آزادیٔ صحافت پر حملہ - محمد ریاض علیمی

سوال یہ ہے کہ کیا صحافی معصوم ہوتاہے؟ کیا اس کی ہر غلطی معاف ہے؟ صحافت کے شعبے سے وابستہ ہونے کے بعد اس کے لیے ہر جرم جائز ہوجاتاہے؟ کیا وہ قانون سے آزاد ہوجاتا ہے؟ وہ جوچاہے کرے ، ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچائے اور کرپشن جیسی لعنت میں ملوث ہو تو کیا اس کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟

کیا صحافی آئین اور قانون کے دائرے سے باہر ہوتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو آزادیٔ صحافت پر حملے سے تعبیر کیوں کیاجاتاہے ؟ جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کو 54کنال اراضی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ مقدمہ یہ ہے کہ 1986ء میں اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف سے جوہر ٹائون میں غیر قانونی طور پر میر شکیل الرحمٰن نے 54 پلاٹ لیے۔ روزنامہ جنگ کراچی نے میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ گرفتاری کی خبر کو چھ کالمی شہ سرخی کے ساتھ اس طرح شائع کیا : ’’آزادی صحافت پر حملہ۔ ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گرفتار‘‘۔ اسی طرح دیگر اخبارات نے بھی اس گرفتاری کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ درحقیقت گرفتاری کی وجہ کچھ اور ہے اور اسے صحافت سے جوڑا جارہا ہے ۔

یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میر شکیل الرحمٰن آزادیٔ اظہار کے بہت بڑے علمبردار ہیں۔ ٹھیک ہے اگر وہ آزادیٔ صحافت کے علمبردار ہیں تو اس شعبہ میں ان کی خدمات اپنی جگہ لیکن اس اس کیس سے ان کی صحافت کا کوئی تعلق نہیں بنتا ۔ جنگ اور جیو کے طرز عمل سے محسوس بلکہ یقین ہوتا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو صحافت کی آڑ میں بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ کیس کتنا مضبوط ہے ۔ اگر یہ کیس جھوٹا اور منگھڑت ہے تو دلائل سے اس کا مقابلہ کیاجائے ۔ کیس کی حقیقت کا رخ تبدیل کرنا صحافت کی توہین ہے۔ آزادیٔ اظہار کا نعرہ بلند کرنے والوں کے فکرو عمل سے ہر طرح کی سچائی اور حق و صداقت کا اظہارہونا چاہیے۔ جبکہ موجودہ دور میں شعبۂ صحافت میں اس کا بہت بڑا فقدان ہے۔ اسی وجہ سے اس شعبہ پر عدم اطمینان بڑھتا جارہا ہے۔

اسی طرح دوسری بات یہ ہے کہ یہاں پوری دنیا کورونا وائرس کی زد میں ہے۔ کسی مقام پر زیادہ تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کرنے پر پابندی لگائی جارہی ہے۔ ملک جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہے۔ دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے ۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں، دینی و سماجی اجتماعات پر پابندی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کی وجہ سے مساجد کو تالے لگانے کے معاملات زیرِ بحث ہیں۔ اس کے باوجود پور ے ملک میں میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ لیکن قانون خاموش ہے؟ نہ کوئی مقدمہ ، نہ کوئی گرفتاری۔ بالفرض اگر ان کے احتجاج پر قانون حرکت میں آئے تو پھر دوبارہ آزاد یٔ صحافت پر حملے کا شور مچنا شروع ہوجائے گا۔ اسی طرح میڈیا کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے کہ اس کے خلاف نہ کوئی آواز، نہ کوئی تنقید۔بازاروں ، مارکیٹوں اور مساجد میں عوام کا رش دکھایا جارہا ہے ، تنقید کی جارہی ہے ۔

لیکن صحافیوں احتجاج اور مظاہروں پر زبانیںاور آنکھیں دونوں بند ہیں۔ یقینی طور پر یہ طرزِ عمل صحافت سے غداری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض معاملات میں صحافیوں کو قانونی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن ایسی سنگین صورتحال میں احتجاج اور مظاہرے کون سی دانشمندی ہے؟خدارا! ہوش کے ناخن لیں۔ اس شعبہ کا غلط استعمال نہ کریں ۔ اگر کوئی صحافی کسی جرم میں ملوث پایاجائے تو اسے بحیثیت صحافی ہیرو نہ بنایاجائے ‘ مجرم ہی رہنے دیاجائے۔ انصاف پر مبنی صحافت کا یہی تقاضا ہے۔