ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ۳۰ مارچ-میر افسر امان

آنے والی ۳۰؍ مارچ ۲۰۲۰ء کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی مظلومہ امت کے اغوا ہونے کے ۱۷؍ سال مکمل ہونے والے ہیں۔امت مسلمہ کی اس پڑھی لکھی حافظہ قرآن خاتون کو تین محصوم بچوں کے ہمراہ پاکستان میں اغوا کیا گیا تھا۔

ایک عرصہ تک اس کی بوڑھی ماں اور خاندان اسے تلاش کرنے کی جد و جہد کرتے رہے۔ پانچ سال بعدایک نو مسلمہ برطانیہ کی صحافی، محترمہ مریم ریڈلے نے اس کے افغانستان کی جیل ،جو بین الالقوامی دہشت گرد امریکا کے زیر کنٹرول تھی، میں موجود ہونے کا ذکر اپنی پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ اس پریس کانفرنس میں پاکستان کے، آج کے وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان بھی شریک تھے۔یہ ظلم ہمارے ملک کے ذبردستی بننے والے حکمران بزدل کمانڈو ڈکٹیٹرجنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔ زمانہ بھی کیسے کیسے رنگ دکھاتا ہے۔

جو حکمران ملک و قوم کے محافظ ہو نے کا حلف اُٹھاتے ہیں ،وہ ہی اپنی عوام کے دشمن بن جاتے ہیں۔ قوم کے دشمنوں کے سامنے سرنڈر ہو کر ملک کے وفادار، ہونہار اور دانشوروں کو پیسے کی خاطر دشمن کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ کوئی الزام نہیں، بلکہ وہ خود اپنی کتاب ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ میں انکشاف کر چکا ہے کہ ڈالر کے عوض پاکستان کے ۶۰۰ شہریوں کو امریکا کے حوالے کیاتھا۔ ان میں مظلومہ امت ۸۶ سالہ قیدی ڈاکٹرعافیہ صدیقہ بھی شامل ہے۔

امریکا نے ڈکٹیٹر کو دھمکی دی تھی کہ افغان طالبان کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے کے لیے امریکا کا ساتھ دو، ورنہ تمھیںپتھر کے دور میں دکھیل دیا جائے گا۔ ڈکٹیٹر نے کور کمانڈروں اور سیاستدانوں سے مشورے کے بغیر ایک فون کال پرمریکا کے ۹ مطالبات منظور کر لیے۔ امریکا کو لاجسٹک سپورٹ کے نام پر پاکستان کے زمینی ،بحری اور فضائی راستے دے دیے ۔ امریکی کہتے ہیں کہ ہم تو سوچ رہے تھے کہ شاید ڈکٹیٹر ۹ میں سے آدھے مطالبات منظور کرے گا۔ مگر ڈکٹیٹرنے انتہانی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا کے ۹ کے ۹ مطالبات مان لیے۔ اس کی وجہ سے پاکستان اور برادر ملک افغانستان کو بربادی کا سامنہ کر نا پڑا۔ مکافات عمل دیکھیں کہ ڈکٹیٹر آج خود برباد اور ذلیل ہوکرملک سے فرار ہے۔

ڈاکٹر عافیہ کے متعلق ذرد صحافت کے ذریعے غلط باتیں منصوب کی گئیں۔کہا گیا کہ وہ امریکا کی شہری ہیں۔ دہشت گردوں کی ساتھی ہے۔نیوکلیئر سائنسٹ ہے۔ڈاکٹر عافیہ کی خاندانی زندگی پر بھی حملے کرائے گئے۔ان سب الزامات کا جواب ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں دیا۔ اس بات کوہم نے اپنے ایک کالم’’ ۸۶ سالہ قیدی مظلومہ امت ڈاکٹر عافیہ صدیقی‘‘ میںبیا ن کیا۔ یہ کالم نوائے وقت میں شائع ہوا ۔ ڈاکٹر فوزیہ نے ہ کالم پڑھا اور ہم سے رابطہ کیا۔ ہمارا تعلق بھی اسے کالم کی وجہ سے ہوا تھا۔

ہم نے اس کالم میں لکھا کہ ڈاکٹر عافیہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اورپاکستانی شہری ہے۔پاکستانی میڈیا ان کونیوکلیئر سائنسٹ اور امریکی شہری لکھتا رہا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی صاحبہ نے اپنے ایک انٹرویو، جو نوائے وقت سنڈے میگزین مورخہ ۱۰؍ ۱کتوبر ۲۰۱۰ ؁ ء میں شائع ہوا’’ کہا کہ حکومت کے نمائندے اور بعض نامور صحافی غلط بیانی کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نیوکلیئر سائنسٹ اور امریکی شہری ہے یہ غلط ہے۔ وہ leaning through ammitaton میں پی ایچ ڈی ہے‘‘۔

پاکستان کے سارے سیاست دانوں نے الیکشن مہم کے دوران ڈاکٹر عافیہ کے خاندان اور پاکستان کی عوام سے وعدے کیے کہ وہ الیکشن جیت کر سب سے پہلا کام ڈاکٹر عافیہ کو واپس لانے کا کریں گے۔ اس میںنواز شریف صاحب،یوسف رضاگیلانی صاحب، آصف علی زرداری صاحب اورعمران خان صاحب شامل ہیں۔ہم اپنے درجنوں کالموں میں اس دھکڑے کو بار بار بیان کر چکے ہیں کہ ان سب نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ بلکہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی مہم چلانے والے اس کی بہن ڈاکٹر فوزیہ کو باربار ذلیل کیا۔

اس میں ڈیم بنانے والے چیف جسٹس صاحب نے تو یہ کہہ کر مقدمہ ختم کر دیا کہ ہم حکومت کو حکم نہیں جاری کر سکتے کہ ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان واپس لائے۔جبکہ سندھ ہائی کورٹ اپنے ایک فیصلہ میں حکومت کو حکم دے چکی ہے کہ امریکا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کر کے ڈاکٹر عافیہ کوپاکستان واپس لائے۔ ڈاکٹر عافیہ کا خاندان پڑھا لکھا ایک مذہبی گھرانا ہے۔ اس خاندان کے بزرگوںکا اسلام اور مسلمانوں سے لگائو کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ تحریک خلافت کے دوران اس میں شرکت کے ساتھ ساتھ اپنی ایک جائیداد خلافت فنڈ میں دی تھی۔ خود ڈاکٹر عافیہ حافظہ قرآن ہیں۔

ان کے بچوںنے بھی قرآن شریف حفظ کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو قرآن اور حدیث کی اسلامی تعلیمات پر ملکہ حاصل ہے۔مختلف مذاہب کے تقابلی جائزے کے بعد عیسائیت اور یہودیت پر ریسرچ کی ۔اس کے استاد پروفیسر نوم چومسکی نے قابلیت کے اعتراف میں کہا تھا ’’عافیہ جس جگہ جائے گی وہاں سسٹم کو تبدیل کر دے گی‘‘ڈاکٹر عافیہ کہتی تھیں کہ امریکہ نے مجھے دنیا کی تعلیم دی ہے۔ میں امریکی عوام کو دین کی تعلی ۲دونگی۔ ڈاکٹر عافیہ نے دین کی تبلیغ کے لیے امریکہ میں’’ اسٹیٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ اینڈ ٹیچنگ‘‘ قائم کیا تھا۔ جس میں اسلام پر لیکچرز کا اہتمام ہوتا تھا۔ جسے لاتعداد لوگ سنتے تھے ۔ ڈاکٹر عافیہ نے ہزاروں کی تعداد میں قرآن شریف تقسیم کیے ۔ خاص کر جیلوں میں موجود قیدیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ امریکی حکومت نے متعدد بار شہریت دینے کی پیش کش کی ،مگر ڈاکٹر عافیہ نے انکار کر دیا۔ شاید یہی وجہ ایف بی آئی کو کھٹکنے لگی۔

صاحبو!امریکا کے ساتھ پاکستان کی ۷۰ سال سے دوستی ہے۔ پاکستان سیٹو سینٹو کے دفاحی معاہدوں میں بھی شریک رہا۔ امریکا افغان جنگ میںامریکا نے پاکستان کونان ناٹو اتحادی بھی بنایا۔امریکی جنگ کی وجہ سے پاکستان کا ۵۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ امریکا کی وجہ سے ہمارے ملک میں دہشت گردی ہوئی۔پاکستان کے سیکڑوں سولین اور فوجی شہید ہوئے۔ امریکہ کو روس کے خلاف یو ٹو اُرانے کی اجازت دے کر روس سے دشمنی مول لی۔ تین پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو امریکا کے حوالے کیا۔ امریکا کو اسلامی افغانستان پر حملے کے لیے پاکستان کے راستے دیے۔ امریکہ جنگ میں شریک بھی ہوئے۔

پاکستان امریکا سے مل کر روس سے لڑا۔ پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے امریکا نیوورلڈ آڈر بنا ۔ امریکاکے ساتھ مذاکرات میں افغان طالبان بھی نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا بھی مطالبہ رکھا۔ معاہدہ کراتے وقت عمران خان بھی امریکا سے سودی بازی کر سکتا تھا۔نہ جانے امریکا کے ساتھ غلامی کا کون ساخفیہ معاہدہ ہے ،یا کیا مجبوری ہے کہ اتنے سارے کام کرنے کے باوجود ، ڈاکٹر عافیہ کی بوڑھی ماں سے وعدے کر کے، پاکستان کے سارے حکمران قانون کے مطابق بھی، یعنی قیدیوں کے تبادلہ کا معاہدہ کے تحت بھی ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان واپس نہیں لا سکے؟

معروف امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی جیل میں قیدیوںمیں کرورنا وائرس پھیل چکا ہے جس کو امریکا نے دنیا کو نہیں بتایا؟ایسی حالت میں ڈاکٹر عافیہ کے خاندان کو پریشانی لا حق ہو گئی ہے۔ہم ایک بار پھر عمران خان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ انسانی بنیاد پر امریکا سے بات کرے اور ڈاکٹر عافیہ کو واپس پاکستان لائے۔ہم کئی بار لکھ چکے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان واپس لانے والا حکمران قوم کا ہیرو بن جائے گا۔وہ اس لیے ڈاکٹرعافیہ مظلومہ امت، پاکستانیوں کے دلوں میں بستی ہے۔ اس کا سہرا عافیہ موومنٹ چلانے والی ڈاکٹر فوزیہ کے سر سجتاہے۔

اس نے دن رات محنت کر کے پاکستان اور ملکوں ملک ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے مہم چلا رکھی ہے۔ آج کا کالم بھی عافیہ موومنٹ اور ان کی طرف سے ای میل اپیل کی بنیاد پر لکھا گیاہے۔اس وقت ساری دنیا کرونا وائرس کی زد میں ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے دکھوں میں شریک نظر آتی ہے۔ لہٰذاجناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان کو ایک بار پھراللہ کی طرف سے موقعہ مہیا ہو گیا ہے ۔امریکا سے انسانیت کی بنیاد پربات کر کے ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان واپس لائے۔اللہ ڈاکٹرعافیہ، مسلمانوں اور ساری انسانیت کو کررونا وائرس سے بچائے ۔ آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com