سادات شاہین اور جذبہ خدمت خلق - سجاداحمدشاہ کاظمی

حکومت وقت، صاحب استطاعت لوگ اور مختلف این جی اوز کیا امداد فراہم کریں گے؟ یہ امداد نجانے کب تک غریب لوگوں تک پہنچ پائے گی؟ اس انتظار اور اس امید کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ’’سادات شاہین‘‘ نامی نوجوان اتحاد نے خدمت خلق کا جس انداز میں بیڑا اٹھا رکھا ہے۔

خدا کرے کہ ان نوجوان حضرات کی یہ کاوش یوں ہی جاری و ساری رہے۔ مجھے نوجوانوں کے اس خفیہ خدمت مشن کا علم نہ تھا، جب مجھ پر کسی مقصد کے تحت تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا تو دل باغ باغ ہو گیا اور میں نے آسمان کی طرف دیکھ کر شکر ادا کیا کہ اس خدا نے ہم پر اسقدر رحم فرمایا ہے کہ ’’ ہمارے بیچ تاریکیوں کا گلا کرنے کے بجائے اپنے حصے کا چراغ جلانے والے نوجوان بھی پیدا کئے اور پھر ان نوجوانوں کو ناصرف جذبہ خدمت خلق بلکہ پہاڑوں سے بلند حوصلے بھی عطا کئے ہیں‘‘ ۔ اس نوجوان اتحاد کی بنیاد رکھنے والے نوجوان واقعی لائق تعریف ہیں اور ہم سب کو مل کر اسطرح کے جذبات کے حامل نوجوانوں کی بھرپور حوصلا افزائی بھی کرنی چاہئے۔

اس چھوٹے سے نوجوان اتحاد کا مختصر تعارف کروانے کے بعد خدمت خلق کی اہمیت کے ساتھ آج کا مضمون سمیٹنے لگا ہوں۔ اس نوجوان اتحاد ’’سادات شاہین‘‘ کی بنیاد مانسہرہ ، وادی سرن کے دور افتادہ علاقہ پنجول کے رہاہشی نوجوان سید سلیم شاہ نے ۲۰۱۹ میں رکھی اور پہلے دن سے ہی خدمت خلق (خصوصاً سفید پوش لوگوں کی خفیہ امداد) ان نوجوانوں کا منشور تھا، ان چند درجن نوجوانوں نے ہر ماہ اپنی محدود آمدن میں سے کچھ حصہ اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرنے کا فیصلا کیا اور آج یہ نوجوان اتحاد نا صرف ایک قافلا بن چکا ہے بلکہ بغیر کسی اشہار و تشہیر کے درجنوں سفید پوش اور غریب خاندانوں کا سہارہ بھی ہے۔ اہم بات تو یہ کہ ان نوجوانوں نے کسی ایمرجینسی صورتحال میں کسی کی مدد کرنے پر اکتفاء نہیں کیا ہوا بلکہ زمانے کے حالات جیسے مرضی ہوں ان نوجوانوں کا مشن جاری و ساری ہے۔

ان نوجوان حضرات نے کس کس کو کس قدر سپورٹ کیا یا کر رہے ہیں؟ اسکی وضاعت کرنا یقینًا ان نوجوانوں کے ویژن کے ساتھ غداری ہوگا، کیونکہ ان کا مقصد اشہار و تشہیر نہیں خدمت خلق ہے۔ اسطرح بنا کسی شہرت کے لالچ اور بغیر کسی تشہیر کے خدمت خلق کرنا عین عبادت بلکہ افضل ترین عبادت ہے۔ خدمت خلق انبیاء، اولیاء اور صالحین کی سنت ہے، اور جو شخص یا جماعت اس سنت کو زندہ کرتا ہے اسکی پشت پر انبیاء، اولیاء و صالحین کا ہاتھ ہوتا ہے، اسکے ساتھ خاوند قدوس کی خصوصی مدد بھی ہوتی ہے۔

حضرت محمدﷺ کی پوری زندگی خدمت خلق کا اعلٰی نمونہ تھی۔ آپﷺ معاشرے میں معتاجوں، مسکینوں کی دادرسی، یتیموں کے ساتھ ہمدردی اور پریشان حالوں کی مدد کرنے کے لئے مشہور تھے۔ چنانچہ آپﷺ کے ارشاد پاک کا مفہوم ہے؛ ’’ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہے گا تو اللّٰہ تعالٰی اسکی ضرورت پوری کرے گا، جو شخص کسی کی مصیبت دور کریگا تو اللّٰہ تعالٰی قیامت کے دن اسکی قیامت کی مصیبتوں میں سے مصیبت دور کرے گا(صحیح بخاری و مسلم) ‘‘ آپﷺ نے ایک دوسری جگہ فرمایا؛ ’’ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد اسوقت تک کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی (مسلمان بھائی) کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ (جامع ترمذی) ‘‘ ۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا:۔’’ قیامت کے دن اللّٰہ اپنے بندے سے فرمائے گا کہ اے بندے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی، بندہ حیران ہو کر پوچھے گا کہ اے میرے رب! تو تو رب العالمین ہے، میں تیری کیسے عیادت کرتا؟ تو اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا ؟ اگر تو اسکی عیادت کرتا تو اسے میرے پاس پاتا۔ اللّٰہ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا، تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، بندہ عرض کرے گا، اے پروردگار! تو تو رب العلمین ہے میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟ اللّٰہ فرمائے گا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا مگر تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا، اگر تو میرے اس بندے کو کھانا کھلاتا تو تو اس کا ثواب میرے یہاں پاتا۔

اسی طرح اللّٰہ کہے گا، اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے پانی مانگا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، بندہ حیران ہو کر کہے گا، اے میرے پروردگار! تو تو رب العالمین ہے میں تجھے کیسے پانی پلاتا؟ اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہیں پلایا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو میرے اس بندے کو پانی پلاتا تو اس کا ثواب میرے یہاں پاتا (صحیح مسلم)۔ اللّٰہ کریم نے قرآن میں ارشاد فرمایا ’’ ترجمہ۔ اے نبی! لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ اللّٰہ کی راہ میں کس طرح کا مال خرچ کریں؟ کہہ دو کہ جو چاؤ خرچ کرو لیکن جو مال خرچ کرنا چاؤ وہ درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی ماں باپ، قریب کے رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں اور مسافروں میں سے سب کو دو اور جو بھلائی تم کرو گے اللّٰہ اسے خوب جانتا ہے(سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۱۵)‘‘

قرآن پاک اور احادیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ خدمت خلق کی اللّٰہ اور اسکے رسولﷺ کے ہاں کیا اہمیت ہے؟ لیکن خدمت خلق کے نام پر عہد رواں میں دولت و شہرت سمیٹنے والے تو بے تحاشے پائے جاتے ہیں کمی ہے تو بس حقیقی خدمت خلق کی جسکا مقصد فلاح و اصلاح انسانیت ہو۔ ہر شخص اپنی ہی خواہشات کی دھن میں لگا ہوا ہے، اس حقیقت سے ماورا کہ دنیا میں ملنے والی نعمتوں پر کسی کا حق نہیں ہوتا، یہ اللّٰہ تعالیٰ کی مہربانی ہوتی ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے ان نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ہم سب کو بھی چاہئے کہ ہم بھی ان نعمتوں میں سے اللّٰہ کی مخلوق کا حصہ ضرور نکالیں اور یہ ضروری بھی نہیں کہ پیسہ ہی لگائیں بلکہ لوگوں میں پیار و محبت بانٹ کر بھی یہ حق پورا کیا جا سکتا ہے۔

البتہ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جہل میں گرے ہمارے معاشرے میں چند نوجوانوں نے اس پیغمبری مشن کا بیڑا اٹھایا ہے، محدود پیمانے پہ سہی مگر عظیم جذبے کے ساتھ اخلاص کے پیکر یہ نوجوان دن بدن مزید مسکینوں، مظلوموں، یتیموں اور بے سہارہ غریبوں کا سہارہ بننے کی طرف گامزن ہیں اور ان نوجوانوں کا یہ چھوٹا سا کاروان بڑی بڑی این جی اوز سے کہیں اعلیٰ مرتبے کا حقدار ہے کیونکہ ان کے مشن میں غریب اور سفیدپوش کی عزت نفس کا تماشہ قطعاً نہیں بنایا جاتا۔۔۔۔۔ خدا ان نوجوانوں کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com