لاچاری - منزہ سحر

شام کے چھ بج رہے تھے، سورج کی روشنی بس الوادعی پیغام دے رہی تھی۔ کسی ضروری کام سے اللّٰہ کا نام لے کر گھر سے نکل گیا۔پہلی بار اتنے سنسان روڈ دیکھے تھے۔ عجیب سی وحشت طاری ہو رہی تھی۔

کام سے فارغ ہونے کے بعد واپسی آتے ہوۓ دیکھا کہ سڑک کے ساتھ بنے فٹ پاتھ پر ایک آدمی سر جھکائے بیٹھا ہے ساتھ أس کی بائیک کھڑی تھی۔ خیال آیا کہ زرا پوچھ لوں کہ کیا ماجرا ہے بھلا اس طرح کیوں بیٹھے ہیں محترم۔ اپنی بائیک أن سے تھوڑی قریب روک کر سوچنے لگا کہ پوچھوں یا نہیں۔ پھر دل نے کہا پوچھ لو۔ فوراً بائیک سے اتر کر أن کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔

خیریت تو ہے بھائی جان یوں اس طرح یہاں کیوں بیٹھیں ہیں؟ أن کے چہرے کو دکھتے ہوۓ میں نے پوچھ ہی لیا۔ بہت حیرت سے أنھوں نے میری طرف دیکھا، آنکھوں میں انتہا کی اداسی تھی، چہرے پر عجیب سی لاچاری تھی۔ جو مجھے اندر تک ہلا گئ تھی۔ وہ نظریں چرا کر کہنے لگے، اوبر رائیڈر ہوں اور بائیکیا بھی چلاتا ہوں۔ دو دن سے کوئی رائیڈ نہیں لگی۔ نا اوبر پر نا بائیکیا پر۔ آج بھی صبح سے نکلا ہوا ہوں کہ شاید کوئی ایک ہی رائیڈ لگ جاۓ۔ میں نے بات سمجھتے ہوۓ پوچھا کیوں رائیڈ کیوں نہیں لگی؟ جناب جب سے یونیورسٹیاں بند ہوئی ہیں رائیڈ ویسے ہی لگنا کم ہوگئ تھیں۔ ورنہ ہمیشہ صبح میں بھی رائیڈ مل جاتی اور شام کے وقت بھی۔ ان کے بند ہونے کے بعد بھی دن میں الحمدللہ تین چار رائیڈز لگ جاتی تھیں۔ لیکن جب سے کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہوا ہے، اور سب بند ہوتا جا رہا ہے کوئی رائیڈ نہیں لگی۔ محترم کا جھکا سر دیکھ کر میں نے کہا حکومت کو بند نہیں کرنا چاہیے سب۔

ارے نہیں جناب حکومت کی غلطی نہیں ہے۔ حکومت تو احتیاط کر رہی ہے نا۔ ہمارے لیے تو اسی میں بہتری ہے نا۔ بس آج یہاں بیٹھ کر سوچ رہا تھا کہ گھر جا کر بچوں کو کیا کہوں گا جو انتظار کر رہے ہیں کہ أن کا باپ آج تو کھانا لے آۓ گا۔ کل جب رات میں گھر گیا تو بچوں کی نظروں کو اپنے کھالی ہاتھوں کو دیکھتے پایا تو خود سے نظریں نا ملا سکا۔ اللّٰہ تعالیٰ کا کرم ہے کبھی أس نے بچوں کو خالی پیٹ نا سلایا۔ پڑوس سے چاول آگۓ تھے بچوں نے شوق سے کھایا۔ روزی اور رزق تو اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ہماری تو صرف کوشش درکار ہے تو وہ میں کر رہا ہوں۔

میں خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا اور اپنے غصے میں کل رات چھوڑے کھانے کی یاد آگئ۔ سبزی دیکھ کر کھانا نہیں کھایا تھا میں نے۔ مجھے کہیں گم پا کر وہ کہنے لگے چلیں جناب آپ گھر جائیے میں بھی گھر جا رہا ہوں۔ انشاء اللہ رات میں نکلوں گا اب تھوڑی دیر کے لیے۔ انشاء اللہ اللّٰہ نے چاہا تو ضرور کوئی رائیڈ مل جاۓ گی۔اس حالت میں بھی اللّٰہ پر ان کا بھروسہ مجھے متاثر کر رہا تھا۔ جیب سے کچھ پیسے نکال کر ان سے ہاتھ ملا کر اجازت چاہی۔ ارے نہیں جناب یہ کیوں دے رہے ہیں؟ میں یہ نہیں لے سکتا۔ میں نے مسکرا کہا آپ کے بچوں کے لیے أن کے چاچا کی طرف سے ہیں۔ اور آپ نے ہی تو کہا کہ رزق دینے والا تو اللّٰہ ہے۔ بس میرے ذریعے سے أس نے آپ کو یہ دلوا دیا، آپ ہی کا تو ہے۔ وہ بھی مسکرا کر کہنے لگے بے شک رزق دینے والا تو وہی ہے۔ میں بہت شکر گزار أس رب کا جس نے آپ کو بھیجا میرے پاس۔

گھر آکر میں نے رات کی چھوڑی سبزی نکال کر کھا لی۔ اپنے پاس موجود رزق کی ہم قدر نہیں کرتے اور لوگ تو زرے زرے کو ترس رہے ہیں۔ شکر کریں أس رب کا جس نے آپکو اس سے نواز رکھا ہے۔ اپنے پڑوسیوں کی خبر رکھیں کہ کہیں کسی رات وہ بھوکے نا سو جائیں۔ اللّٰہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں وہ جلد ہمیں اس آزمائش سے نکال لیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */