حضرت عباس بن علی بن ابی طالب - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

حضرت علی بن ابی طالب نے بی بی پاک فاطمہ کی حیات مقدسہ میں نکاح ثانی نہیں کیاتھا۔بعد میں آنجناب نے متعدد نکاح کیے ۔ان میں سے ایک خوش قسمت خاتون حضرت فاطمہ کی ہی ہم نام تھیں۔ان کانام نامی ’’ام البنین فاطمہ بنت حزام بن خالد‘‘ تھا۔

حضرت علی نے اپنے نکاح کے لیے جب اپنے بھائی حضرت عقیل سے مشورہ کیاتو انہوں نے عرب کے بہادرقبیلہ ’’بنی کلاب‘‘کاانتخاب اس لیے کیاکہ یہ قبیلہ اپنی شجاعت اور بہادری میںبہت مشہور تھا۔حضرت عقیل چونکہ ماہرانساب بھی تھے اس لیے انہوں نے حضرت علی کو اس باسعادت خاتون سے نکاح کامشورہ دیا۔انہیں ’’ام البنین‘‘اس لیے کہاجاتاہے کہ حضرت علی کے بچوں کو ’’فاطمہ‘‘کانام لینے سے اپنی والدہ محترمہ یادآجاتیں اور وہ دل گداز ہوجاتے۔فاطمی اولاد کودل آزاری سے بچانے کے لیے حضرت عقیل نے ہی یہ مشورہ بھی دیاکہ انہیں ’’ام البنین‘‘کے نام سے پکاراجائے ۔

ان کے بطن سے حضرت علی کے چار بیٹے ہوئے اور یہ چاروںبیٹے واقعہ کربلامیں مقام شہادت عظمی پر فائز بھی ہوئے۔ ان چار بیٹوں کی نسبت سے بھی آپ کو’’ام البنین‘‘یعنی بیٹوں کی ماں کے لقب سے تاریخ نے یاد کیاہے۔آپ عرب کے مایہ ناز قبیلہ’’بنی کلاب‘‘سے تعلق رکھتی تھیں اور آپ کی والدہ محترمہ کانام ثمامہ بنت سہیل بن عامر تھااور انہیں لیلی بھی کہاکرتے تھے۔ام البنین حضرت فاطمہ سے حضرت علی کے چار بیٹوں کے نام حضرت عباس بن علی،حضرت عبداللہبن علی،حضرت جعفربن علی اور حضرت عثمان بن علی۔بی بی صاحبہ کامدفن مبارک مدینہ طیبہ کے مقدس قبرستان جنت البقیع میں ہے۔

حضرت عباس بن علی 4شعبان26ھ کوجمعۃ المبارک کے دن مدینہ منورہ میں پیداہوئے۔آپ اپنے والد محترم کے پانچویں اور اپنی والدہ محترمہ کی پہلی نرینہ اولاد تھے۔حضرت علی کوجب ولادت کی اطلاع دی گئی تو آپ تشریف لائے اور اپنے اس فرزندارجمند کو اٹھایا،بوسہ دیا، دائیں کان میں آذان اور بائیں میں اقامت کہی اور ان کا نام ’’عباس‘‘رکھا۔ولادت کے ساتویں دن نومولود کے سر سے بال اتروائے اور ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کی اور سنت عقیقہ بھی اداکی۔اگرچہ یہ اسم مبارک خاندان بنی ہاشم میں پہلے سے مستعمل تھا تاہم اس لفظ’’عباس‘‘کے دو معروف معانی مشہور ہیں،اور یہ نومولود ان دونوں پر اسم بامسمی ثابت ہوا۔

اسم ’’عباس‘‘کاایک مطلب غصے والا ہے اور عربی لغت کے مطابق دوسرامطلب ایسا شیرہے جس سے دوسرے شیر خوف زدہ ہو کر بھاگ جاتے ہوں۔حضرت عباس بن علی نے کربلاکے میدان میں ان دونوں معانی پر استقامت دکھائی۔حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اپنے اس بیٹے کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر بھی اٹھانہ رکھی تھی۔شجاعت و سخاوت تواس خاندان کا قدیمی ورثہ تھے ہی لیکن حضرت عباس کی تعلیم میں خاص طورپر فقہ کے میدان میں خصوصی توجہ دی گئی۔حضرت عباس بہت چھوٹی عمر میں باب العلم کے حقیقی وارث نظر آنے لگے۔ تفقہ دین میں مدینہ جیسے شہر میں ہم جولیوں میں ان کا ثانی نہ تھا۔محض14سال کی مختصرعمر میں ’’حیدرثانی‘‘کہاجانے لگا تھا۔فقہ اسلامی چونکہ قرآن و حدیث سے اخذشدہ علم کامنہاج ہوتاہے اس لیے اپنی خدادادذہانت کے باعث حضرت عباس کو قرآن و سنت اور اجتہاد اسلامی پر ابتدائی عمر میں ہی کافی دسترس حاصل ہو چکی تھی۔

حقیقت یہی ہے کہ والدین اپنی اولاد کے لیے جو بہترین ترکہ چھوڑ جاتے ہیں وہ ہیرے ،سونے ،چاندی اور درہم و دینار کی بجائے علوم و معارف ہوتے ہیں۔اور علوم و معارف میں بھی علوم دینیہ سے بڑھ کر کسی علم وفن کی فضیلت نہیں ہے۔اس موقع پر ختمی مرتبتﷺکی کایہ قول مبارک برموقع ہو گا کہ’’خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ‘‘ترجمہ: تم میں سے بہترین شخص وہی ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔

حضرت عباس بن علی کی شخصیت بہت وجیہ الجسہ تھی۔آپ قدآور اور حسین و جمیل نوجوان بن کر ابھرے تھے،بعض اوقات آپ گھوڑے پر بیٹھے ہوتے تو بھی آپ کے قدمین زمین کو چھورہے ہوتے تھے۔بنی ہاشم کے نوجوانوں میں قدرت کی مہامہربانی کے باعث آپ پرکشش ہستی کے مالک تھے۔آپ کے چہرہ انور سے نور پھوٹتاتھا شاید اسی لیے ’’قمر بنی ہاشم‘‘کالقب بھی آپ کے حصے میں ہی آیا۔آپ اپنے آباء کی مانند بہت سخی اور کھلے ہاتھ کے مالک تھے۔آپ کا دسترخوان صباح و مساء چلتارہتاتھا،کوئی سائل خالی ہاتھ نہ لوٹتاتھا۔سخاوت اور وسیع القلبی آپ کو جتنی وراثت میں ملی تھی اس سے دوچند آپ کی اپنی سیرت میں موجود تھی،ہرکس و ناکس کی ضرورت بڑھ کر پوری کر دیا کرتے تھے،کسی امیدوالے کی دلشکنی یا مایوسی آپ کے مسلک کے خلاف تھی۔

بلاتفریق مذہب و ملت لوگ جوق درجوق دراقدس پرآتے تھے اپنے دست سوال دراز کرتے تھے ،اپنا دامن پھیلاتے تھے اورتوقع سے بڑھ کر فیض پاتے تھے۔حضرت عباس بن علی کی اس صفت کے باعث آپ کو وقت نے’’باب الحوائج‘‘کانام دیاتھا۔تاریخ میں آپ کاایک اور لقب’’ابوالفضل‘‘بھی ملتاہے،حالانکہ آپ کے ہاں ’’فضل‘‘نام کی کوئی اولاد نہیں تھی۔آپ کے ایک بیٹے کانام ’’قاسم‘‘تھا جس کے باعث آپ کو ابوقاسم کہاجاتاجاتاتھا۔’’عباس ابوالفضل‘‘کی وجہ آپ میں بے پناہ فضائل کی موجودگی تھی۔آپ کو ’’ابو فاضل‘‘ اور’’ابوفضائل‘‘بھی لکھاگیاہے ۔آپ کے علم وحلم اور سخاوت کاذکر توہو ہی چکااس پر مستزادیہ کہ آپ کمال عبادت گزار تھے۔زبان مبارک ہر وقت ذکرالہی سے تر رہتی تھی،آپ کو عالم شباب میں بھی بے کارگفتگوکرتے نہیں دیکھاگیا۔عبادت و ریاضت اور ذکرواذکارومناجات آپ کی شخصیت کاایک اوراہم اوروشن پہلو ہے۔کم و بیش چودہ سال کی عمر تھی جب والد بزرگوارحضرت علی بن ابی طالب نے جام شہادت نوش کیا۔

حضرت عباس بن علی کی شادی خاندان بنی ہاشم میں ہی ہوئی،اس وقت عمر مبارک بیس سال تھی۔والدہ حضرت فاطمہ ام البنین نے حضرت امام حسین سے اپنے بیٹے کے نکاح کی بابت دریافت کیا۔برادربزرگ نے کمال شفقت سے جملہ انتظامات مکمل کر لیے اورلبابہ بنت عبیداللہ بن عباس بن عبدالمطلب آپ کے عقد زوجیت میں آئیں۔ ان کے بطن سے آپ کی چار اولادیں ہوئیں۔تین بیٹے جن کے اسمائے مبارک حسن، قاسم اورمحمد اور ایک بیٹی بھی قدرت نے عطا کی۔حضرت عباس بن علی کی اولادمیں حضرت حسن بن عباس سے پیدا ہونے والے حضرت علی کی ’’علوی نسل‘‘میں شمارہوئے۔

بعد کی تاریخ میں اس نسل سے جنم لینے والے مشاہیر نے تاریخ اسلام میں اپنے بہت بڑے علمی و سیاسی مقام کو اپنی پہچان بنایا۔خاص طورپر حضرت عباس کی اولاد سے بہت سارے شاعر،عالم،قاضی اور کچھ حاکم بھی بنے۔وقت کے حکمرانوں نے چونکہ ہمیشہ اس گھرانے سے خوف کھایا اور ان کے پیچھے لگے رہے اس لیے اس شجرمبارکہ کے افرادنے کم و بیش پوری اسلامی دنیامیں ہجرت کے عنوان سے پڑاؤ کیے رکھا۔چنانچہ کل عالم اسلام میں اس نسل کے سپوت اور ان کے قدردان آج بھی موجود ہیں۔

قافلہ اہل بیت جب عازم کربلاہوا تو حضرت عباس بن علی اپنے تین سگے بھائیوں سمیت ہمرکاب تھے۔اس وقت تک اپنی زندگی کی تیتیس(۳۳)بہاریں دیکھ چکے تھے۔قافلے میں بہتر(۷۲)افرادتھے اور لشکریزیدکی تعداد تیس ہزارسے متجاوز تھی۔حضرت امام حسین بن علی نے اپنے اس بھائی عباس بن علی کو اپنے قافلے کا علم داربنایا اور جھنڈاان کے ہاتھ میں تھمادیا۔اس شان کے علمدارکو دیکھ کر لشکریزید کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔دشمن نے حضرت عباس اور ان کے بھائیوں کو لالچ دیا کہ حضرت امام کا ساتھ چھوڑ دیں توانہیں امان وانعامات سے مالامال کردیاجائے گا۔ان چاروں بھائیوں نے یہ پیشکش یزیدیوں کے منہ پر دے ماری۔رات کے اندھیرے میں خود امام عالی مقام نے بخوشی اجازت دی کہ خاموشی سے نکل جائیں اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ جاملیں۔

اس کے جواب میں حضرت عباس بن علی نے ایک مختصرساخطبہ دیاجس میں اپنی وفاداری اور جاننثاری کو بطور تحفہ و ہدیہ امام عالی مقام کی خدمت میں پیش کیااور واپسی سے انکار کردیا۔حضرت عباس بن علی کی پیروی میں قافلے کے کل شرکاء نے واپسی سے انکار کردیا اور عالم انسانیت کی ایک جداگانہ تاریخ رقم ہونے لگی۔دس محرم کو جب پانی کی بندش کو تین دن گزر چکے تھے اور ننھی سکینہ بنت حسین بن علی نے اپنی پیاس کی شدت کااظہار کیاتو امام عالی مقام نے حضرت عباس بن علی سے کہاکہ دریاسے پانی لے آئیں۔اس سے پہلے آپ کے تین سگے بھائی اللہ تعالی کی راہ میں مقام شہادت کااعلی مقام حاصل کرچکے تھے۔

حضرت عباس بن علی دشمن کی صفیں چیرتے ہوئے پانی تک پہنچے،دشمن نے کہاکہ خود پی لیں لیکن خیمے تک پانی لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔خیمہ والوں سے پہلے پانی پینے کو خلاف وفاسمجھااورخشک ہونٹوں تک آئے ہوئے پانی کو واپس کردیا۔بھرے دشمنوں میں پانی حاصل کرچکنے کے بعد جب خیمون کی طرف بڑھے تو ایک بہت بڑی یلغارمیں دونوں بازوکٹ گئے،ابھی بھی خون شبیری برسرپیکارتھا کہ امام عالی مقام کو پکاراگیاکہ بھائی کا جسد خاکی لے جائیں۔

امام صاحب نے فرمایاکہ اب میری کمرٹوٹ گئی۔مقبرہ امام حسین سے سے 372کلومیٹر شمال مشرق میں آپ کامدفن ہے۔ان نفوس قدسیہ نے جن حالات میں دین کو زندہ رکھا،اللہ تعالی ے دعاہے کہ امت مسلمہ کے اندروہ روح ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے۔آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com