مشاہداتِ معراج (حصہ اول)-مفتی منیب الرحمن

معراج النبی ﷺ تاریخ نبوت ، تاریخ انسانیت حتیٰ کہ پوری کائنات میں ایک محیّر العقول واقعہ ہے ،جس کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی ،یہ ذاتِ پاکِ مصطفی ﷺ کا اعجاز اور بے پایاں اعزاز ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیۂ مبارکہ میں صراحت کے ساتھ اور سورۃ النجم کی ابتدائی اٹھارہ آیات میں اشارات وکنایات کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا ،مگر یہ اشارات ایسے ہیں ، جن کے بارے میں علم المعانی میں کہا گیا ہے :’’اَلْاِشَارَۃُ اَبْلَغُ مِنَ التَّصْرِیْح‘‘یعنی اشارہ صراحت سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے اور اس کا پیغام زیادہ واضح اور موثر ہوتا ہے ۔سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ایک مقصدِ معراج یہ بیان فرمایا گیا :’’تاکہ ہم انہیں اپنی بعض نشانیاں دکھائیں‘‘اور سورۂ النجم آیت:18میں فرمایا: ’’بے شک (اس نبی نے)اپنے رب کی نشانیوں میں سے سب سے بڑی نشانی کو ضرور دیکھا ‘‘ اور اسی سورت کی آیت:12میں فرمایا: ’’کیا تم اُن سے اس بات پر جھگڑ رہے ہوجو انہوں نے دیکھا‘‘۔

معراج کا بیان احادیثِ مبارکہ میں بھی آیا ، تیس سے زائد صحابۂ کرام نے واقعہ معراج کو بیان کیا ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع کی طرح ،جسے مختلف روایات کے مطابق ایک لاکھ سے زائد صحابۂ کرام نے سنا اورمتفرق طور پر بیان کیا ،اسی طرح واقعۂ معراج بھی از اول تا آخر کسی ایک روایت میں ترتیب کے ساتھ بیان نہیں ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ کا شِعار تھا کہ کسی واقعے کے مختلف گوشوں کو مختلف مواقع پر مخاطَبین کی ذہنی استعداد کے مطابق حسبِ ضرورت بیان فرماتے ، چنانچہ حدیث کی کسی کتاب میں یہ واقعہ ایک ترتیب کے ساتھ مروی نہیں ہے ۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے مختلف روایات میں منطقی اور واقعاتی ربط پیدا کر کے انہیں ایک ترتیب کے ساتھ شرح صحیح مسلم ج:1میںصفحات :716تا732 پریکجا کرکے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ہر نبی کو کسی نہ کسی امتیازی شان سے نوازا ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ’’اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کے اسرار ورموز دکھائے (الانعام:75)‘‘،شاعر نے کہا تھا:

ہرکس بقدر خویش بجائے رسیدہ است

آنجا کہ جائے نیست تو آنجا رسیدہ ای

یعنی ہر صاحبِ کمال اپنے مرتبے اور استعداد کے مطابق کسی بلند مقام پر پہنچا ، لیکن یارسول اللہ! آپ وہاں پہنچے جہاں زمان ومکان کی حدود ختم ہوجاتی ہیں ، امام احمد رضا قادری رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک نعت میں رسول اللہ ﷺ کی رفعتوں کو اپنے ذوق اور علمی شان کے مطابق بیان کیا ، لیکن آخر میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے:

وہی لامکاں کے مکیں ہوئے ،سر ِعرش تخت نشیں ہوئے

وہ نبی ہے جس کے ہیں یہ مکاں، وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں

لوگ کہتے ہیں :نبی کو حد سے بڑھا دیتے ہیں اور وہ اسے شرک سے تعبیر کرتے ہیں،حالانکہ زمان ومکان کی حدود مخلوق ہی کے لیے ہوتی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی ذات زمان ومکان کی حدود سے ماورا ہے ،ابدی ہے ، ازلی ہے ، لا متناہی ہے ، صمدی ہے ، سرمدی ہے، امام احمد رضا قادری نے لکھا:’’کسی علم کی اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تخصیص ، اس کی ذات پاک میں حصر اور اس کے غیر سے مطلقاً نفی چند وجوہ پر ہے:

(۱) علم کا ذاتی ہونا کہ بذاتِ خود بے عطائے غیر ہو،(۲) علم کا غِنا کہ کسی آلۂ جارحہ،تدبر، فکر ونظر اوراِلتفات واِنفعال کا بالکل محتاج نہ ہو(یعنی علمِ حضوری ہو)، (۳) علم کا سرمدی ہونا کہ ازلاً ابداً ہو، (۴) علم کا وجوب کہ کسی طرح اس کا سلب ممکن نہ ہو، (۵) علم کا اثبات واستمرار کہ کبھی بھی کسی بھی وجہ سے اس میں تغیرو تبدل اور فرق و تفاوت کا امکان نہ ہو، (۶) علم کا اَقصیٰ غایتِ کمال پر ہونا کہ معلوم کی ذات و ذاتیات، اَعراض، احوالِ لازمہ، مُفارقہ، ذاتیہ، اِضافیہ، ماضیہ، آتِیہ (مستقبَلہ) موجودہ، ممکنہ سے کوئی بھی ذرّہ کسی وجہ سے مخفی نہ ہوسکے، ان چھ خصوصیات پر مطلق علم اللہ وحدہٗ لا شریک کے ساتھ خاص اور اس کے غیر سے مطلقاً منفی، یعنی کسی کو کسی ذرہ کا ایسا علم جو ان چھ وجوہ سے ایک وجہ بھی رکھتا ہو، حاصل ہونا ممکن ہی نہیں ہے جو غیرِ خداکے لیے(خواہ وہ عقولِ مفارقہ ہوں یا نفوس ناطقہ) ایک ذرے کابھی ایسا علم ثابت کرے، یقینا اجماعاً کافر مشرک ہے، (الصمصام،ص:6،موضحاً)‘‘۔

معراج النبی ﷺ کا واقعہ بے شمار معجزات ،رفعتوں اور عظمتوں پر مشتمل ہے ، ہمارے ہاں بالعموم معراج النبی ﷺ کے موقع پر واعظین اورخطبا ء اپنی اپنی استعداد اور فنِ خطابت کے مطابق انہی عظمتوں کا بیان کرتے ہیں ،کیونکہ اس سے سامعین کو روحانی سرور نصیب ہوتا ہے ، اُن کے دلوں میں عظمتِ مصطفی ﷺکی جَوت جگائی جاتی ہے اور عشقِ مصطفی ﷺ کی شمع فرُوزاں کی جاتی ہے اور یہ بھی اپنی جگہ ایک اعلیٰ واَولیٰ مقصد ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس روش سے ہٹ کر معراج النبی ﷺ کے اُن شعبوں اور جزئیات کو بیان کیا جائے ، جو ہماری اصلاح کے لیے ضروری ہیں ،سبق آموز ہیں ، ان سے خیر کے حصول کی ترغیب ملتی ہے اور شر سے بچنے کے لیے تخویف وترہیب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اُن میں سے سب سے اہم عالَمِ برزخ ،ثواب وعقاب اور جزاوسزا کے تمثیلی مشاہَدات ہیں اور سطورِ ذیل میں ہم انہی کا بیان کر رہے ہیں،اس سے اپنی اور اپنے دینی بھائیوں کی اصلاح مقصود ہے ، ہم اس کا آغاز اپنے طبقے سے کرتے ہیں:

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جارہا تھا ،میں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں، جبریلِ امین نے کہا: یہ دنیا دار خطیب ہیں ،جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھلا دیتے تھے ، حالانکہ وہ کتابِ الٰہی کی تلاوت کرتے تھے (اور جانتے تھے کہ احکامِ شرعیہ سے کسی کو استثنا نہیں )،پس کیا وہ عقل نہیں رکھتے ،(مسند احمد:12856)‘‘،امام بیہقی نے بیان کیا ہے:

(1) ’’آپ ﷺکا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے ، جونہی زبانیں اورہونٹ کٹ جاتے ،وہ پھرپہلی صورت پر بحال ہوجاتے اور اُن میں کوئی کمی نہ ہوتی ، نبی کریم ﷺ نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں، جبریلِ امین نے کہا: یہ آپ کی امت کے فتنہ پرور خطیب ہیں‘‘۔

(2)’’آپ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جس نے لکڑیوں کا ایک گٹھا جمع کر رکھا تھا ، وہ اُسے اٹھا نہیں پاتا تھا ، لیکن حِرص کے سبب اُس میں اور لکڑیاں ڈالتا جاتا ، نبی کریم ﷺ نے پوچھا: جبریل! یہ کون ہے ، جبریلِ امین نے عرض کی: یہ آپ کی امت کا وہ شخص ہے جس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہیں ، اُن کو ادا نہیں کرپاتا اور مزید امانتیں جمع کرتاجاتا ہے‘‘۔

(3)پھر آپﷺ کا گزر ایک پتھر کے پاس سے ہوا جس سے ایک بڑا بیل نکلتا ہے ،وہ دوبارہ اس میں داخل ہونا چاہتا ہے ، لیکن داخل نہیں ہوپاتا ،نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جبریل! یہ کیا ہے، جبریلِ امین نے کہا: یہ شخص شہر میں (فتنہ برپا کرنے والی )کوئی بات کرتا ہے ، پھر (اُس کے نتائج دیکھ کر)اس پر نادم ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اُسے واپس لے لے (تاکہ فتنہ فرو ہوجائے )، لیکن ایسا کر نہیں پاتا،(دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہَقِی،ج:2،ص:397)‘‘۔ اس کے مظاہرہم آئے دن اپنے گِردوپیش میں دیکھتے رہتے ہیں ، سیاسی رہنما ترنگ میں آکر کوئی بات کہہ دیتے ہیں ،پھر جب اس پر ردِّعمل آتا ہے تو یا تو سِرے سے انکار کردیتے ہیں یا بہانے تراشتے ہیں کہ میرا مطلب یہ نہیں تھا ، وہ نہیں تھا۔ لیکن بعض باتیں کسی تاویل یا توجیہ کی محتاج نہیں ہوتیں، بلکہ اپنی وضاحت آپ ہوتی ہیںاورپھر گریز کے لیے جو بھی حیلہ اختیار کیا جائے ، وہ ’’عذرِ گناہ بدتر از گناہ‘‘ کامصداق ہوتا ہے، اسی لیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اُسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا( اگر اسے اس کی توفیق نصیب نہیں ہے تو )چپ رہے،(صحیح البخاری:6018)‘‘۔

(4)’ ’پھر آپ ﷺ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا ،جن کے سروں کو بھاری پتھر سے کچلا جارہا تھا ، جب سر کچل دیا جاتا تو پھر وہ اصل حالت پر آجاتااور یہ کیفیتِ عذاب مسلسل جاری رہتی ،آپ ﷺ نے پوچھا: جبریل!یہ کون لوگ ہیں ،جبریلِ امین نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نمازوں سے بوجھل ہوجاتے ہیں‘‘،یعنی وہ نمازوں کو اپنے اوپر بار محسوس کرتے ہیں، جیساکہ قرآنِ کریم میں ہے: ’’بے شک نماز ضروربھاری ہے مگر اُن پر نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں، جنہیں یقین ہے کہ (مرنے کے بعد) وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور یقینا وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، (البقرہ: 45-46)‘‘۔ خود رسول اللہ ﷺ کی کیفیت حدیث پاک کے مطابق یہ تھی:

حضرت انس بیان کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری دنیا سے (مجھے تین چیزیں پسند ہیں )، (پاکباز )عورتیں ، خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے، (سنن نسائی:3939)‘‘۔سو اللہ تعالیٰ کے رسول مکرم ﷺ کے لیے نماز قلب کا سرور اور آنکھوں کی ٹھنڈک تھی، جبکہ منافق کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بے شک منافق (اپنی دانست میں) اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی ان کو غافل کر کے مارے گااور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو لوگوں کے دکھاوے کے لیے کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کا ذکر بہت کم کرتے ہیں، وہ (ایمان اور کفر کے )درمیان ڈگمگا رہے ہیں ،(صدقِ دل سے)نہ اس طرف ہیں اور نہ اُس طرف اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو آپ اُس کے لیے کوئی راہ نہ پائیں گے، (النساء:142-143)‘‘۔

(5) ’’پھر آپ ﷺ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کی دونوں شرمگاہوں پر چیتھڑے تھے اور وہ جانوروں کی طرح خاردار زہریلے درخت ،زقّوم (تھوہرکاکڑوا درخت) اور گرم پتھر کھارہے تھے ، آپ ﷺ نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں ، جبریلِ امین نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کے صدقات ادا نہیں کرتے تھے ‘‘اور اللہ نے اُن پر ظلم نہیں فرمایا ،بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں، (آل عمران:117)‘‘۔۔(جاری ہے۔۔۔)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */