وقت افراتفری کا - جویریہ سعید

وقت افراتفری کا ہے، اس عالم میں ابلنے والی بے بسی اور خوف انسانوں پر غصے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ میں کسی نہ کسی انداز میں لوگوں کو انسانوں پر جھنجھلاتا دیکھ رہی ہوں۔ حکومتی اداروں کو صحیح اقدام لینے کی سنجیدہ ترغیب اور سنجیدہ محاسبے کو اس میں شامل نہ کیجیے ۔ بالعموم ہم سب سے خفا ہیں۔

وہ جو وبا کو پھیلانے کے موجب بنے، وہ جو ہدایات کی پابندی نہیں کررہے، وہ جو ہمارے موقف سے اختلاف کررہے ہیں، وہ جو پریشان ہیں، وہ جو پریشان نہیں ہیں، وہ ذمہ داران جو ہماری تجاویز کے مطابق عمل نہیں کررہے، اور اس طرح پورے پورے گروہوں پر اپنے دانتوں کی کچکچاہٹ نکال کر ہم ساری نسل انسانی سے بے زار نظر آنے لگتے ہیں۔ یہی صورتحال عورت مرد کے تعلق کی بحث کے موقع پر ہوئی تھی۔ ہم صرف زیادتی کرنے والے مردوں اور خواتین سے خفا نہیں تھے ہمارا انداز تو بالعموم پورے پورے گروہوں کو شیطان ثابت کررہا تھا ۔ واعظین اور مبلغین کو دیکھیے۔ ہر ایک اجتماعی طور پر انسان کو اس کا مکروہ چہرہ دکھا دکھا کر طعنے دے دے کر پہلے خود اذیتی میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے،اور اس کے بعد وہ اسے خیر کی دعوت دیتا ہے۔ گویا کہ خود پر نفرین بھیجنے کی اذیت میں مبتلا ہوئے بغیر الہامی پیغام کی طرف ہمیں کوئی اور محرک راغب نہیں کرسکتا۔ ہم انفرادی طور پر بھی بحرانوں سے گذرتے ہیں۔ رشتوں سے بندھے لوگوں، دوستوں، سماجی رابطوں کے ذریعے ملنے والے کچھ لوگوں سے ہمیں منفی تجربات ہوتے ہیں۔۔ ہم نے کڑا وقت جھیلا ہوتا ہے اور خودکو تنہا، بے بس اور تکلیف میں مبتلا پایا ہوتا ہے۔ کچھ ہماری شخصیت اور کچھ اس صورتحال کی شدت ، جس کا سامنا کیا گیا ہو انسانوں سے ہماری شکایتوں کی شدت کا سبب بنتی ہے۔

تلخ تجربہ/تجربات و مشاہدات انفرادی کیفیت کو سب سے بڑی سچائی بنا کر دکھاتے ہیں۔ ہم تحریر میں، شعر میں، سوشل میڈیائی پوسٹس اور ٹوئیٹس میں،باہم گفتگووں میں اپنی اذیت اور لوگوں کے برے رویے کی شکایت کرتے ہیں ۔ چونکہ عموما مخصوص فرد یا افراد کی طرف اشارہ کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے اس فرد یا افراد کو ذہن میں رکھ کر انسانوں کے پورے گروہ کو اپنی شکایات کا ہدف بناتے ہیں۔اس سب سے کیا ہوتا ہے؟ تلخ کہانیوں، لوگوں کی باتوں اور سماجی ویب سائیٹس کے ٹرینڈز اور فورمز پر مٹر گشتی کر کے دیکھیے۔ تلخی ، بدتمیزی، تمسخر، طنز و طعنہ زنی عروج پر نظر آتا ہے . اکثر لوگوں کے نزدیک میں انسان کے ساتھ کسی اچھے جذبے کی توقع عبث ہے۔ انسان برباد ہوگیا ہے۔ زمین پر بدطینت، مکار ،تھڑدلی،خود غرض بلائیں انسانوں کے روپ میں رہ بس رہی ہیں۔ ان خوبصورت شکلوں والی بلاؤں سے کسی خوبصورت جذبے یا اچھائی کی امید عبث ہے۔ جی ہاں کہتا تو قرآن کریم بھی ہے - انسان سراسر خسارے میں ہے ........ مگر ایک فرق ہے۔ یہ آیت تلاوت کرتے وقت میری انگلی خود اپنی جانب ہوتی ہے۔ جبکہ اوپر بیان کی گئی تمام صورتوں میں ہم سب چلا چلا کر ، رو رو کر، منہ بنا بنا کر یہ باور کروارہے ہیں . کہ ہر انسان برا ہے کیونکہ مجھ پر یہ بیتی۔۔۔

شکوہ کناں، طعنہ زن یا تلخ لہجے کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ میری ذات تو جھیلنے والوں میں سے تھی اس لیے میں ان خرابیوں سے پاک ہوں۔ اور اگر میں آج تلخ ہوں بھی تو یہ بھی اس لیے کہ اس دنیا نے مجھے ایسا بنایا ہے۔ ورنہ میں خود کو ان سب سے الگ سمجھتا/سمجھتی ہوں۔ اور یہی وہ سوچ ہے جو ہمیں اس قسم کے اشعار اسٹیٹس کے طور پر اپ ڈیٹ کرنے پر اکساتی ہے،
یہ جو ہم ہیں نا (سینہ ٹھونک کر) احساس کے مارے ہوئے لوگ - ہم زمیں زاد نہ ہوتے (ےےےےےء) (انگلی اٹھا کر) تو ستارے ہوتے!!!! (آنکھ چڑھا اور منہ ٹیڑھا کرکے )
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا (طنزیہ انداز میں جتاتے ہوئے) - اس تلخی نے ہماری جمالیاتی حس کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ہم حقیقی کہانیوں میں تلخی اور منفیت کو آشکار کرتے قصوں اور فلموں کو پسند کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ انسان ہیں نا، گھبرا بھی جاتے ہیں تو ایسے میں فرار حاصل کرنے کو کچھ دیر کے لیے ہمیں ایسا ادب، فلمیں، ڈرامے اور گانے بھی درکار ہیں جو غیر حقیقی رومانوی دنیا میں لے جائیں۔ ان کے سطحی اور مصنوعی انداز اور گلیمر سے ہمیں الجھن نہیں ہوتی (جو مجھے سخت بے مزہ کرتا ہے) اس سب کو غلط ہونے کے باجود ہم اس لیے خوشی خوشی دیکھتے اور تقویت دیتے ہیں .

کہ ہم اپنے ذہن کی تلخیوں کے سبب خود کو مصنوعی شیرینی کی عیاشی / نشے سے لطف اندوز ہونے پر حق بجانب سمجھتے ہیں۔ اور اس طرح ان بلاؤں کا کاروبار بھی چلتا رہتا ہے۔ میں تلخ کہانیوں کے انبار سن لینے کے باجود انسان سے مایوس نہیں ہوں۔ اور اسے بہت حد تک مجبور بھی سمجھتی ہوں۔ اس لیے نسل انسانی کے لباس پر پڑے سیاہ دھبوں پر میری نظریں جم کر نہیں رہ جاتیں۔ ان دھبوں کے پیچھے اجلا لباس اور کہیں کہیں چمکتی افشاں اور کہیں کہیں ٹکے خوبصورت پھول بھی مجھے نظر آتے ہیں۔ اور میرا دل چاہتا ہے کہ امید کی بات کروں،تلخ روحوں پر نرم لہجے اور ہمدردی کا مرہم رکھوں۔ میرا خود اپنے آپ سے مایوس نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ مجھے انسانوں سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مجھ میں کوئی خیر باقی ہے تو وہ میری نسل میں خیر کے امکان کی علامت ہے۔ مجھے نیلا آسمان، پہاڑ، سبزہ، پھول، جانور اور پرندے، دریا اور پہاڑ اچھے لگتے ہیں ان کے درمیان اعتکاف میری محبوب خواہش ہے، مگر میرا ایمان ہے کہ میرے ہم نفس ، انسانوں کے بغیر یہ ساری خوبصورت کائنات بے کار ہوجایے گی۔ وبا کے بعد مجھے اس خوبصورت زمین پر تنہا انسان کی حیثیت سے زندہ رہنا منظور نہیں۔ میری۔ بقا میرے انسانوں سے وابستہ ہے۔ اس لیے میں طعنہ نہیں دے سکتی۔۔ اور اس لیے میں رنگوں، خوشبوؤں، پھولوں اور گیتوں کی باتیں کروں گی تو انسانی جذبات کا خوبصورت تذکرہ بھی کروں گی۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com