بادل سےجھانکتی چاندنی - اسماء اعجاز شاه

یہی کوئی دو ہفتےقبل ، ایک خوشگوار رات ہم دونوں ماں بیٹی کچن سے فارغ ہونے کے بعد صوفے پر نیم دراز ..... تندور سے روٹیاں آنے کی منتظر...... آپس میں محوے گفتگو تھیں . معاً دوسرےکمرے کا دروازہ بجا!

میں نے عروبہ سےکہا دیکھو تو زرا....... اور دل میں سوچا کہ شمریز تو ہونہیں سکتا, اتنی خاموش آمد اور اتنی ہلکی دستک!! فوراً ہی بیٹی کی واپسی ہوئی , ہاتھ میں بڑی سی پلاسٹک کی ڈھکن اور ہینڈل والی ٹوکری,لبوں پر دھیمی مگر الجھی الجھی سی مسکان! مجھے پہلی ہی نظر میں ٹوکری توبہت ہی پیاری لگی ...... پر حیرت بھی ہوئی کہ بھرپور آندھی کے بعد برستی بارش میں کس نے کیا بھیجا؟؟ عروبہ بولی یہ عامر بھائی (تایا زاد) نے دی ہے کہ آپ رکھ لیں! سوالیہ نظروں سےاور حیرت سمیٹتےہوئےگہرےبادلوں کی رنگت جیسی ٹوکری کاڈھکن کھولا تو یوں لگا جیسے بادلوں کی اوٹ سے چاندنی چٹکی ہو.

ٹوکری میں ایک سفید فارسی بلونگڑی (پرشیئن کِٹن) اداس اداس سی آنکھیں موندے, سر نیہ واڑے ایک سمت لیٹی تھی...... اب تو حیرت بلائے حیرت..... تحقیقات پر پتہ چلا کہ یہ بیچاری جنوبی پنجاب کے شہر وہاڑی سےعامر نےجس دوست کیلئےمنگوائی ، اسکےننھےبچے کو بلونگڑی کے ساتھ کھیلنےکی وجہ سے سانس کی تکلیف ہورہی ہے. سو اس نےواپس کردی......... چونکہ عامرکے والدین لاک ڈاؤن کی وجہ کراچی میں پھنسے ہوئے ہیں اور اکیلے اسکے بس کی بات ہی نہیں اسے پالنا ، سو اسی دوپہرایک اور دوست کوتحفتاً دی ، مگر رات ہونے تک بلونگڑی نے نہ دودھ پیا نہ کچھ کھایا........ (آہ! ننھے حضرت موسٰی کا فرعون کےمحل پہنچنے والا قصہ یاد آگیا کہ جب حکمِ ربّی نہ ہو تو رزق کا ہر در بند ہوجاتا، اور جہاں لکھا ہو کھل جاتاہے)

بہرحال....! نوجوان دوست نے بیزار ہو کر کہا کہ یہ بہت چھوٹی ہے...... میں نہیں پال سکتا. (انگور کھٹے!!) آخری قرعہ ہمارے نام نکلا کہ ہم ٹھرے بلیوں کی شیدائی کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے ان سےالفت رکھنا. بس زراسا پیار سے سہلایا اور باآسانی دودھ پلا لیا. آپس کی بات ہے اگر اس دوست کو معلوم ہوتا کہ ننھی بلیاں قدرے پتلا اور زرا سا میٹھا دودھ پینے پر آمادہ ہو ہی جاتی ہیں تو....... خیر! اسکےبعد یہ قرارداد پاس کروائی کہ" واپس لینی ہے تو محض رات بھر سوچنےکا موقع ہے" ..... اور نہیں تو کیاابھی تو دل کوسمجھا بجھالیں گے، سال بھر ہی تو ہوا ہے ہمارےسوا سالہ بلے زائر کو کھوئے ہوئے پھر جوں جوں وقت گزرا,اسکی محبت بھی امر بیل کی طرح دل کوجکڑلےگی یوں ایک بار پھر میں اور عروبہ اداس دل کو سمجھاتےسمجھاتے اک عرصہ اسکےذکر پر نمدیدہ نظریں چرائیں گے.

اللہ کا شکر کہ عامر کا جواب ملا بس! "کہہ دیا تو کہہ دیا"....... اب یہ آپکی ہوئی! (اُس وقت بھی یہ جملہ سن کر طارق عزیز صاحب یاد آگئے،اور اب یہ تحریر لکھتےہوئےبھی..... سوچ رہی ہوں کہ بعض اوقات منہ سے نکلےعام سے الفاظ بھی کتنےخاص بن جاتے ہیں.ا اللہ انھیں غریقِ رحمت کرے اور ہمیں توفیق دےکہ ہمارےالفاظ خاص بنیں یا نہ بنیں بس اذیتناک نہ بنیں . آمین)
واپس آتےہیں آپ بیتی کی طرف، یوں بیٹھےبٹھائے مفت میں اِک دیرینہ خواہش پوری ہوئی تو بےساختہ منہ سے نکلا! اوپر والا جب بھی دیتا
دیتا چھپڑ پھاڑ کے...... اللہ کی شان! پنجاب کے شہر "وہاڑی" سے اسکا رزق بہاولپور میں تنگ ہوتےہوتے ہمارے گھر آن کُھلا. دعاہےکہ اللہ پاک آئندہ بھی لاک ڈاؤن کےمتاثرین، ہماری اور بلونگڑی کی مدد غیب کے خزانوں سے فرمائے. آمین

یہ تومیں نے بتایا ہی نہیں کہ اداس بلونگڑی نے دودھ پینے نے بعد کیا کیا. ابتدائی دو دن میں ہی صورتحال یہ بنی کہ دو کمروں پر "چیا" کا مکمل راج ہوگیا! پیٹ بھرنے اور نیند پوری کرنے کے بعد جدھر چاہے پھدکتی پِھرے..!