قرآن سے جڑنے کا مہینہ‎ - نیاز فاطمہ

کتاب انسان کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے ایک مشہور کہاوت بھی ہے کہ"ایک کتاب آپ کی زندگی کو تبدیل کرسکتی ہے" اور اکثر اس طرح کے مشاہدات ہم کرتے ہیں کسی نے کوئی دینی کتا ب پڑھی تو اس کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوگئی۔

اور باقی کی زندگی دین کی راہ پر چل کر گزاری اس کے علاوہ کوئی کامیاب بزنس مین ہے تو اس کی کامیابی کے پیچھے کسی ایک کتاب کا ہی ہاتھ کارفرما ہوتا ہے کتاب اسی صورت میں اچھی ہوتی ہے جب اس کا مصنف قارئین کے حالات سے واقف ہو اور ان کے مسائل کے سلجھانے کا ہنر رکھتاہو آج جس کتاب کا تزکرہ ہے وہ کتابوں کی کتاب ہے یعنی قرآن کریم فرقان مجید جوکہ تمام کتابوں پر فضیلت رکھتی ہے۔

ہم پر چند ہی دنوں بعد رمضان کریم کامہینہ اپنی برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے کو تیار ہے رمضان الکریم کو قرآن پاک سے خاص نسبت ہے کیونکہ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اس لیے اس مہینے میں قرآن کریم کے ساتھ خاص تعلق قائم کرنا چاہئے قرآن کریم کی عظمت ا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کی جس کے ساتھ بھی نسبت ہے اس کا درجہ بھی بہت بلند ہے جیسے قرآن کریم سب سے افضل ہے اس لیے اس کی نسبت سے ہر منسلک کی فضیلت بھی بڑھ جاتی ہے جیسے قرآن کریم کو جو فرشتہ لے کر آیا وہ فرشتوں کےسردار جس نبی ﷺپر نازل ہوا آپﷺ انبیا کےسردار جس مہینے میں نازل ہوا۔

وہ مہینوں کا سردار جس رات میں نازل ہوا وہ ہزار راتوں سے بہتر اور آج جو اس کتاب سے جڑ جائے گا یہ کتاب اسے بھی عزتوں کی ترقیوں کی اوج ثریا تک پہنچادے گی جو اس کا حق ادا کرے گا قرآن کریم کے پانچ حقوق ہیں:(1) قرآن کریم پر ایمان لانا۔ (2) قرآن پاک کی تلاوت کرنا۔ (3) قرآن کو سمجھنا۔ (4) قرآن مجید پر عمل کرنا۔ (5) قرآن کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا ۔الحمدللہ ہم تمام مسلمان اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں مگر باقی کے چار حقوق سے کچھ نہ کچھ غافل ہیں ہمیں چاہیے کہ اس رمضان اس کوتاہی کا ازالہ کریں اور اپنا اور قرآن کا تعلق مظبوط بنائے۔

کیونکہ رمضان میں قرآن کے ساتھ زیادہ گزارنا حضورﷺ کی سنت ہے متعدد احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کرہمﷺ جبریل امین کے ساتھ قرآن کا دور فرماتے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متعدد احادیث مبارکہ اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں قرآن حکیم کی تلاوت فرماتے اور جبرئیل امین علیہ السلام کو سناتے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے :

حضرت جبرائیل امین رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دور کرتے۔ پس اس رمضان ہم نے کوشش کرنی ہے کے زیادہ سے زیادہ واقت قرآن پاک کو دے رمضان میں بھی ہمارے لیے کچھ نہ کچھ مضروفیت ہوتی تھی مگر اس سال جو رمضان ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے اس میں ہر بندے کو فراغت حاصل ہے۔

اسی لیے یہ بہترین موقع ہے کہ ہم قرآن سے جڑے اور اس کے ذریعے اپنے رب کا قرب حاصل کریں اور اس کو راضی کر سکے اللہ سبحان و تعالی سے دعا ہے کہ اس رمضان میں قرآن کریم سےجڑ نے اور اس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */