میری بہن کے نام - قادر خان یوسف زئی

راقم دنیا سے بے پروا ایک الگ ہی دنیا میں گم، کہ چھوٹی ہمشیرہ کی انتقال کی خبر اچانک موصول ہوئی۔ ٹی بی قابل علاج مرض ہے لیکن احتیاط نہ کی جائے تو بگڑ کر جان لے لیتا ہے، اُس وقت احتیاط کا اصل مفہوم سمجھ میں آیا، لیکن وقت گذر چکا تھا، منوں مٹی تلے امانت سپرد خاک کردی تھی۔

جسم پر رعشہ تو زبان میں لکنت، بے جوڑ لفظوں کی ادائیگی تو آنکھوں سے نہ رکنے والے آنسو، منہ سے آہ و زاری اور دیوانگی جیسی حالت اس سے قبل کبھی مجھ پر طاری نہیں ہوئی۔ خون میں لت پت لاشے، گردن کٹنے کے مناظر، زندہ جلانے کے واقعات سمیت خود کو بھی گولیاں لگنے کے بعدموت کے فرشتے سے کئی بار ہاتھ ملاتے دیکھا لیکن کبھی سہما نہیں، آنکھ سے درد کی شدت سے ایک قطرہ باہرنہ آیا۔بس ایک ایسے غم کا احساس تھا کہ جنگل، بیابان میں راستہ ڈھونڈنے کے لئے چیخ رہا ہوں کہ مجھے منزل تک جانے کا راستہ دکھا دو، موت کو برحق مانتا ہوں، کچھ برس قبل بہنوئی کو شہید ہوچکے ہیں، دہشت گردوں نے اپنا غصہ خون کی بھینٹ سے اتارا۔ اُس وقت بھی میری بہن کا قصور نہیں تھا، لیکن شہید کے نام پر جوان بیوہ اپنے چھوٹے بچی اور بچوں کے ساتھ اللہ کے حکم پر راضی رہی۔ اُس وقت سے طبعیت بگڑی تو پھر بگڑتی چلی گئی اور سنبھلنے کا نام نہ لیا۔

آخری دیدار میں ہمشیرہ کا چہرہ دیکھتا رہا کہ ابھی درد کی کیفیت سے اٹھ کرپکارے گی کہ قادر بھائی، مجھے بہت تکلیف ہے، میں تڑپ کو اُسے سنبھالوں کہ اللہ رحم کرے گا، علاج چل رہا ہے بس تھوڑا اور برداشت کرو، سب ٹھیک ہوجائے گا، لیکن سب بگڑتا ہی چلا گیا۔ میں سفر کی تیاری میں تھا، فون بند کیا ہوا تھا، آرٹیکل کو جلد مکمل کرکے مجھے سمینار روانہ ہونا تھا کہ بیٹے کے فون پر اطلاع ملی کہ پھوپھو کی طبعیت بہت خراب ہے، میں نے زوجہ سے کہا کہ آپ چلو، میں ذرا کام مکمل کرلوں، مجھ پر ناراض ہوئیں کہ ساتھ چلو، میں مُصر کہ آتا ہوں، مجھے طبیعت کے بارے میں بتادینا، چند منٹ بعد پہنچ کر اطلاع دی کہ بہن اب اس دنیا میں نہ رہی، امی کے گھر جنازہ لے گئے ہیں۔

کانوں کو یقین نہیں آرہا تھا، سب کچھ جیسا تیسا چھوڑ کر والدہ کے گھر لپکا،چھوٹے بیٹے نے سہارا دے کر مجھے پہنچایا تو ایک قیامت تھی جو وہاں گزر رہی تھی، میرے بچے، میرے بھائی، جنہیں مجھے تسلی اور دلاسہ دینا تھا، وہ مجھے سنبھالنے میں لگے تھے، آخری دیدار کے لئے اندرون خانہ پہنچا تو زوجہ کی آنکھوں سے رواں آنسوؤں میں ان گنت شکایتیں، ناراضگی تھی، بھانجی اپنی ماں کے سرہانے بیٹھ کر بلکتی رہی، میں چھوٹی بہن کے پیروں پر بیٹھ گیا کہ شائد اٹھ جائے اور پھر تڑپ کر کہے کہ قادر بھائی بہت تکلیف ہے، بہت درد ہے، میرے لئے دعا کرو، یہ تکلیف برداشت نہیں ہوتی، لیکن وہ مجھ سے رخ موڑے ادھ کھلی آنکھوں سے میری راہ تکتی رہ گئی۔

رات کے پہر میں تدفین کی سب تیاریاں ہوتی چلی گئیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ موت کے اس احساس کو کیا نام دوں۔ میں اپنی کیفیت پر قابو نہ رکھنے میں ناکام ہوچکا تھا۔ یہ بہت دردناک تھا میرے لئے۔ میں نے اپنی گود میں اُس کھیلایا تھا، لیکن چھوٹی و اکلوتی ہونے کے باوجود مجھے ماں جیسی محبت کا احساس ہوتا تھا، بے چینی گھبراہٹ و اداسی کے عالم میں بہن کی گود میں سر رکھ دیا کرتا تھا، اس کی ہمت اور زمانے سے ٹکرانے کی جدوجہد دیکھ کر میرا دل بڑا ہوجاتا اور ٹوٹتے حوصلے پھر سے مضبوط ہوجاتے۔ میری اہلیہ مجھے،سب رشتے داروں سے جوڑے رکھتی رہی ہیں، میری پیشہ وارنہ مصروفیات نے مجھے گوشہ نشین اور بنجارا بنا دیا، وہ مجھ سے ہمیشہ کہتی کہ رشتوں کے ساتھ جوڑے رہو، میں کبھی نرمی تو کبھی سخت لہجے میں جواب دیتا کہ اس پُر آشوب دور میں حلال کے راستے پر جانا کانٹوں پر چلنا ہے، میں اپنی چادر سے نکلا تو بہت کچھ بگڑ جائے گا، وہ اپنی جگہ اور میں اپنی جگہ درست تھا، لیکن فیصلہ میری بہن ہی کرتی تھی، لیکن اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی۔

وہ ہم بھائیوں کے لئے ایک ایسی ہمت کا استعارہ تھی جس کی مثال دیا کرتا تھا، اب اس کی بند آنکھوں نے میرے سب حوصلے توڑ دیئے، مجھے میرے جوان بیٹے، داماد بیٹی، دوست احباب نے سب نے دلاسا دیا، لیکن اندر سے کچھ ایسا ٹوٹ سا گیا ہوں کہ بیان نہیں کرسکتا۔ہم چھ بھائی، میری زوجہ، بھابیاں، بہو، داماد، بیٹی، بیٹے،بھتیجی، بھانجی، بھتیجے، پوتے تمام رشتے دار والدہ کے کمرے میں اکھٹے تھے، لیکن سب کچھ خالی تھا، جیسے زندگی سے بے رحم بے روح جسم ہو۔ خراج عقیدت میری بہن کے لئے ہے، خاندان میں افراد چاہے کتنے بھی ہوں، لیکن جب تک ایک دوسرے سے جڑے نہ ہوں تو کچھ بھی نہیں ہے، مجھ سے خون کے رشتے میں جڑے نفوس کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔شتے خون کے ہوں یا پھر جذبات سے بنے۔ اُن میں جڑے رہنا ہی ایک اجتماعی طاقت ہے۔

انسان ہونے کی حیثیت سے غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ”بڑا“ ہونا، عمر اور دولت سے نہیں ”دل“ اور برداشت سے ہے۔ یہی وہ نظام ہے جس سے جڑ کر بہت سے مسائل کا حل نکل آتا ہے۔ میری پروفیشنل زندگی، عائلی معاملات پر تین دہائیوں سے حاوی ہے، خاندان کو وقت دینا، ان سے ملتے جلتے رہنا، تکلیف دہ وقت کا سب سے بڑا مرہم ہے۔ میرا اظہاریہ میری بہن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہے کیونکہ وہ میرے، خاندان اور قبیلے کے لئے محترم رہی۔ بے شک، سب کو موت کا ذایقہ چکھنا ہے، اس راستے پر جانا ہے جو رب کائنات نے مقرر کردیا ہے، اس سے ذرہ برابر ہٹا نہیں جا سکتا۔ دکھ بانٹنے سے کم ہوتا ہے، بس اس کے علاوہ اور کچھ مقصد نہیں۔

دنیا کسی کے جانے سے رکتی نہیں، اس نے اپنا سفر طے کرنا ہے، میری اولاد، رشتے دار اس بات کو سمجھے اور میرے احباب بھی کہ وقت کے ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے لیکن رشتوں میں جڑے رہنے سے حوصلہ قائم رہتا ہے۔ یہی وہ احسا س ہے جو ہمیں بڑوں کا احترام اور نئی نسل کو اپنی اقدار سے آگاہ کرنے میں معاون بناتا ہے، سفید پوشی کا بھرم بہت نازک ہوتا ہے، اعتماد کے اس حصے میں بہت کم لوگ جگہ پاتے اور غم و خوشی میں شریک ہی پہچانے جاتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com