی۔عالمی تجارتی حجم کاقائم رہنا عالمی معیشت کے لئے بھی بہتر ہوگا۔اگر عالمی تجارت میں بڑے پیمانے پرکمی آئی ہے۔تودنیا کی معیشت کی ترقی بھی متاثر ہوگی۔تمام حالات وباء کے خاتمے پر انحصار کرتے ہیں۔اور وباء کے خاتمے کی حتمی پیش گوئی ناممکن نظر آتی ہے۔دنیا پر غیر یقینیت کاپردہ پڑا ہوا ہے۔عالمی تجارت کے مستقبل پر ابھی سوالیہ نشان موجود ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */