مسکراہٹ بکھیرنے والے کے آنسو - محمد عاصم حفیظ

مولانا ناصر مدنی نے سب کو رلا دیا ۔ ان کے آنسو ہم سب کی بے بسی ہیں۔ ایک ایسا بڑے دل کا شخص جو ہر ایک کے پاس خوش دلی سے چلا جائے ۔ معاشرے کے ہر طبقے نے پسند کیا ۔ محبتیں بانٹنے والا ، مسکراہٹ اور ہلکے پھلکے انداز میں نصیحت آموز باتیں سمجھا دینے والا ۔

اگر آپ سوشل میڈیا پر انہیں فالو کرتے ہیں تو حیران رہ جائیں گے کہ سڑک کنارے کوئی معمولی بندہ بھی مل گیا تو خوشدلی سے اس کے ساتھ تصویر اتروائی ، اسے خوش کیا اور اپنے فیس بک پر شئیر بھی کر دیا ۔ جب بھی ملاقات ہوئی تو انداز ایسا کہ سب سے بڑے دوست وہی ہیں ۔ عاجزی ایسی کہ کسی نے جو زبان پر آیا کہہ دیا لیکن ذرا سی بھی شکایت نہیں کی ۔ مسکراہٹیں بکھیرنے والا ، خوشدلی سے ملنے والا ، عاجزی سے رہنے والا لیکن یہ تو صرف ایک پہلو ہے اگر آپ جانتے ہیں تو دوسرا پہلو اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کہ یتیموں اور بزرگوں کے لئے ایک بہترین سہولیات کا حامل ادارہ بنا رکھا ہے ۔ جی ہاں ایک عالم دین ہوتے ہوئے جو خود کوئی بڑا بزنس مین یا جاگیردار نہیں لیکن اللہ تعالی نے دل اتنا بڑا دیا ہے کہ معاشرے کے پسے اور پسماندہ طبقے کے لئے اپنی خدمات پیش کر رکھی ہیں ۔ یقینا لوگ بھی تعاون کرتے ہوں گے لیکن کیا وقت دینا ، ایسی سوچ ہونا ، اس کا انتظام کرنا ، اس بارے دوسروں سے بات کرنا ، انتظامات کو دیکھنا کوئی معمولی بات ہے ۔ کون کون کر سکتا ہے ؟ کون کر رہا ہے یہ سب ؟ ہو سکتا ہے کسی کو انداز پسند نہ ہو ، ہو سکتا ہے وہ علمی حوالوں سے کچھ غلطیاں کر دیتے ہوں ،

ہو سکتا ہے ان کی باتوں سے کسی کو ناگواری گزری ہو لیکن کیا ایسے ہر دلعزیز شخص کو یوں سزا دی جاتی ہے ، اس کا معاشرے سے اعتماد ہی اٹھ جائے ، وہ اپنی استقامت کی دعا کراتا پھرے ۔ وہ بچوں کا سامنا کرنے سے ڈرے ، وہ کیمروں کے سامنے روتا ہوا نظر آئے ۔ ناصر مدنی سب سے آگےہے جس نے ملکی سلامتی ، اس کے اداروں کے باقاعدہ ترجمان کا کردار ادا کیا ہے ۔ پولیس کی پاسنگ آوٹ پریڈ میں جاتا ہے تو روایت سے ہٹ کر اپنے ان جوانوں کے لئے اپنی جیب سے فنڈ کا اعلان کر دیتا ہے ۔ قانون کی پاسداری کی بات کرتا ہے ۔ نوجوانوں کو ٹریفک قوانین کا پابند بنانے کی ترجمانی کرتا ہے ، اتنی پبلسٹی تو پولیس کروڑوں خرچ کرکے نہیں کر سکتی جتنی ناصر مدنی ان کی اپنی بے پناہ شہرت کے باعث کر دیتا ہے ۔ اب یہ امتحان ہے ہر اس ادارے ، شخصیت اور عہدیدار کا جو کہ ملک میں قانون کے حوالے سے کسی بھی قسم کی ذمے داری نبھا رہا ہے ۔ اگر پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے ناصر مدنی کو انصاف نہ دلا سکے تو احسان فراموشی ہو گی ۔ صرف ناصر مدنی ہی نہیں لاکھوں دل ٹوٹ جائیں گے ، زندگی سے اعتبار اور اس معاشرے سے اعتماد اٹھ جائے گا ۔

یہ کوئی جنگل ہے جس میں درندگی کا راج ہے کہ جو چاہے جب چاہے کسی کو اٹھائے اور بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالے ۔ واضح ثبوت اور تمام تر شواہد موجود ہونے کے باوجود بھی اگر مجرم اور ان کے ماسٹر مائنڈ نہ پکڑے گئے تو یہ ایک بدترین جرم ہوگا جس کے شریک شائد ہم سب ہوں گے ۔ یہاں تشدد کی جھوٹی ویڈیوز پر عالمی برادری تک ایکٹو ہو جاتی ہے ۔ ناصر مدنی کو انصاف ملنا چاہیے ؟ کیا اس کا کیس صرف اس لئے دبا دیا جائے گا کہ یا مجرموں کو بچا لیا جائے گا کہ وہ تو ایک " مولوی" ہے ۔ اس کی عزت و حفاظت سے طاقتوروں کو کیا لینا دینا ؟؟ یقین مانیں ناصر مدنی نوجوان نسل میں مقبول ہے ، اگر وہ اس معاشرے سے مایوس ہوا تو یہ المیہ ہوگا ؟ یہ اب ناصر مدنی کا مقدمہ نہیں بلکہ معاشرے ، ہر ادارے اور شخصیات کا امتحان ہے کہ وہ اس شخص کے احسانات کا بدلہ چکاتے ہیں جس نے نوجوانوں کو تشدد نہیں سیکھایا ؟جس نے انہیں جرائم کا عادی نہیں بنایا ؟ جس نے مشکلات و مصائب کے شکار اس معاشرے کو مسکراہٹ اور خوشیاں دیں ۔ جس نے قانون کی حکمرانی اور پاسداری کی وکالت کی ، جو ارض پاک کی عظمت کے گن گاتا ہے ۔
جو ہمارے بھلائے ہوئے کام بخوشی کر رہا ہے یتیموں اور بے سہارا بزرگوں کی خدمت کرکے ۔ ناصر مدنی کے آنسو ایک امتحان ہیں ہم سب کا ، کسی مسکراہٹ بکھیرنے والے کو یوں رونے کے لئے نہیں چھوڑ دینا چاہیے ۔ یہ ہم سب کا امتحان ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */