کیا ہوگا اگر کچھ نا کیا تو - حمزہ عالم

وہ ملک یا قوم جس میں نوجوانون کی تعداد بوڑھے لوگوں سے زیادہ ہو اُس قوم کو تو مصروف، ریسرچ کرنے والا اور نئے خیالات کا مالک ہونا چاہئے۔کیا پاکستان میں ایسا ہے؟قوم پاکستانی ہے مگر بلوچی، سندھی، پشتو، پنجابی‌اور مہاجر کے نام پر ملک و قوم کو جدا کیا ہوا ہے۔

تعلیم کا حال ایسا کہ بچپن سے انگلش پڑھ رہے ہیں مگر آج بھی انگلش نہیں آتی۔ قومی زبان اردو، اتنی مہذب زبان کو ابے تبے میں تبدہل کردیا ہے آخر چاہتے کیا ہیں ہم؟نوجوان اتنے کہ جہاں نظر ڈالو تیس سال سے کم عمر کے لوگ ہی نظر آتے ہیں،کہیں پان کی دکان پر تو کہیں چاۓ کے ہوٹل میں،گلیوں میں اور بائک پر،باتین اتنی کہ ختم‌ہی نہیں ہوتی مگر باتون کی ساری محنت عزتِ نفس کو تارتار کرنے میں گزر جاتی ہے۔ Technology سے لگاؤ ایسا کہ موبائل ہاتھ سے نکلتا ہی نہیں۔FaceBook, Instagram, Twitter اور پتا نہیں کون کون سی social applications کی بادشاہ بنی بیٹھی ہے پاکستان کی نسلِ نو۔ PUBG کے غازی TikTok کے جیالے، مگر کیا کچھ فائدہ ہے اس کا؟

دن میں‌ سگریٹ کے پورے پورے پیکٹ پھونک جانا، فحش باتون میں پورا دن گزار دینا اور الزام لگا نا کہ ہمیں اچھے والدین، اچھے اساتذہ اور اچھے حکمران نہیں ملے، مگر کبھی سوچا کہ ہم خود بھی صحیح ہیں یا نہیں کبھی سوچا کہ ہم ہیں اقبال کے شاہین جن کو اقبال نے چٹانوں میں بسیرہ کرنے کو اور ستاروں میں کمندیں ڈالنے کو کہا۔ کیا ہم وہی اہل ایمان ہیں جو مانندِ خُورشید جیتے تھے۔مجے لکھنا نہیں آتا مگر کوشش کر کے پوچھتا ہوں کیا ہم ایسے ہی رہیں گے۔ وقت کو ضائیع کرتے ہوۓ وقت کی قلت کی شکایت کرتے ہیں۔ نوجوانوں سے لائبریری، کھیل کے میدان خالی ہیں پڑھنے لکھنے کا شوق ختم ہوتا جارہا ہے۔

ہم کتابوں اور قلم سے دور ہورہے ہیں۔ میدانِ سیاست میں نوجوانوں کا کوئی رول نہیں تو آنے والے چند سالوں میں پاکستان میں قوم نہیں بلکہ کچھ سیاسی تنظیمون کے خاندان ہی حکومت کریں گے۔ کچھ سوچین اور پاکستان کی پہچان اس نئی نسل کو Boost کرنے کی کوشش کریں۔ کتابوں سے جوڑین ورنہ ترقی کرنا صرف خواب رجائے گا۔سوچین کیا ہوگا اگر کچھ نا کیا تو؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com