میں کرونا وائرس سے کیوں نہیں ڈرتا؟ جمال عبداللہ عثمان

کرونا وائرس سے متعلق بعض لوگوں میں خوف انتہاؤں پر ہے۔ ”بعض“ کی جگہ ”اکثر“ استعمال کروں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ اسے آپ بےوقوفی کا نام دیں یا پھر غیرضروری بےخوفی، لیکن کرونا وائرس کی آمد پر ذرا بھی خوف محسوس نہیں ہو رہا۔ آپ سے دو ذاتی واقعات شیئر کرتا ہوں، اس کے بعد آپ بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس بےخوفی کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟

پاکستان میں پہلی بار ”ڈینگی“ آیا تو خوف کا یہی عالم تھا جو آج کرونا کی آمد سے ہر سُو طاری ہے۔ کسی میں ڈینگی کی تشخیص ہوئی تو رشتہ دار اور دوست عیادت اس انداز سے کرتے گویا تعزیت کر رہے ہوں۔ ہمدردی کے جتنے لفظ ہو سکتے، وہ بول جاتے کہ ان کی نظر میں اس شخص کا بچنا اب ناممکنات میں سے ہے۔ خود مریض یہی محسوس کرتا کہ میں چند گھڑیوں کا مہمان ہوں۔ چہرے پر خوف کے واضح آثار محسوس کرنا کوئی دشوار نہ ہوتا۔ ”مچھر“ تو اس زمانے میں موت کا فرشتہ یا کسی ایٹم بم کی مانند نظر آتا۔

انھی دنوں، جب میں کراچی سے باہر تھا۔ فون پر معلوم ہوا کہ بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب کی طبیعت کئی دنوں سے خراب ہے۔ ان کی عادت ہے کہ چھوٹی موٹی بیماریوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ویسے بھی کہتے ہیں کہ موچی کا اپنا جوتا ہمیشہ پھٹا ہوا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بھی شاید اپنی صحت سے متعلق زیادہ سنجیدگی نہیں دکھاتے۔ اس لیے ہم نے بھی زیادہ سیریس نہیں لیا۔ لیکن بیماری کا دورانیہ بڑھنے لگا تو فون پر اصرار کیا کہ آپ ضروری ٹیسٹ کروا لیں، خدانخواستہ کوئی اور معاملہ نہ ہو۔ ساتھ میں ان کے دوست ایک ڈاکٹر سے بھی گزارش کی کہ اگر خود نہیں جاتے تو براہِ مہربانی آپ انھیں ہسپتال لے جائیں۔

ٹیسٹ ہوئے تو پازیٹو نکل آئے۔ خوفناک بات یہ تھی کہ پلیٹ لیٹس کی تعداد 30 ہزار تک آگئی تھی۔ ہسپتال میں انھیں داخل کیا۔ میں بھی واپس کراچی کے لیے نکل پڑا۔ پریشان ہم سب ضرور تھے، لیکن اس میں کئی گنا اضافہ تب ہوا جب مسلسل کالز آنا شروع ہوئیں۔ انداز یوں ہوتا جیسے خدانخواستہ موت کا فرشتہ آ کر انھیں بتا گیا ہے کہ بچنے کا کوئی امکان نہیں! ”جب سے ڈاکٹر صاحب کے ڈینگی کا پتا چلا ہے تب سے ہم نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔“ ”ہم تو تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ آپ پر اتنی بڑی آزمائش آئے گی۔“ وغیرہ وغیرہ۔

ان چند دنوں میں جتنی کالز آئیں، وہ کسی بھی نارمل شخص کو نفسیاتی بنانے کے لیے کافی تھیں۔ لیکن خدا کے فضل و کرم سے علاج شروع ہوا، چند دنوں میں ڈاکٹر صاحب صحت یاب ہوئے اور زندگی ایک بار پھر رواں دواں۔

دوسرا واقعہ اس سے بھی زیادہ پریشان کر دینے والا تھا۔ 2015ء میں میرا بھتیجا مصعب عبداللہ بیمار ہوا۔ اسلام آباد کے ایک معروف ہسپتال میں علاج کروایا تو تشخیص یہ ہوئی کہ اسے ٹی بی ہے۔ اس کا علاج شروع ہوا، لیکن حالت مزید خرابی کی طرف جاتی رہی۔ کئی ہفتوں کے علاج کے باوجود بہتری کے آثار نہ ملے تو بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ مجھے معاملہ کچھ اور لگ رہا ہے اور کچھ ٹیسٹ تجویز کیے۔ لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائے تو معلوم ہوا کہ hodgkin lymphoma (کینسر کی ایک قسم) ہے اور وہ بھی آخری اسٹیج پر۔

اس دوران میں پھر جسے پتا چلا، اس نے ہماری پریشانی میں مزید اضافہ کیا۔ فون آتا اور ہمدردی کے ایسے الفاظ بولے جاتے جیسے خدانخواستہ مریض چند دنوں کا مہمان ہے۔ ”ہائے! ابھی مصعب کی عمر ہی کیا تھی۔“ ”اُف! آپ لوگ تو لٹ گئے، پتا نہیں کیا بنے گا آپ لوگوں کا؟“

ہم لاہور گئے، شوکت خانم ہسپتال سے مصعب کا علاج شروع ہوا اور تقریباً سوا سال بعد وہ مکمل صحت یاب تھا، بلکہ شاید پہلے سے بھی زیادہ کہ اس کی شرارتوں میں مزید اضافہ ہوچکا تھا۔

یہ دونوں واقعات سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ڈینگی ایسی بیماری ہے، شروع میں جس کا نام سن کر فوراً موت کا خیال آ جاتا تھا اور کینسر ایسی بیماری ہے جس سے متعلق جان کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن الحمدللہ! ان دونوں بیماریوں سے اپنے دو عزیزوں کو صحت یاب ہوتے دیکھا۔ دونوں کی بیماریاں اپنے خوفناک اسٹیج پر، مگر آج میں جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو الحمدللہ! وہ دونوں مکمل صحت مند۔ وہ خوفناک دن ہمارے لیے بس ماضی کا ایک باب بن کر رہ گیا ہے۔

آج جب میں کرونا وائرس سے متعلق لوگوں میں شدید خوف دیکھتا ہوں تو نجانے کیوں چند لمحوں کے لیے ان کے ساتھ ہمدردی ہونے لگتی ہے۔ اس انداز سے ذکر کریں گے کہ سننے والا خوف سے ہی انتقال کر جائے۔ مان لیتے ہیں کہ وائرس ہے اور وائرس سے بڑے پیمانے پر اموات بھی ہوسکتی ہیں، لیکن اپنے اوپر اسے ایسا مسلط کر دینا کہ زندگی کا پہیہ رُک جائے، انسان نفسیاتی مریض بن جائے، خواب میں بھی اسے ”وائرس“ ہی نظر آئے، یہ سراسر اپنے اور اپنے عزیزوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

روز لوگ گھروں سے صحیح سلامت نکلتے ہیں اور شام کو گھر لاش لائی جاتی ہے۔ گاڑی کا حادثہ ہو جاتا ہے۔ اندھی گولی کا نشانہ بن جاتا ہے یا پھر دل کا دورہ چند لمحوں کی مہلت دیے بغیر سانس کا رشتہ توڑ دیتا ہے۔ کسی بھی بیماری سے متعلق جانیں ضرور، لیکن اگر کوئی بےجا خوف ہے تو اس سے نکل آئیں۔ مشہور ہے کہ مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے متعلق منسوب وہ واقعہ بھی آپ نے سنا ہوگا۔ جب انتقال کر رہے تھے تو کہا کہ دنیا کے ہر بزدل کو جا کر میرا پیغام دے دو کہ موت اگر میدان جنگ میں جانے سے آتی تو خالد آج یوں بستر مرگ پر نہ جان دے رہا ہوتا۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com