زمانے کے خداؤں کو خدا ہم کہہ نہیں سکتے - حفصہ افضل

الحَمْدُلِلّٰه ہر سال کی طرح اس سال بھی اللّٰه نے رمضان المبارک کا مہینہ عطا کیا۔ جس کے آنے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ جب بھی رمضان المبارک کا مہینہ قریب آتا ہے تو ہر طرف ایک خوشی کی لہر دوڑتی نظر آتی ہے۔

ہر ایک رمضان المبارک کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہے۔ لیکن اس سال دنیا کو ایک عجیب صورتحال درپیش ہے، ہر طرف، بلکہ پوری دنیا ایک وبائی مرض کورونا میں مبتلا ہے۔ ایک طرف رمضان المبارک کی خوشیاں اور دوسری طرف دل میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ ایسی صورتحال میں کیسے رمضان گزاریں گے۔ ایک خوف طاری ہے، ہماری مسجدیں بند ہیں نمازی گھروں میں نماز ادا کر رہے ہیں۔

یہ بے حد افسوس کا مقام ہے ہم سب کے لئے۔ اللّٰه پاک ہم سب پر اپنا رحم فرمائے۔ آمین۔ دوسری طرف نظر ڈالیں تو ہر ایک اپنا رمضان گزارنے کی پلاننگ کرنے میں مصروف ہے، چاہے وہ انسان ہو ، فلاحی ادارہ ہو، یا ملک کا میڈیا ہو۔ انسان ایک خاص مدت کے لیے اپنی پلاننگ کرتا ہے، دوسری طرف فلاحی ادارے بھی لوگوں کو رمضان المبارک کے حوالے سے راشن وغیرہ دینے کی پلاننگ کرلیتے ہیں کہ کس کو کس طرح چیزیں فراہم کرنی ہیں۔ تیسری جانب بات آتی ہے میڈیا کی۔۔ میڈیا معاشرے کا ذہن تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور معاشرہ کی سوچ کا دھارا مثبت رخ پر موڑ سکتا ہے۔ کیونکہ %90 سے زیادہ عوام میڈیا کو دیکھتی، سنتی اور سمجھتی ہے۔ تو ایسے میں میڈیا کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔

ہر رمضان المبارک میں میڈیا چینلز رمضان ٹرانسمیشن نشر کرتے ہیں۔ ملک کی آدھی سے زیادہ عوام اس ٹرانسمیشن کو سراہتی ہے دیکھتی ہے اور شرکت بھی کرتی ہے۔ تو ایسے میں اگر میڈیا کے ذریعے اخلاق و کردار کی بہترین مثالیں سامنے رکھی جاٸیں تو معاشرہ بہترین اصولوں سے اور بہترین راستے پر چلنے لگے۔ اور ہماری اسلامی ثقافت بھی قاٸم و داٸم رہے۔ ایک منٹ کو سوچئیے کہ کیا ہم ان لوگوں سے دین سیکھ سکتے ہیں جن کی مجموعی زندگی دین سے بیزاری پہ گزر رہی ہے؟؟؟
یا وہ ہمیں دین سیکھا سکتے ہیں جو دین کو ٹھیک طرح سمجھتے ہی نہیں؟؟؟

میں یہ کہوں گی کہ رمضان ٹرانسمیشن کے پروگرام ضرور نشر کیجیۓ لیکن علمائے کرام کے ذریعے اور انکی میزبانی کے لئے بھی انہی کے لیول کے افراد منتخب کیجیۓ تاکہ پروگرام بہترین نتائج فراہم کرسکے۔ بحیثیت مسلمان اور بحیثیت پاکستانی ۔یہ بہت غور طلب پہلو ہے۔ امید ہے کہ اس بات پر فوری اور ضرور ایکشن لیا جائے گا تاکہ دین اسلام کا صحیح ادراک ہو سکے۔ ہر مسلمان اور ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ اس چیز پر آواز اٹھائے تاکہ کل اللّٰه کے سامنے ہم جواب دے سکیں ایسا نہ ہو کہ ہم نے ان چیزوں کے لیے کوشش ہی نہ کی ہو اور ہمارا اللّٰه ہم سے ناراض ہو کیونکہ قرآن میں ارشاد ہے:

” کہ تم ایک ایسی امت ہو جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتی ہے اور برائیوں سے روکتی ہے“اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہﷺ پر یہ بات فرض ہے کہ تمھیں ہر حال میں لوگوں کوبرائیوں سے روکنا ہے اور نیکی کا حکم دینا ہے۔ اور بے شک اس چیز کا اجر اللّٰه رب العالمین کے ہاں ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • کیا ایمان اور اخلاص کے ساتھ اللّہ تعالیٰ کے گھر میں آنے والے نمازیوں کو روکنا درست ہوگا؟
    19 اپریل 2020 کے دلیل میں ایک صاحب کا مضمون پڑھا جس کا عنوان تھا.. نماز تراویح کے لیے مشاورت کیسی علماء کرام کے بارے میں ان کے خیالات جان کر بہت افسوس ہوا. ان کے مضمون سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے کرونا وائرس صرف مساجد میں آنے والے نمازیوں کے ذریعے ہی پھیل رہا ہے اور جو پورے شہر میں لوگ گروسری مارکیٹوں میں، گوشت، سبزی، مرغی کی دکانوں پر، بکریوں میں ہجوم لگا کر بیٹھے ہیں، وہاں پر تو کرونا وائرس کا گزر ہی نہیں ہوتا. شاید وہ بھول گئے ہیں کہ یہ وطن پاکستان ہم نے اللّہ رب العالمین سے اس وعدے پر حاصل کیا تھا کہ یہاں اسلام کے قوانین کا نفاذ کیا جائے گا مگر افسوس کہ اس ملک میں آج سب سے مظلوم یہ اسلام ہی ہے. وطن کی آزادی کے ساتھ ہی ایک ایسا طبقہ حکمران بن بیٹھا جو انگریز. حکمرانوں کا ہی ایک تسلسل تھا. جب علماء کرام نے ان حکمرانوں کو دین اسلام کے مطابق ملک کا آئین بنانے کا وعدہ یاد دلایا تو علماء کو پابند پابند سلاسل کر دیا گیا. بڑی جدوجہد کے بعد قرار داد مقاصد منظور ہوئی، جس پر آج تک بھی لبرل طبقہ خار کھاتا ہے. پے در پے قائم ہونے والی آمریتوں اور نام نہاد جمہوری حکومتوں، دونوں سے جنگ لڑ لڑ کر علماء کرام اور اسلامی تنظیموں نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ تسلیم کروایا اور ختم نبوت کا قانون منظور کر وایا. آج ان ہی علماء اور مفتیان کو صاحب مضمون فہم و فراست سے عاری سمجھ رہے ہیں کہ ان علماء سے تراویح کے اجتماع کے بارے میں مشاورت کی کیا ضرورت ہے؟
    شاید وہ بھول گئے ہیں کہ جس طرح جسمانی بھوک مٹانے کے لیے انسان گوشت، سبزی اور مرغی کی دکانوں پر جانے کے لیے مجبور ہے اسی طرح روح کو خالص غذا فراہم کرنے کے لیے اور اس توانائی بہم پہنچانے کے لیے یہی حضرت انسان مسجد میں جانے پر مجبور ہے. بے شک نماز گھر میں بھی ادا کی جاسکتی ہے لیکن جب انسان اجتماعی طور پر اپنے رب کے سامنے عاجزی اور انکساری کے ساتھ جھکتا ہے اور اپنی خطاؤں کی معافی چاہتا ہے تو اپنے رب کو اور بھی محبوب ہو جاتا ہے. یوں بھی حکومت اور علماء کرام کے درمیان جب یہ بات طے کی گئی ہے کہ حکومت کی طرف سے دی گئی ایس او پیز پر عمل درآمد کی پوری کوشش کی جائے گی اور لوگوں کو مساجد کے منبر سے بھی احتیاط برتنے کے لیے کہا جائے گا تو ہمیں پہلے سے اس معاملے میں بد گمانی پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے. اللّہ تعالیٰ ہم سب کے لیے اس رمضان المبارک کو خطاؤں سے معافی کاذریعہ بنائیں اور ہم سب کو دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائیں آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */