میں سگریٹ پینا چھوڑ رہا ہوں - حبیب الرحمن

ڈاکٹر نے ایک ادھیڑ عمر کے مریض کا نہایت تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کہا کہ حضرت آپ کی تمام بیماریوں کا سبب سگریٹ نوشی کی کثرت ہے۔ پھر اگلا ہی سوال یہ کیا کہ کیا آپ مرض ٹھیک ہونے تک ہی سہی، سگریٹ پینا چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مریض تھا جو چین اسموکر کے درجے میں آتا تھا۔

مریض نے ڈاکٹر کا سوال سن کر بلاتوقف کہا "ہاں"۔ ڈاکٹر مریض کا جواب سن کر بہت حیران ہوا کیونکہ چین اسموکر ہوں یا ڈیڈ ڈرنکر، اتنی آسانی سے اپنی عادتیں ترک کرنے کیلئے کم ہی تیار ہوا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثر کے ساتھ مریض سے کہا کہ آپ جتنے آرام، سکون اور اطمنان کے ساتھ سگریٹ چھوڑ نے کا اقرار کر رہے ہیں تو کیا واقعی ایسا کر پائیں گے؟۔ مریض نے ایک مرتبہ پھر اسی سکون کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہیں، میں اب سے پہلے بھی 100 مرتبہ سگریٹ پینا چھوڑ چکا ہوں۔

کل قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے بی این پی کے سر براہ اختر مینگل نے ببانگِ دہل یہ اعلان کیا کہ میں پارٹی کے سارے سرکردہ اور اہم ارکان کی مشاورت کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ کئے گئے اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔بات لڑائی کی ہو یا دوستی کی، دونوں کیلئے ہر فریق کے پاس بہت ٹھوس جواز ہوا کرتے ہیں۔ جب حکومت میں شمولیت کا اعلان کیا جا رہا تھا تب بھی کئی یقین اور کئی گمان قربت کا سبب بنے ہونگے اور اب علیحدگی اختیار کرنے کیلئے بھی نہایت مضبوط دلائل موجود ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والی تفصیل کچھ یوں ہے کہ "قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران بی این پی کے اختر مینگل نے تحریک انصاف سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایوان میں موجود رہیں گے اور اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

بلوچستان آپ کا مقروض نہیں، اگر حساب کریں تو آپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا مقروض ہوگا، سوئی گیس کی رائلٹی تو چھوڑیں، ہمیں گیس سونگھنے کو بھی نہیں ملتی، میرے بلوچ کا خون کیوں زیر بحث نہیں آتا، کیا اس کا رنگ ٹماٹر کے رنگ سے زیادہ خراب ہے۔ بلوچستان کو برابر کا حصہ دینا ہوگا۔ حکمران جماعت نے ہمارے ساتھ لاپتا افراد اور بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے معاہدہ کیا تھا، کیا ان معاہدوں پر عمل کیا گیا؟۔جناب سردار اختر جان مینگل کی بیان کردہ شکایات درست ہیں یا غلط، یہ ایک طویل اور وقت طلب بحث ہے لیکن پورے بلوچستان کے سرداروں کا جو بھی سیاسی کردار پورے پاکستان کے سامنے ہے وہ اسی سگریٹ نوش مریض کا سا ہے جس کا کہنا یہ تھا کہ وہ یقیناً سگریٹ پینا چھوڑ سکتا ہے کیونکہ وہ پہلے بھی سو سے زیادہ مرتبہ ایسا کر چکا ہے۔بلوچستان کے مظلوم عوام بے شک بہت ہی مظلوم ہونگے لیکن جو سردار ان کی مظلومیت کا رونا روتے ہیں، پاکستان کی حکومت کی غلط پالیسیوں سے کہیں زیادہ بلوچ عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم میں ان ہی سرداروں کا ہاتھ رہا ہے۔

یہ سب سردار کئی صدیوں سے ان پر ظلم بھی توڑتے رہے ہیں اور اپنی قوم کے سامنے معصومیت کا پیکر بھی بنے رہے ہیں۔اختر مینگل نے اپنی علیحدگی کے جو جواز بھی بیان کئے وہ آج کے تو نہیں ہیں۔ گیس کا مسئلہ ہو یا لاپتہ افراد کی بازیابی کی باتیں، سب کی سب پرانی ہیں۔ اول تو ان باتوں کا فیصلہ بلوچستان کی ہر پارٹی کو کسی بھی حکومت میں شمولیت سے پہلے ہی کروا لینا چاہیے ورنہ ڈھائی ڈھائی برس انتظار کا کیا جواز بنتا ہے۔بلوچستان میں اختر مینگل ہی نہیں، ہر بلوچی سیاسی لیڈر، پارٹی اور سردار کی شکایات پاکستان سے یہی رہی ہیں جس کا ذکر اختر مینگل کر رہے ہیں لیکن ہر وہ پارٹی جو اتحاد میں شامل ہوتی ہے اس کا جواز بھی اسی قسم کی شکایات کا ازالہ قرار پاتا ہے اور ہر وہ سیاسی لیڈر یا پارٹی اتحاد سے باہر رہنا یا بعد میں سانجھے کی ہانڈی پیچ چوراہے پر پھوڑنا فرض سمجھتی ہے، اس کے جواز میں بھی یہی ساری معذرتیں ہوتی ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کے سارے سرداروں کی کلاہوں میں ایسے "ہما" کا بال ہے جس کے سامنے نہ تو پارٹی کی وابستگی کوئی حقیقت رکھتی ہے اور نہ ہی سرداروں کی کار کردگی کی کوئی اہمیت۔ وہ آزاد کھڑے ہوں، حکومت کے خدمت گار ہوں یا باغی، انتخابات میں جیت ان ہی کے سر سجتی ہے۔ علاقے کی چیونٹی تک کی مجال نہیں کہ وہ اپنا بل ان سے پوچھے بغیر بنا سکے۔ ایسے سارے ظالموں کو اپنے کروفر سے غرض ہوتی ہے باقی جن جن کا ذکر خیر وہ کر رہے ہوتے ہیں وہ سب کے سب کیڑے مکوڑوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔

خون کا رنگ، قوم کی مظلومیت، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی، گیس کی بو اور لا پتہ افراد کی عدم بازیابی جیسی باتیں بلوچ عوام کو بیوقوف بنانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔علیحدگی کے بعد اب صرف دو باتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، اول یہ کہ سگریٹ دوبارہ کب شروع کی جائے گی اور دوئم یہ کہ سگریٹ پینے کی رضا مندی کیلئے سگریٹ کے "کتنے" بنڈل درکار ہونگے؟۔