محبت ان لاء - رقیہ اکبر چودھری

محبت ان لاء ......رکئے۔۔۔۔۔ اک نظر اس تصویر پہ ڈالتے جایئے۔۔۔۔ملاحظہ کیجیے ایک لاٹھی کے سہارے چلتا خمیدہ کمر ، عمر رسیدہ شوہر اپنی شریک سفر کو خچر پہ بٹھا کر عازم سفر ہے۔۔۔پنی نصف بہتر ، نازک آبگینے کے جیسی ساتھی کو پیدل چلنے سے جو تکلیف اور تھکاوٹ ہو سکتی ہے اس سے بچانے کی اپنی سی پوری کوشش۔۔۔۔

شاید جب یہ رات کے کسی پہر کھانستا ہو گا تو اس کی یہ عمر رسیدہ زوجہ فورا جاگ جاتی ہو گی ، عمر رسیدگی کے باعث کانپتے ہاتھوں سے یہ اپنے شوہر کو جب پانی پلاتی ہو گی تو یک گونہ سکون اپنی روح کے اندر اترتا بھی محسوس کرتی ہو گی۔۔اس کیلئے بستر بناتے ، کھانا پیش کرتے اور اس کی لاٹھی اس کے ہاتھ سے لیکر ہاتھ منہ دھلاتے شاید بڑ بڑ بھی کرتی جاتی ہو مگر من ہی من میں مسکراتی بھی ہو گی کہ دیکھو اس بڑھاپے میں یہ میرے لئے کام کر رہا ہے۔۔۔کیا قرآن کی کسی آیت میں لکھا ہے کہ بیوی کو خچر پہ سوار کرانا فرض اور شوہر کا پیدل چلنا مستحسن ہے؟ کیا کسی قرآنی آیت میں درج ہے کہ رات کو اس بوڑھے کیلئے کھانا گرم کر کے پیش کرنا اس عورت کا فرض ہے؟ نہیں ناں۔۔۔ پھر یہ لاٹھی کے سہارے چلتا شوہر ، اسے کس چیز نے مجبور کیا کہ اپنی بیوی کو سواری فراہم کرے اور خود پیدل خوار ہو؟ اور یہ راتوں کو شوہر کی ہر آواز پر اٹھ اٹھ کر اسے دیکھنے والی اس بوڑھی عورت کو کس نے مجبور کیا کہ وہ اس کیلئے اپنی نیند اور آرام قربان کرے؟

اس تعلق کو، خود سے بڑھ کر زوج کے خیال رکھنے کو "محبت" کہتے ہیں الفت و مودت کہتے ہیں۔۔ اسے کسی پیمانے سے ناپا نہیں جا سکتا نا ہی کوئی قانون اس کی تشریح و توضیح کر سکتا ہے۔۔۔ یہ تو دلوں کے تال میل سے وجود میں آتی ہے ، یہ محبت نکاح نامے کے کسی خانے میں درج نہیں ہوتی نا اس کی کمی بیشی پہ کوئی تعزیر لگائی جا سکتی ہے۔۔پھر کیوں تم سب "زوج" کی محبت و الفت کو الہامی کتاب یا قانونی تعزیرات میں ڈھونڈتے ہو؟ بیشک اللہ نے ایکدوسرے کے حقوق پورے کرنے کو اپنے حقوق کی ادائیگی سے بھی زیادہ بڑا مقام اور مرتبہ دیا لیکن محبت کرنے نا کرنے کیلئے کوئی آیت نازل نہیں کی۔۔۔ ایسی تربیت کی طرف ضرور متوجہ کیا جس میں اپنی ذات سے زیادہ دوسرے کو اہمیت و فوقیت دیئے جانے کو نیکی کہا اس کا اجر بھی رکھا مگر اس کیلئے پابند نہیں کیا۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کہا تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کیلئے بہترین ہے۔۔۔یقینا ایکدوسرے کا خیال رکھنے پہ تمہیں اللہ کے ہاں اجر ملے گا اور جو کچھ حقوق رب کائنات نے تصریح کے ساتھ بیان کر دیئے ہیں ان کی ادائیگی نہ کرنے پر پکڑ بھی ہو گی .

لیکن محبت کا کوئی پیمانہ رب تعالی نے پیدا نہیں کیا اور نہ ہی محبت ہونے نا ہونے پہ کوئی پکڑ کی وعید سنائی ہے۔۔۔پھر کیوں ہم زوج کی محبت کے معاملات کو بھی تعزیری اور دستوری کھاتوں کا پابند بنانا چاہتے ہیں؟ یوں لگتا ہے جیسے ہم نے سب نے ٹھان لی ہے کہ خدانخواستہ شادی کے مقدس بندھن کو ختم کر کے رہنا ہے۔ شادی جو دنیا کا سب سے خوبصورت تعلق ہے مرد و عورت کی تکمیل کے ساتھ لطف و مسرت کا سبب بھی ہے جانے کیوں اسے کچھ لگے بندھے اصولوں کا پابند کر کے بدصورت اور ناقابل برداشت تعلق بنانے پر تل گئے ہیں ہم۔ اس لطیف تعلق میں ہر بات پہلے سے طئے شدہ نہیں ہوتی بیشک کچھ بنیادی باتیں اور اصول ضرور لاگو ہوتے ہیں لیکن اس کی خوبصورتی اس کا حسن فریقین کے باہمی لطف و کرم کا محتاج ہے۔ یہ کوئی آجر اور اجیر کا ،کوئی حاکم و محکوم کا تعلق نہیں ہے جس میں ہر بات پہلے سے نکاح نامے میں لکھ دی جانی چاہئے۔ ایک طرف انتہائی لبرل سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے جو باہم تعلق کو "ریپ" جیسے جرم سے کے مترادف بنا رہی ہے تو دوسری طرف شدت پسند مذہبی ملا بیوی کو پابند کرنے پر تلا ہے کہ .

رات کے تین بجے بھی شوہر اگر بریانی کی فرمائش کرے تو بیوی کو پوری کرنی لازم ہے بصورت دیگر یہ نشوز کہلائے گا جس کیلئے عورت کو مارا پیٹا بھی جا سکتا ہے۔ ۔اللہ اکبر۔۔ کل ایک ٹی وی چینل کا کلپ دیکھا جس میں ایک بزعم خویش عالم دین نے دو باتوں پر فوکس کیا ، اول بیوی کو نشوز پہ مارنے کی اجازت دین میں موجود ہے۔ اور نشوز کیا ہے؟ اس کے بقول اگر شوہر رات کو تین بجے حکم دے کہ اسے کچھ کھانا ہے تو بیوی کو اٹھ کر یہ فرمائش پوری کرنی چایئے ورنہ شوہر ہاتھ اٹھائے تو یہ ہرگز برا نہیں ۔۔موصوف کا کہنا تھا کہ .... اگرچہ شوہر کو ایسی فرمائش نہیں کرنی چاہیئے (مطلب وہ نہ کرے تو اس کا احسان ہو گا) لیکن اگر وہ کرے تو پوری کرنا فرض ہے۔۔ کیا واقعی۔۔۔؟ ہم نے تو سنا تھا کہ شوہر کیلئے کھانا بنانا بیوی کا شوہر پر احسان ہے مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ گیا۔ ہم نے تو سنا تھا کہ شوہر کیلئے کھانا بنانا بیوی کے "فرائض" میں نہیں آتا کجا کہ رات کے آخری پہر ۔۔۔۔۔

اور ڈیمانڈ پوری نہ ہونے کی صورت میں شوہر نشوز کی کھاتے میں مار پیٹ کر سکتا ہے؟ مطلب بیوی نہ ہوئی غلام ہو گئی۔۔ موصوف کہتے ہیں کہ پہلے زمانے میں ہماری مائیں رات کے دو تین کیا چار بجے بھی شوہر جو حکم کرتا اسے پورا کرتی تھیں اسی لئے گھر آباد تھے۔۔ بیشک ایسا ہی تھا مگر یہ سب وہ کسی دستوری یا قانونی حکم کیلئے نہیں کرتی تھیں محبت کی وجہ سے کرتی تھیں اور شوہر بھی بیوی کی دلجوئی کیلئے اپنی جان و صحت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔۔ایسا آج بھی تقریبا ہر گھر میں ہوتا ہے کہ دونوں ایکدوسرے کی خاطر اپنی صحت ،نیند، خوشیاں اور خواہشیں قربان کر دیتے ہیں یہی اس رشتے کی خوبصورتی اور یہی اس کی پائیداری کیلئے نسخہ کیمیا ہے۔۔نکاح کے دو بول دونوں کے دل میں ایسی الفت و محبت پیدا کر دیتے ہیں کہ ایک کی ضرورت دوسرے کو اپنی خوشی سے مقدم لگتی ہے۔۔۔محمد صلی اللہ علیہ رات کو گھر آتے تو جوتا اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیتے کہ اس کی آہٹ سے زوجہ کی آنکھ نہ کھل جائے، نیند خراب نہ ہو۔۔۔مگر یہ سب کسی قانونی پابندی یا شرعی حکم سے نہیں کرتے تھے اپنی محبت میں کرتے تھے۔۔

تو اب آپ اسے شرعی حکم کیسے بنا سکتے ہیں؟ یہ صرف ازواج کے ساتھ زیادتی نہیں قانون الہی کے ساتھ مذاق اور کھلواڑ بھی ہے۔۔مجھے تو لگتا ہے یہ نام نہاد مولوی کسی اور کے پے رول پہ ہیں انہیں شاید یہ ذمہ داری سونپی گئی یے کہ عورتوں کے لئے دین اسلام کو اتنا سخت ، جابر اور ظالم بنا کر پیش کرو کہ عورتیں اسلام سے متنفر ہو جائیں۔۔انہوں نے تو اللہ کو بھی نعوذ باللہ اپنی مرضی کی صفات دے دیں۔۔ اللہ مرد کیلئے رحمان اور رحیم ہے ،کریم و مہربان ہے ستر ماوں جتنا پیار کرنے والا ہے جبکہ عورت کیلئے نعوذباللہ اللہ صرف جبار ہے قہار ہے۔۔۔اور بس؟؟؟ ازدواجی تعلق میں اتنی عقل و فہم تو سب مرد و زن کو ہوتی ہے کہ قربت کے لمحات کو خوشگوار بنانے کی کیوں ضرورت ہے نہ خواتین بلاسبب اس میں روڑے اٹکاتی ہیں اور نہ ہی مرد اتنے وحشی ہوتے ہیں کہ اپنی نصف بہتر کی ذہنی اور قلبی کیفیت کو یکسر نظر انداز کر دیں یہ سب کچھ باہم الفت و مودت پہ منحصر ہوتا ہے اس لئے خدارا اسے "قانونی" پراسس سے مت گزاریئے۔۔ محبت کو محبت رہنے دو قانون مت بناو۔۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com