انسانی حقوق کا عالمی منشور - پروفیسر جمیل چودھری

جدید دور کے دانشور اقوام متحدہ کے تحت ترتیب شدہ انسانی حقوق کو بہت ذیادہ اہمیت دے تے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انسانوں کے حقوق کا تحفظ صرف اقوام متحدہ کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہی ہوا ہے ۔قو می اور بین الاقوامی تحریکوں میں انہی حقوق کو حوالے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔

لیکن اسلام نے انسانی حقوق کا تحفظ 14 صد یاں پہلے نبی اکرم ص کی اپنی زبان مبارک سے حجتہ الوداع کے موقع پر بہت تفصیل سے بیان کر دیا تھا ۔اس حج کیلئے نبی اکرم ص نے خصوصی تیاری کی تھی ۔مدینہ کے ارد گرد آباد بہت سے قبائل کو خطوط لکھے تھے ۔ اور انہیں حج کیلئے ساتھ چلنے کو کہا تھا ۔ مدینہ کے انصار اور مہاجرین کی اکثریت بھی خوشی خوشی نبی اکرم ص کے ساتھ چلنے کو بے قرار تھی ۔۔ تمام ازواج مطہرات کو بھی ساتھ چلنے کا حکم ہوا
نبی اکرم ص کا قافلہ حج مدینہ سے 25 ذوالقعد 10 ہجری کو روانہ ہوا ۔تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ قافلے کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار تھی ۔رات مقام ذوالحلیفہ میں گزاری ۔صبح ہوتے ہی مسلمانوں نے احرام باندھا۔ امیر اور غریب ، سیاہ اور سفید ایک سادہ لباس میں ملبوس ہو گئے ۔

4 ذوالحجہ کو یہ قافلہ مکہ مکرمہ پہنچ گیا ۔ تمام حضرات سیدھے خانہ کعبہ پہنچے ۔ حجر اسود کو بوسہ دیا اور خانہ کعبہ کا طواف کیا ۔ 8 ذوالحجہ کے دن پورا قافلہ مکہ سے منی پہنچا ۔رسول اللہ ص ایک خیمہ میں فرو کش ہوئے ۔۔یہ خیمہ عرفات کی مشرقی جانب نمرہ بستی کے قریب نصب کیا گیا تھا ۔ رات وہیں گزاری ۔ اور اگلے روز صبح کی نماز پڑھ کر اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے ۔ اور جبل عرفات کا رخ کیا ۔ زوال شمس کے بعد رسول اللہ ص قصو ی اونٹنی پر سوار ہوئے اور میدان عرفات کے وسط میں تشریف لائے ۔ اونٹنی پر بیٹھے ہوئے بلند آباد سے خطبہ ارشاد فر مایا ۔خطبہ کا طریق یہ تھا کہ آپ ایک فقرہ ارشاد فرماتے اور چپ ہو جاتے اور ربیعہ بن امیہ اسی فقرے کو بلند آواز سے دھراتے اور ربیعہ پھر اسے دھراتے ۔اس طرح تمام مجمع نہ صرف اسے سن لیتا بلکہ ذہن نشین بھی کرلیتا ۔اب ہم خطبہ کے چیدہ چیدہ حصے نقل کرتے ہیں ۔یہاں سے آپ کو معلوم ہوگا کہ انسانی حقوق کا عالمی منشور 14 صدیاں پہلے مکہ مکرمہ میں طے کر دیا گیا تھا ۔اور اس سے بہتر منشور جدید دور کا کوئ بھی اد آرہ نہیں بنا سکا ۔

آپ نے حمد و ثناء کے بعد فرمایا " اے لوگو ، میری بات اچھی طرح سن لو کیونکہ شاید میں اس سال کے بعد اس جگہ تم سے دوبارہ نہ مل سکوں گا اے لوگو، قیامت تک کیلئے تمہاری جانیں اور تمہارا مال ایک دوسرے کی لئے اسی طرح محترم ہے جس طرح یہ دن اور یہ مہینہ محترم ہے ۔ عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کی جواب دہی کرے گا ۔اچھ طرح جان لو کہ میں نے تمہارے پرور دگار کی باتیں پہنچا دیں ہیں "
" جس شخص کے پاس کسی کی کئ امانت ہووہ اس کے مالک کو لو ٹا دے " آج سے ہر قسم کا سود ختم کیا جاتا ہے تم صرف اصل رقم کے حقدار ہو ۔تم کسی پر ظلم نہ کروتمہا رے ساتھ ظلم نہیں کیا جائے گا ۔اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا ہے کہ سود کو ختم کر دیا جائے عباس بن عبد المطلب کا سود جو دوسروں کے زمہ ہے وہ ختم کیا جاتاہے ۔"اب دیکھیں کہ آج کل کے دانشور جو اقوام متحدہ کے چار ٹر کے تحت حقوق کو اہمیت دےتے ہیں کیا اس چارٹر میں سود کے خاتمے کا کوئ ذکر ہے۔ انسانوں کا انسانوں پر سب سے بڑا ظل یہی ہے ۔

اور دور جدید کا معاشی نظام سود کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔اس کے بعد نبی اکرم نے مزید اعلان فر ما یا " یاد رکھو جس قدر خون زمانہ جاہلیت کے تھے یہ سب ختم کئے جاتے ہیں ۔اور سب سے پہلے جو خون زمانہ جا پلیٹ کا تھا اسے میں ختم کر تا ہوں اور یہ ابن ربیعہ بن حارث کا تھا ۔اے لوکو تمہارے ملک میں شیطان اپنی پرستش سے ہمیشہ کیلئے نا امید ہو گیا ہے اور آئندہ تمہیں اپنے دین کی شیطان سے حفاظت لازمی ہے " اے لوگو ، نسی کی بد عت کفر ہے وہ لوگ کسی مہینے کو کسی سال نفسانی غرض کیلئے حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال جب غرض نہ ہو حرام سمجھتے ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو مہینے حرام کئے ہیں صرف انکی گنتی پوری کرلیں ۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے حرام کئے ہوئے مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور اس کے حلال کئے ہوئے مہینے کو حرام ۔ اس طریق کار کو رد کیا جا تا ہے پھر فرمایااے لوگو ، تمہارا عورتوں پر حق ہے اور تمہاری عورتوں کا بھی تم پر حق ہے ۔ تم ہارا عورتوں پر یہ حق ہے کہ وہ کسی غیر مرد کو اپنے قریب نہ آنے دیں یہ بات تمہارے لئے غیض و غضب کا موجب ہو گی وہ بے حیائ کے ارتقا سے متعلق کنارہ کش رہیں ۔

اگر وہ ایسا کریں تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم انہیں اپنے سے علیحدہ سلا ئو ۔اور ایسی بدنی سزا دو جو زیادہ تکلیف دہ نہ ہو ۔ پھر اگر و ہ ان باتوں سے باز آجائیں تو عام دستور کے مطابق ان کے کھانے پینے کا خیال رکھو عورتوں سے متعلق بھلائ سے پیش آتے رہو ، وہ تمہاری مدد گار ہیں اور اپنے واسطے کچھ اختیار نہیں رکھتیں ۔ تم نے اللہ تعالیٰ کی اس امانت کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔اور اللہ تعالیٰ کے مکررکردہ کلمات ادا کرنے کے ساتھ انہیں اپنے لئے خود پر حلال کر لیا ہے " رسول اللہ ص نے فر مایا "اے لوگو ، میری باتیں گوش ہوش سے سنو کیونکہ میں نے خدائی پیغامتم تک پہنچا دیا ہے میں تم میں 2 چیزیں چھو ڑنے کا رہا ہوں ۔ اگر تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے اور وہ ہیں کتاب اللہ اور اسکے نبی کی سنت ۔اے لوگو میری باتیں غور سے سنو ۔ ہر مسلمان دوسرے کا بھائ ہے اور تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائ ہیں ۔ پس کسی شخص کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائ کی دلی رضا مندی کے بغیر اس کی ک وئ چیز لے پس تم ایک دوسرے پر ظلم کر نے سے باز رہنا ۔

اے اللہ تو سن رہا ہے کہ میں نے تیرا پیغام لوگوں تک پہنچادیاہے رسول اللہ چا ہتے تھے کہ لوگ خطبہ اچی طرح سن لیں اسی لئے رسول اللہ ص ہر کملہ پر تو قف فرما تے تھے اور ربیعہ اسے بلند آواز سے دہراتے رہے ۔ خطبہ کو مزید ذہن نشین کرانے کیلئے اثناء تقریر میں بعض سوالات بھی کرتے جا تے تھے ۔مثلا "کیا تم جانتے ہو کہ آج کونسا دن ہے " حاضرین جواب دیتے کہ آج حج اکبر کا دن ہے " کیا میں نے خداکا پیغام پہنچا دیا ہے" ہر طرف سے آواز آئ یقینا۔ آپ ص نے فر مایا" اللہ تو گواہ رہنا کہ میں نے اپنا فریضہ ادا کر دیا ہے ۔ جو خطبہ رسول اللہ ص نے عرفات میں دیا تھا وہی خ طبہ آج کل 9 ذوالحج کو دہرا یا جاتا ہے۔ ایک خطبہ کا ذکر منی کا بھی آ تا ہے ۔ صحابہ کرام نے انہیں کو یاد کر کے آگے منتقل کر دیا نبی اکرم ص نے یہ بھی فرمایا کہ جاہلیت کا دور ختم ہو گیا ہے اور علم کا دور شروع ہو گیا ہے ۔آپ نےعلم وحی کو آسمانی تعلیمات کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو قرار دیا ۔

جاہلیت کے زمانے میں عرب معاشرے نسل ،زبان، اور رنگ کے تفاخر کا تھا ۔نبی اکرم نے یہ تمام تفاخر ختم کر دیئے ۔تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے برابر قرار دیا ۔ بلال ایک کالے رنگ کے آذاد کردہ غلام تھے پھر کالے رنگ کے ،عربی نہیں بلکہ حبشی ۔ جب انہوں نے خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دی تو مکہ میں طوفان مچ گیا لیکن اذان چونکہ نبی اکرم کے کہنے پر دی گئ ۔کسی کو کچھ کہنے کی جرات نہیں ہوئ ۔ ایک قریشی سردار نے اس موقع پر ایک کملہ کہا جو تاریخ نے نوٹ کر کرلیا ۔"اے میرے باپ تو کتنا خوش قسمت ہے کہ یہ منظر دیکھنے کیلئے ژندہ نہیں ہے" ایک کالے رنگ کا حبشی خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑا ہو کر اذان دے رہا ہے ۔ یہ قریشی سرداروں کیلئے واضح انقلاب تھا ۔ نبی اکرم نے فرمایاکہ میں آج شام تمام قسم کے نسلی اور لسانی تفاخر کے خاتمے کا اعلان کر تا ہوں ۔ تم میں سے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی سرخ کو کالے پر فضیلت نہیں ہے آپ نے صرف اعلان نہیں کیا بلکہ تفاخر کے بغیر ایک ایسی سو سائٹی بنادی جس میں تمام انسان برابر تھے ۔

انسانیت کیلئے یہی عالمی سطح کا انسانی منشور تھا ۔21 ویں صدی ابھی اس واقئ برابری سے ابھی پیچھے ہے ۔ اس موقع پر آپ ص نے ایک رسم بد کا خاتمی کیا ۔ قبائل خانہ کعبہ کا ننگے طواف کرتے تھے ۔ مرد اورعورت دونوں اس میں شامل تھے ۔ آپ نے اس رسم قبیح کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد آج تک کبھی ننگے رہ کر طواف نہیں کیا گیا ۔ اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا گیا کہ میرے بعد کوئ نبی نہیں آ ہے گا ۔تمہارے بعد کوئ امت نہیں ہو گی
اس کے علاؤہ بھی کئ باتوں کا اعلان ہوا ۔۔ یہ باتیں لا کھوں صحابہ نے سنیں ۔ اور ذہن نشیں کر لیں وہیں پر یہ آیت نازل ہوئی ۔۔ ترجمعہ آج میں نے تمہارے دین مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ۔ اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا ۔سورت مائدہ ۔ اس حج کو بعض لوگ حجتہ الوداع کہتے ہیں بعض لوگ حجتہ الاسلام اور بعض حجتہ البلاغ کا نام دیتے ہیں ۔ در اصل یہ تینوں نام درست ہیں ۔موجودہ دور کے انسانی حقوق کے منشور کا موازنہ حجتہ الوداع کی باتوں سے نہیں کیا جاسکتا ۔ اسلام نے ان تمام باتوں پر عمل کر کے دکھایا جو خطبہ میں فرمایا گئ تھیں ۔۔
۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com