نوجوان نسل میں سگریٹ اور شراب کی لت - وصال احمد

یہ جملہ اکثر ہم سنتے ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے ۔لیکن اس کے باوجود دنیا میں ہر جگہ سگریٹ پینا اور شراب پینا عام ہے ۔اور لگ بھگ تمام دنیا میں پائے جاتے ہیں ۔سگریٹ کی لت عموما نوجوانی میں لگتی ہے مگر پھر آہستہ آہستہ یہ ایک ایسی عادت بن جاتی ہے جو انسان آخری زندگی تک نہیں چھوڑ پاتا ۔نوجوانوں کو اپنی زندگی میں کئی تبدیلیوں اور کئی مقابلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

اور وہ صحیح طریقے سے فیصلے نہیں کر پاتے ۔اس عمر میں نوجوان باآسانی بغیر سوچے سمجھے کسی کی باتوں میں آجاتے ہیں ۔یا غلط فیصلے کرلیتے ہیں نوجوان نسل جو سوشل میڈیا،ٹی وی چینل ،فلموں یا انٹرنیٹ پر جو کچھ دیکھتے ہیں تو وہ جلد اس سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔دوستوں پر تو نوجوان جان نچھاور کرنے کو تیار ہوتے ہیں ۔اور اس کا زیادہ وقت اپنے فیملی کے بجائے دوستوں کیساتھ گزرتا ہے ۔جب اُس کے دوست ٹھیک ہوتے ہیں تو یہ نوجوان ٹھیک ہو گا ۔جب اُس کے دوست غلط کام کرتے ہیں۔سگریٹ پیتے ہے یا شراب پیتے ہے تو خود بخود یہ نوجوان یہ تمام غلط کام شروع کر دیں گے ۔کیونکہ یہ دوستوں اور اسی ماحول کا کام ہوتے ہیں ۔جب بھی ماحول اچھا ہوتا تو یہ نوجوان راہ راست پر ہوگا ۔غلط کاموں سے دور ہو گا ۔کئی نوجوان اپنے دوستوں کے اصرار پر سگریٹ کا پہلا کش لگاتے ہیں اور عادی ہو جاتے ہیں ۔گھر کا ماحول بھی بچوں اور نوجوانوں پر اثر کرتا ہے۔

اگر کوئی باپ کھلے عام سگریٹ پیتے ہیں جب بھی اس کا بچہ یا نوجوان اس کو دیکھتا ہے تو وہ نوجوان بھی اس اپنا عادت ڈالنے پر مجبور ہوتا ہے ۔اس لئے مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کا باپ بھی کھلے عام سگریٹ پیتا ہے۔میرے سروے کے مطابق 50 فیصد سگریٹ نوش نوجوان دوستوں سے جبکہ 50 فیصد نوجوان ٹی وی چینل ،فلموں ،انٹرنیٹ یا گھریلو ماحول سے متاثر ہو کر سگریٹ نوشی کی خطرناک لت کا حصہ بن جاتے ہیں ۔یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو اس پر ایکشن لیں ۔اس کے پینے کے بہت نقصانات ہوتے ہیں لیکن یہ بھی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس سے بے خبر ہیں ۔جب بھی کوئی شخص نشہ کرتا ہے ۔تو وہ پریشانی ،غصہ اور بے آرامی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔کام پر اس کی توجہ نہیں رہتی ۔سگریٹ نوشی کئی بیمارویوں کا سبب بھی بن جاتی ہے ۔

جب کوئی شخص سگریٹ پیتا ہے اور اس کے آس پاس جو لوگ بھی بیٹھے ہیں ۔اس کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔کیونکہ جب یہ دھواں دوسرے شخص کے منہ میں چلا جاتا ہے تو اس کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے ۔اکثر نوجوان اپنے آپ کو ہیرو بنانے کے لئے سگریٹ نوشی کرتا ہے اور بعد میں سگریٹ نوشی ان کی کمزوری بن جاتی ہے ۔اکثر نوجوان پڑھائی کی ٹینشن میں بھی سگریٹ نوشی کرتا ہے ۔اس کالم کا عنوان میں نے اس لئے رکھا کہ ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ اس پر سختی کریں میں نے اپنے گاوں میں دو دن پہلے دو بچے دیکھے تھے ۔ جو عمر سے بہت چھوٹے تھے لیکن وہ سگریٹ پیتا تھا جب بھی اس نے مجھ کو دیکھا تو وہ بھاگ گیا ۔

جب میں گھر واپس اور اس کے والدین کیساتھ ملا تو میں نے ان کے والدین کو کہا اور اس کے والدین نے ان کو سزا دیا ۔اس طرح پاکستان میں ہر جگہ یہ چیز عام ہیں ۔ہماری حکومت اس پر کوئی نوٹس نہیں لے رہا ۔سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے قریب جو دکانیں ہیں ان کو یہ کہنا چاہئیے کہ آپ ان بچوں پر سگریٹ مت فروخت کریں ۔میں اپ کے ساتھ وعدہ کرتا ہوں جب ہمارے معاشرے میں نشہ کے جو بھی اشیاء ہیں اگر یہ ختم ہو جائے تو ہمارا معاشرہ پرسکون ہو جائے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com