لیلۃ القدر - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

’’لیلۃ القدر‘‘بہت فضیلت اور برکت والی رات ہے،جوسال بھرمیں ایک دفعہ ،رمضان المبارک کے آخری عشرے میں طاق راتوں میں سے کسی ایک میں آتی ہے۔’’لیل‘‘کامطلب ’’رات‘‘ہے یافارسی میں’’شب‘‘بھی کہتے ہیں،اسی لیے اس رات کو ’’شب قدر‘‘بھی کہاجاتاہے۔

’’قدر‘‘کے کئی مطالب ہیں،زیادہ اہم اووقیع مطلب ’’اہمیت،فضیلت،قدرومنزلت اورعزت و وقار‘‘ ہے۔اس لحاظ سے یہ رات باقی تمام راتوں پر برتری کی حامل ہے اوراس رات کاحق اداکرنے والے بھی باقیوں سے افضل ہیں۔اس رات کی بزرگی کے پیش نظر قرآن مجید نے ایک الگ سورۃ میں اس کا ذکر کیاہے اوراپنے ایک خاص اسلوب بیان کواستعمال کرتے ہوئے قرآن مجیدنے اس رات کی فوقیت اس پیرائے میں ارشادفرمائی کہ ’’اورتم کیاجانو کہ لیلۃ القدر (کی اہمیت)کیاہے؟‘‘۔اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ یہ غیرمعمولی اہمیت والی ایک رات ہے۔لفظ’’قدر کاایک اورمطلب ’’تنگی‘‘ بھی ہے ۔

قرآن مجیدنے ان معنوں میں بھی اس لفظ کو استعمال کیاہے ،مثلاََ وَ اَمَّآ اِذَا مَا ابْتَلٰہُ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہ‘{۸۹:۱۶}ترجمہ:’’اورجب اللہ تعالی انسان کو آزمائش میں ڈالتاہے تواس کارزق تنگ کردیتاہے۔‘‘یہاں ’’قدر‘‘تنگی کے معنوں میں استعمال ہواہے۔تویہ لیلۃ القدر کے نام رکھنے کی دوسری وجہ ہے کہ اس رات آسمان سے اتنے زیادہ فرستے اترتے ہیں کہ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ پڑ جاتی ہے۔ایک حدیث نبویﷺکے مطابق زمین پر فرشتوں کی تعداد کنکریوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔یہ آسمان سے اترنے والے رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں جو عبادت،ذکروفکر،استغفار اور حصول علم میں مشغول لوگوں کو تلاش کرتے ہیں اور پھران کے اوپر جمع ہوتے ہوتے آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔لفظ’’قدر‘‘کاایک اور مطلب ’’تقدیر‘‘بھی لیاجاتاہے۔

اس کی طرف بھی اس چھوٹی سی سورۃ میں اشارہ موجود ہے کہ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوْحُ فِیْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ مِّنْ کُلِّ اَمْرٍ{۹۷:۴}ترجمہ:’’فرشتے اور روح(جبریل علیہ السلام)اس رات میں اپنے رب کے حکم سے ہراذن لے کراترتے ہیں‘‘۔اللہ تعالی کاہرحکم تقدیرمیں لکھاہے جسے فرشتے لے کر اس زمین پر نازل ہوتے ہیں اور تقدیرکاہرحکم نافذکر دیتے ہیں۔روایات کامفہوم ہے کہ اس رات لوح محفوظ،جس میں تقدیرلکھی ہے،وہاں سے اگلے سال کے معاملات نقل کرکے فرشتوں کو تھمادیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی نے خود ہی اس رات کی وجہ فضیلت بھی بیان فرمادی کی کہ اس رات میں چونکہ قرآن مجید نازل ہوا اسی لے یہ رات ہزارراتوں سے بھی بہترہے۔پس اہمیت رات کی نہیں ہے بلکہ اہمیت قرآن مجیدکی ہے۔قرآن مجید کی وجہ سے یہ رات قدروالی ہوگئی۔

اسی طرح قرآن مجیدکی وجہ سے رمضان المبار کا مبارک مہینہ بھی فضیلت کاحامل ہوا،اسی کتاب اللہ کے باعث جبریل کو بھی فرشتوں میں بزرگی مل گئی،اسی قرآن مجید کی بدولت حجاز مقدس کو اشرف البقعۃ الارض کامقام میسرآگیا اوراسی قرآن مجید کی وجہ سے امت مسلمہ کو خیرالامم کا مرتبہ نصیب ہوا،اسی قرآن مجید کے باعث مصحف قرآن کو دیگر کل صحف وکتب پر شرف و فضیلت مل گئی اور یہ قرآن مجید ہی ہے جس نے آپﷺ کی نبوت کااعلان کیااور آج تک اور تاقیامت یہ کتاب آپ ﷺکی نبوت پر مہر تصدیق ثبت کرتی رہے گی۔چنانچہ اس رات ’’لیلۃ القدر‘‘کو قرآن مجید سے میسرآنے والی نسبت نے محترم و مشرف بنادیاہے۔انسانوں کو یہ عز و شرف ذہن نشین کرانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

لیکن بڑی اور قابل قدر وجہ یہ ہے کہ کل انسان ہزاروں راتوں تک بھی بیٹھ کر ،اور عقل و خرد کے گھوڑے دوڑادوڑاکر ،اور فکروفہم کے عمیق و دقیق سمندروں میں غوطے لگالگاکر اور تاریخ و فلسفہ اور علوم شش جہات سے ہزارآگاہیوں کے باوجود اتناشاندارنظام کبھی بھی نہ بناپاتے جتنا بہترین اور انسانیت کی فوزوفلاح کاضامن نظام اس ایک رات میں عالم انسانیت کو قرآن مجید کی شکل میںمیسر آگیا،پس یہ ایک رات ہزار راتوں سے بہتر ثابت ہو گئی۔ یہ رات رمضان المبارک کی آخری عشرے میں طاق راتوں میں سے یعنی اکیسویں،تیئسویں،پچیسویں،ستائسویں یاانتیسویں میں سے ہوتی ہے۔فقہ جعفریہ کے مطابق انیسویں کی رات بھی ان میں شامل ہے۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھانے فرمایاکہ کہ آپ ﷺکاارشادہے کہ سب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

یہ رات گرمیوں میں نسبتاََ ٹھنڈی اور سردیوں میں نسبتاََ گرم ہوتی ہے۔اس رات کتے نہیں بھونکتے اور آسمان پر شہاب ثاقب بھی دوڑتے جلتے ہوئے نظر نہیں آتے اوراس رات کے بعد طلوع ہونے والے سورج میں تمازت بھی کم کم ہوتی ہے۔ان پانچ یاچھ راتوں میں سے یہ رات کسی ایک ہندسے پر معین نہیں ہے بلکہ ہر سال تبدیل ہوکر آتی ہے،یعنی کسی سال اکیسویں کی،کسی سال تیئسویں کی اورکبھی اس کے بھی بعدعلی ھذاالقیاس۔بزرگوں سے بے شمار اقوال روایت کیے گئے ہیں،کسی نے 21ویں شب، کسی نے 23ویں شب اورکسی نے 27ویںشب بتائی ہے وغیرہ،یہ سب اقوال اس لیے درست ہیں کہ یہ شب بدل بدل کر آتی ہے اور جس بزرگ نے جس رات کو ’’سب قدر‘‘پائی انہوں نے اسی کو بیان کردیا۔یہ رات جاگ کرگزاری جاتی ہے اور اس دوران مسجدوں کی رونقیں دوبالا ہو جاتی ہیں۔

ساراساراسال مسجدسے دوررہنے والے مسلمان بھی ان راتوں میں مسجدوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور انفرادی یااجتماعی عبادات میں حصہ ے کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جس نے اس رات ایمان اورنیک نیتی کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت کی اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔اس رات حضرت جبریل علیہ السلام فرشتوں کے لشکرکے ساتھ زمین پر تشریف لاتے ہیں اورجولوگ عبادات میں مصروف ہوتے ہیں ان سے مصافحہ بھی کرتے ہیں۔ گزشتہ امتوں میں طویل عمریں ہوتی تھیں اورلوگ سالہاسال اللہ تعالی کی عبادات میں مشغول محض رہاکرتے تھے۔روایات کا مفہوم ہے کہ آپﷺ کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی توآپﷺ افسردہ ہوئے کیونکہ آپ ﷺکے امتیوں کی عمر اتنی طویل نہیں ہے اور کم عمری کے باعث اعمال کی قلت دامن گیررہے گی۔اللہ تعالی نے اپنے محبوب کی دل جوئی کے لیے جبریل علیہ السلام کو بھیجا اور سورۃ قدر عطا ہوئی جس کے بعد آپﷺ کا چہرہ انور روشن ہو گیااور آپ ﷺسے منقول ہے کہ ایسی رات گزشتہ امتوں کو نہیں ملی تھی۔

اس سورۃ کے نزول کے بعد آپﷺ ہررمضان میں آخری عشرے کااعتکاف فرمایاکرتے تھے جس کے متعدد فضائل میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ معتکف کو بہرحال شب قدر میسر آتی ہے۔آپﷺ خود بھی عبادت میں مشقت کرتے تھے اور گھروالوں کو بھی بیدارکرتے اور انہیں عبادت کاشوق دلاتے۔آپ ﷺکے ایک ارشادکامفہوم ہے کہ جو اس رات کی برکتوں اور رحمتوں سے محروم رہا تووہ بس محروم ہی رہ گیا۔خواتین گھرمیں اعتکاف کریں اوراس رات کوعبادت میں گزاریں اور مرد حضرات مسجد میں اعتکاف کریں اور اس رات کو حاصل کریں۔اور جو لوگ اعتکاف نہیں بھی بیٹھتے وہ بھی کم از کم یہ طاق راتیں اعتکاف کی نیت سے مسجد میں گزاریں اور اپنے رب گزشتہ گناہوں کی معافی چاہیں،آئندہ تقوی کی زندگی کاعہد کریں اور میسر نعمتوں پر اللہ تعالی کی شکرگزاری کریں۔

’’شب قدر‘‘ اللہ تعالی کے حصول قرب کے لیے عبادات و مناجات کی رات ہے۔اس رات نوافل پڑھنے چاہییں جن کی تعداداگرچہ کم ہو لیکن قیام اور رکوع و سجود بہت طویل ہوں،حالت قیام میں لمبی قرات کی جائے اور رکوع و سجود میں اللہ تعالی کی کثرت سے تسبیحات کی جائیں اور چپکے چپکے آہ و زاری کی جائے اور حال دل بیان کیاجائے۔جولوگ قرآن مجید کا کوئی بہت بڑاحصہ سینے میں محفوظ نہیں رکھتے وہ صلوۃ التسبیح کااہتمام کرلیں تاکہ ان کی پیاس بجھ سکے۔نوافل میںانفرادی عبادات اللہ تعالی کو زیادہ پسند ہیں تاہم اگر کوئی شخص بالکل جاہل ان پڑھ ہے اور انفرادی عبادات کے مسائل نہیں جانتایا مال و دولت و دنیانے اس کے دل میں اس قدر گھرکرلیاہے کہ انفرادی عبادات کے لیے وقت نہیں نکل پاتاتو اسے اجتماعی نفلی عبادات میں شریک ہو جانا چاہیے۔اس دوران لاتعداد دعائیںمانگی جائیں،سب سے پہلے اپنے لیے ،پھروالدین اور رشتہ داروں کے لیے،پھر ملک و ملت کے لیے پھرکل امت اور انسانیت کے لیے اور آخر میں مرحومین کے لیے دعائیں مانگیں جائیں۔

دعاؤں میں پہلے دنیامانگی جائے اور پھرآخرت مانگی جائے کہ قرآن مجید نے یہی ترتیب بتائی ہے۔یہ مہینہ عام طورپر اور یہ رات خاص طورپر قرآن کی نسبت سے بزرگ و برتررات ہے ،اس لیے اس رات قرآن مجید کے لیے خاص طورپر وقت نکالا جائے۔سب سے افضل تویہ ہے کہ قرآن مجید کو اسی کی زبان میں براہ راست سمجھاجائے،بصورت دیگر ترجمہ و تفسیرکے ساتھ اس کتاب کو سمجھنے کی سعی کی جائے۔اس لیے کہ آپﷺ نے فرمایا ایک رات علم کرنا ستر راتیں عبادت کرنے سے بہتر ہے۔جو لوگ رمضان میں قرآن مجید تلاوت کر کے ختم کر لیتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ قرآن مجید سمجھنے کی کوشش بھی کریں۔عمر بھرمیں سینکڑوں قرآن مجید ختم کرلینے والوں کوچاہیے روزآخرت پکڑ سے بچنے کے لیے تفہیم قرآن کی بھی کوشش کرتے رہیں۔

اعلی تعلیمی سندنام کے کاغذ کاایک ٹکڑاحاصل کرنے کے لیے کئی کئی کتابوں کو چاٹ جانااور انہیں ہضم کرلینا جس کے نتیجے میں دنیاوی کامیابی ملے گی لیکن اخروی کامیابی کے حصول کی کتاب کو محض سرسری سا پڑھ کر آگے گزر جانا حق اداکرنا نہیں ہے۔اس کتاب سے جائزوناجائز ،صحیح و غلط اور حلال و حرام کی راہنمائی لینی ہے اور پھراس پر عمل بھی کرناہے تب ہی ہمارے نامہ اعمال یہ گواہی دے سکیں گے کہ یہ رات ہزارراتوں سے بہترہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com