محمد ﷺ کی انسانیت - ایک عیسائی کی نظر سے - محمد سلیم

پچھلے دو چار دن میں سوشل میڈیا پر مشہور مقالہ لکھنے والے : ڈاکٹر کریگ کنسیڈائن" کون ہیں؟
ڈاکٹر کریگ ہوسٹن کیتھولک عیسائی ہیں، ہوسٹن ٹیکساس کے مشہور تحقیقی تعلیمی ادارے "رایس یونیورسٹی" میں شعبہ سوشیالوجی میں پروفیسر ہیں، سکالر ہیں، عالمی شہرت یافتہ سپیکر ہیں، میڈیا میں اپنا اثر و رسوخ رکھنے والے تجزیہ نگار ہیں، عوامی دانشور ہیں، بہت سی کتابوں اور مضامین کے مصنف ہیں۔ ادیان عالم پر گہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ اسلام اور اسلام کی حقانیت پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں چند مشہور: محمد ﷺ کی انسانیت - ایک عیسائی کی نظر سے - امریکہ میں اسلام - مسائل کی کھوج - امریکہ میں مسلمان - حقائق کی جانچ پڑتال - پاکستان میں اسلام، نسل اور اجتماعیت کا بکھرا شیرازہ .

...
اپنے موجودہ مضمون بعنوان " کیا صرف دعا کی طاقت سے کوئی وباء جیسے کورونا کو دفع کیا جا سکتا ہے؟ حتی کہ پیغمبر محمد ﷺ بھی اس کے بارے مین مختلف نقطہ نظر رکھتے تھے"
اس مضمون میں کریگ نے نیوز ویک میں چھپنے والے ایک مضمون میں ماہرِ انسانی مدافعتی نظام ڈاکٹر انتھونی فاؤسی اور میڈیکل رپورٹر ڈاکٹر سنجے گپتا کی ان باتوں : موجودہ وباء میں اچھی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو دوسروں سے بچاتے ہوئے علیحدہ محصور کر لینا ہی اس وباء سے پھیلاؤ کو روک اور آپ کو اس وباء سے بچا سکتا ہے" پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
کیا تمہیں پتہ ہے کہ وباء کی حالت میں اپنے آپ کو محصور کر دینے اور صفائی ستھرائی کا درس دینے والا سب سے پہلا شخص کون ہے؟ ہاں: ان باتوں کی آج سے 1400 سال پہلے تعلیم دینے والا سب سے پہلا شخص اسلام کا پیغمبر محمد ﷺ ہے۔ چہ جائیکہ کہ وہ ﷺ جان لیوا امراض اور وباؤں کا روایتی ماہر یا معالج نہیں تھا مگر وہ ان امراض اور وباؤ سے بچاؤ اور لڑنے کیلیئے مکمل نصیحتیں اور لائحہ عمل دے گیا۔ کریگ نے اپنے اس تحقیقی مضمون میں چاند لگانے کیلیئے بطور حوالہ سرکار علیہ السلام کی جن احادیث مبارکہ کا احاطہ کیا وہ یہ ہیں:
*** اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم سنو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل چکی ہے تو اس جگہ مت جاؤ اور اگر کسی جگہ طاعون پھیل جائے اور تم اس جگہ ہو تو پھر اس جگہ سے باہر مت نکلو۔


..........

" *** پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے - *** ’جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے تو پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے دھولے، کیونکہ اسے علم نہیں کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں بسر کی۔‘‘ - *** کھانے کی برکت ، کھانے سے پہلے اور اس کے بعد وضو (ہاتھ دھونا) کرنا ہے۔
*** اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے"۔ -
کریگ نے اپنے مضمون کا اختتام آقائے دو عالم کی اس حدیث مبارک سے کیا: *** ایک صحابی نے نبی کریمﷺسے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! میں اپنے اونٹ کو باندھ کر اللہ پر توکل کروں یا اس کو چھوڑ دوں، پھر اللہ پر توکل کروں ؟ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسانہ کرو ، بلکہ پہلے اونٹ کو باندھو ، اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔


نوٹ: تمام احادیث مبارکہ کا عربی متن یہاں موجود ہے۔
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍعنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «إذَا سمِعْتُمْ الطَّاعُونَ بِأَرْضٍ، فَلاَ تَدْخُلُوهَا، وَإذَا وقَعَ بِأَرْضٍ، وَأَنْتُمْ فِيهَا، فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا» متفقٌ عليهِ.
«الطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ».
«إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ».
عن أسامة بن شريك- رضي الله عنه- قال: قَالَتْ الأَعْرَابُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نَتَدَاوَى ؟ قَالَ: «نَعَمْ، يَا عِبَادَ اللَّهِ تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، إِلا دَاءً وَاحِدًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: الْهَرِمُ».
«قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ أَوْ أُطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ قَالَ «اعْقِلْهَا وَتَوَكَّل»

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */