نسل پرستوں کی اب خیر نہیں.! - غازی سہیل خان

گذشتہ چند ہفتوں سے امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف شدید قسم کے احتجاجی مظاہر ے ہو رہے ہیں ۔احتجاج ایک سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا جس میں نسل پرستی اور سیاہ فام مقتول کے حق میں انصاف کی وکالت بھی کی جا رہی ہے ۔ احتجاج میں مختلف قسم کے نعروں کے ساتھ ساتھ ’’جہاں انصاف نہیں وہاں امن نہیں ‘‘کے فلک شگاف نعرے بھی گونج رہے تھے۔سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ ہیش ٹیگ ’’میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں ،بلیک لائیوز میٹر‘‘یعنی سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی اہم ہیں، کے ٹرینڈز بھی چل رہے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک میں جارج فلائیڈو کی تصاویر دیوراوں پہ بنائی جارہی ہیں۔چند اس سیاہ فام کی فوٹو کو سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ ’’بلیک لائیوز میٹر‘‘عنوان دے کر دنیا سے انصاف اور مغرب میں نسل پرستی کے خاتمے کی گوہار لگانے میں مصروف ہیں۔

40سالہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت امریکہ میں کوئی پہلا واقعہ یا قتل نہیں ہے بلکہ دنیا میں جمہوریت اور انسانیت کی نام نہاد پاسداری کرنے والے اس ملک نے دنیا میں انسانیت کا ہی قتل نہیں کیا ہے بلکہ اس نے قوموں اور تہذیبوں،چرندوں اور پرندوں یعنی ہر ایک جاندار کا قتل کرنے سے دریغ نہیں کیا۔تاہم آج کے اس احتجاج نے امریکی عوام کے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ باور کروادیا ہے کہ یہ گورا سامراج انسانیت کے لیے کتنا وحشت ناک ہے، اس کی اس بربریت سے انسانیت کو بچانے کے لیے کس طرح اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔اس گورے سامراج نے تو دنیا میں مظلوموں اور معصوموں کو فنا کرنے میں کوئی کسر آج تک نہیں چھوڑی جس کی مثالیں ہمارے سامنے شام و عراق کی برباد ہوئی بستیاں اور بازار ہیں،افغانسان میں اس گورے ظالم نے بلوں میں رہنے والے جانوروں تک کو نہیں بخشا، بارود اور بموں سے انسانی لاشوں کے چیتھڑے اُڑانا کوئی عار والی بات اس کے سامنے نہیں تھی ۔ یہ تو غیروں پہ مظالم کا ذکر ہو رہا تھا۔ شاہنواز فاروقی صاحب اپنے ایک مضمون میں مغرب کی اپنوں کے تئیں درندگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’دنیا میں ظلم و جبر کا ذکر تو ہوتا ہے تو چنگیز خان کا نام لبوں پہ آتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ چنگیز خان نے ایک کروڑ سے زیادہ انسانوں کو قتل کیا۔مگر مغربی درندے تو صرف امریکیوں میں 15کروڑ سے زیادہ انسانوں کو نگل گئے ،لیکن ظلم و جبر کا ذکر آتا ہے تو کسی زبان پر اہل مغرب کی شیطانیت کا ذکر نہیں آتا‘‘۔آگے لکھتے ہیں کہ ساری دنیا آج بھی اہل مغرب کو مہذب ،انسان دوست ،علم پرور ،امن پسند،عقل پرست ،انسانی حقوق کے پاسدارجمہوری اور نہ جانے کیا کچھ سمجھتی ہے، اس سلسلے میں محدودچند مسلمانوں کے سوا کسی کے یہاں مغرب کی شیطنت کا فہم موجود نہیں۔

حالیہ واقعہ کے بعد امریکی عوام ،جن میں بیرون دنیا سے وہاں مقیم لوگوں کی خاصی تعداد بھی شریک تھی، کورونا وائرس کی مہا ماری کے باوجود اس سیاہ فام کے حق میں انصاف کے نعرے بلند کر رہی ہے۔ عوام کی بے چینی اور انصاف کے تئیں لگن اور جذبے کا عالم یہ تھا کہ جب گذشتہ دنوں احتجاج کی شدت زور پکڑ گئی تو مبینہ طور پہ ٹرمپ کو وائٹ ہاوس کے ساتھ ایک بنکر میں پناہ لینی پڑی ۔ اور گذشتہ روز پہلی دفعہ وائٹ ہاوس کے باہر انگریزی زبان میں ایک بینر آویزاں کیا گیا جس میں لکھا تھا کہ ’’ٹرمپ کو ہٹاؤ‘‘۔جب اس احتجاج نے ملک کے ہر حصہ میں شدت اختیار کی تو ٹرمپ کی وہ شیطانی اور درندگی کی حِس بیدار ہوگئی تو اس نے سیدھے دھمکی دے ڈالی تھی کہ اگر یہ سلسلہ نہیں تھما تو میں فوج کو تعینات کردوں گا جس کے جواب میں CNNکے ساتھ بات کرتے ہوئے ہوسٹن کے پولیس سربراہ نے ٹرمپ سے اپنا منہ بند ہی رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔مزید پولیس سربراہ نے مشورہ دیتے ہوئے ٹرمپ سے کہا کہ براہ کرم اگر آپ کے پاس کہنے کے لئے کوئی تعمیری بات نہیں ہے تو اپنا منہ بند ہی رکھیں۔مزید گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ سے کہا کہ ہمیں لوگوں کے دلوں کو جیتنے کی ضرورت ہے اور ہمیں نوجوانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہے۔ ہوسٹن کے پولیس سربراہ کے اس بے باک بیان کو کافی سراہا گیا۔ ٹرمپ کی ان دھمکیوں اور چودھراہٹ کے نشے کے باوجود سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ پولیس والے اپنی غلطیوں سے نادم ہوکے مظاہرین کے سامنے سر جھکا کر بیٹھے بھی دیکھے گئے، یہاں تک کہ واشنگٹن ڈی سی کے میئر نے تو وائٹ ہاوس کے باہر والی سڑک پہ راتوں رات’’ بلیک لائیوز میٹر ‘‘ یعنی سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی ضروری ہیں،کا نعرہ لکھوا دیا اور اس سڑ ک کانام بھی ’’بلیک لایئوز میٹر پلازہ ‘‘رکھا گیا۔ جارج فلائڈ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پولیس اصلاحات کا مطالبہ کر رہیں ہیں جب کہ مینا پولیس کونسل نے محکمہ کی تعمیر نو کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اس طرح کے انسانیت سوز واقعات رونما ہو نے کے بعد عوام کے ردعمل سے واقعتا دنیا میں مظلوموں اور بے بسوں کو ایک راحت نصیب ہوتی ہے کہ حکمران چاہے کتنا بھی ظالم ہو، اگر عام لوگ،سماج کا حساس طبقہ، افسران اور بیوروکریٹس اور میڈیا و دیگر ادارے حق کے لیے آواز اُٹھانا شروع کردیں تو ظالم کمزور پڑ جائیں گے، مظلوموں میں انصاف ملنے کی اُمیدیں جاگ جائیں گی، اقلیتوں اور پسماندہ عوام میں جینے کی آس بندھ جائے گی۔ لیکن ابھی تک کی بدنصیبی ہی ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں میں اس طرح سے ظلم کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونے کی کوئی ہمت نہیں جُٹاپاتا۔ بلکہ سب اپنے اپنے مفادات اور نسل پرستوں،فرقہ پرستوں کے اشاروں پہ چلنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں جس کے سبب معصوم انسانیت ساری دنیا میں سسک سسک کر مر رہی ہے ۔کاش دنیا میں لوگ بیدار ہوتے کسی تعصب کے بغیر انسانیت کو بچانے اور معصوموں کے قاتلوں کے خلاف ایک منظم تحریک چلاتے تاکہ دنیامیں انسانیت بے گنائی کی بھینٹ نہ چڑھ کے فنا ہونے سے بچ جاتی۔

یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا میں جب لوگ اور ادارے حق بیانی اور مظلوم کے ساتھ ہوتے ہیں تو دنیا کے ظالم حکمران بے بس ہو جاتے ہیں دنیا کے فرعون و نمرود غرق ہو جاتے ہیں ۔امریکہ کے ساتھ ساتھ دنیا میں اقلیتوں ،سیاہ فام لوگوں ،نچلی ذات کے طبقوں اور مسلمانوں کے ساتھ صدیوں سے ظالموں کی طرف سے ظلم روا رکھا گیا ہے ۔لیکن تعجب اس دو رنگی پہ ہوتا ہے۔ جس طرح سے مغرب کے کسی گورے یا کسی نسل پرست کی جان محترم ہے،اُسی طرح سے مشرق کے نچلی ذات کے طبقے اور مسلمان کی جان کو بھی احترام کی نظر سے دیکھا جانا چاہے۔

حالات و واقعات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جس طرح سے امریکہ میںآج نسل پرستی ،ظلم و جبر کے خلاف لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں،کاش دنیا کے دیگر ستم رسیدہ عوام کے خلاف بھی لوگ اٹھ کھڑے ہوجاتے! آج ایک اچھا موقع بھی ہے کہ دنیا کو بتادیا جائے کہ سب مل کر نسل پرستی اور فرقہ پرستی کو جڑوں سے اُکھاڑ پھینکا جائے۔ جہاں مغرب میں نسل پرستی اپنے عروج پہ ہے، وہیں برصغیر میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔کیا ہی اچھا ہوتا اور جمہوریت و انسانیت کا حق ادا ہوجاتا اگرتبریز انصاری کی بے رحمانہ ہجومی تشدد کے باعث ہلاکت کے بعد دنیا اور ملکی عوام صدائے احتجاج بُلند کرتی ،کیا ہی اچھا ہوتا کہ دادری کے اخلاق احمد کو ہجومی غنڈوں نے بڑی ہی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اُتارنے والے بے رحم انسان نما بھیڑیوں کو سنگین سزا دی جاتی؟

میڈیا جس کا کام مظلوم کی حمایت اور حقائق کی کھوج ہوتی ہے ،اسی میڈ یا نے ملک میں اس طرح کے انسانیت سوز واقعات سے نظر یں چُراکر یہ دکھانے کی کو کشش کی کہ اخلاق کے پاس گائے کا گوشت تھا یا بکری کا، اسی طرح سے سی ۔اے ۔اے کے خلاف احتجاج کو میڈیا نے کبھی دکھانے کی زحمت گوارا نہیں کی بلکہ اُلٹا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو مجرم بنا نے میں وہ فخر محسوس کررہے ہیں۔عوام کا انسانیت کے تئیں بے حس اور اقلیتوں پر مظالم کے خلاف خاموش تماشائی بنے رہنا ظالم کے حق میں کھڑا ہونے کے مترادف ہے ۔ مشرق کی عوام کو آج کے اس احتجاج سے سبق لینا چاہے کہ کس طرح سے امریکہ جیسے نسل پرست ملک میںانصاف کے حصول کے لیے اس وبائی بیماری میں اپنی جانوں پہ کھیل کر نسل پرستی کے خلاف اعلان بغاوت بُلند کیا ۔ہمیں بحیثت انسان ظالموں ،فرقہ اور نسل پرستوںکے خلاف بغیر کسی تعصب ،رنگ و نسل ،مذہب و ذات اُٹھ کھڑا ہونا چاہے ۔تب جا کے کوئی سیاہ فام چوراہے پر قتل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی دلت یامسلم ہجومی تشدد کی بھینٹ چڑھ کر موت کے گھاٹ نہیں اُترسکتا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */