ہارن کھیڈ فقیرا- ارشاد احمد عارف

میجر آفتاب مزید لکھتے ہیں ’’تم نے جنرل اقبال کے بارے میں کچھ نہیں بتایا‘‘ جنرل نے اپنی تنی ہوئی بھنوئوں سے کھیلتے ہوئے پوچھا۔ ’’کون سے اقبال؟‘‘ میں نے پوچھا ۔اس وقت آرمی میں اقبال نام کے تین جنرل تھے۔اگرچہ میں سمجھ گیا تھا اس کا اشارہ اپنے سے سینئر پوٹھوہاری پفر جنرل کی طرف تھا جو اس سے سینئر بھی تھے‘خاردار بھی اور نسبتاً اچھی شہرت کے مالک بھی۔ ’’وہ مونچھوں والا اقبال‘‘ لاہوری جنرل خود کلین شیو تھا لیکن اس نے بالائی ہونٹ کے اوپر دائیں بائیں اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وہ یقینا چاہتا تھا کہ میں لڑاکا فوج کے ’مونچھوں والے‘ انا پرست جنرل کو اپنی فہرست میں ضرور رکھتا۔اس کے لہجے کی تلخی مجھ سے چھپی نہ رہی تھی۔ لمبے قد کاٹھ کے جنرل اقبال اٹک کے طرحدار سپاہیوں میں سے تھے۔ ’’ان کے بارے میں مجھے کوئی خاص علم نہیں لیکن اپنے سفر یورپ کے دوران جب میں لندن میں مصطفی کھر کے ہاں ٹھہرا تو اس نے مجھے ایک البم دکھائی تھی جس میں ایک کینڈل لائٹ ڈنر کے دوران جنرل اقبال اس کے ساتھ ہم پیالہ محو طعام تھے۔ کھر کا کہنا تھا کہ پی پی کے دور اقتدار سے اس کے جنرل اقبال اور ان کے زمیندار عزیز و اقارب سے بڑے قریبی‘ بڑے گہرے تعلقات رہے تھے۔‘‘ میں کہہ نہیں سکتا پلک جھپکتے میں جنرل کا سوال سنتے ہی یہ گھڑا گھڑایا قصہ میرے کانوں میں کس نے ڈالا تھا۔ یقینا کوئی تو تھا جو کسی بے بس اسیر کے کانوں میں مسلسل سرگوشیاں کر رہا تھا۔

خالد ۔۔۔جنرل اختر میز پر زوردار مکہ مارتے ہوئے بریگیڈیئر سے مخاطب ہوئے ‘یہ اسی رات کا قصہ ہے جب لندن میں جنرل اقبال ہمارے لوگوں کی طرف سے پوری بھاگ دوڑ کے باوجود ان کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔ یقینا سر‘ آپ نے درست نشاندہی کی، مودب کھڑا بریگیڈیئر جنرل کو ستائش بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ جنرل عباسی کے بارے میں کوئی اور خبر؟ابرو کا ایک بال اکھاڑتے ہوئے جنرل اختر نے مجھے پوچھا۔ مکڑی کا جال گاہک کی پسند اور معیار پر بالکل پورا اترا تھا۔ جنرل خریداری پر تل گیا تھا۔ پاکستان سے رضا کارانہ الحاق کے بعد پنجاب میں غاصبانہ ادغام کی شکار ریاست بہاولپور کا شہزادہ جنرل اختر کا ہم مرتبہ توپچی تھا لیکن نیام میں دوسری تلوار کی گنجائش بغداد کے عباسیوں کے ہاں کبھی ہوئی جو جالندھر کے پٹھانوں اور ملوانوں کے ہاں ہوتی؟ ادھر میرے نزدیک شریف النفس ایس ایم عباسی بھی وردی سے بے وفائی کی مرتکب جنتا کے اس مہلک بالائی تودے کا حصہ تھے جو گورنریوں‘ وزارتوں‘ سفارتوں‘ کارپوریشنوں اور انجمنوں کے سٹیئرنگ پر قابض‘ سپاہیانہ وقار کے خاتمے اور ریاست کے دوسرے اور آخری جہاز کی غرقابی کا شاندار اہتمام کر رہا تھا۔ پاکستان کے محسن نواب سر صادق محمد خان عباسی کا بیٹا اگر بغداد کے مورچے میں کھڑا رہتا تو جالندھر کی طرف سے اس کے خلاف آنے والا ہر تیر میں اپنے سینے پر لیتا لیکن ایسا کہاں تھا! شاہراہ کھل چکی تھی اور مچان تیار۔

شیروں کے شکار کے لئے اب میری راہ میں کوئی رکاوٹ رہی تھی نہ ہی اس دیس میں کوئی چوہا ایسا تھا جو ان کی رہائی کے لئے بزرگ شیخؒ کے ایرانی چوہے کی طرح جال پر اپنے دانت رکھتا۔ میجر کا جال حکمران کے اندرونی خوف اس کے حقیقی نائب اور سراغرساں کی ہوس اقتدار اور کاتب تقدیر کی آہنی گانٹھ میں فولاد ہو گیا تھا۔’’غلام مصطفی جتوئی نے لاہور میں ہم سے آخری خفیہ ملاقات میں جنرل عباسی کے تعاون اور کردار بارے ذاتی ضمانت دینا تھی۔ میں نے اگلا تیر چلایا جو عین نشانے پر تھا۔ جتوئی اور جنرل عباسی کے حقیقی سسرالی رشتوں میں سازشی وٹہ سٹہ جنرل ضیا اور اختر کے لئے عبرتناک عشرے کی خوفناک ترین خبر ہوتی۔ ’’جتوئی کے قاصد علی اور سازشیوں کی لبرٹی پارک میٹنگ کی متعلقہ ملزمان تصدیق کر چکے ہیں۔لاہور پہنچ کر مصطفی جتوئی نے اسی روز مارشل لاء کے دنوں میں خاتمے کی معنی خیز دھمکی دی تھی اور ہم نے اسے صوبہ بدر کر دیا‘‘۔ بریگیڈئیر نے مداخلت کی۔ سر عبداللہ ہارون کا نواسہ علی محمود‘ جتوئی کو young Turksقرار پائے پاکستانی پتنگوں کی اس میٹنگ میں لاتا جس کے محض تصور ہی نے جتوئی جیسے سرد مزاج کو بھی تپا کے رکھ دیا تھا۔ اور جنرل احمد جمال تو تمہاری اپنی یونٹ کے پہلے ایڈجوٹینٹ تھے اور تم ساتویں۔۔۔‘‘جنرل اختر پوٹھوہار کے اپنے ہر رقیبِ روسیاہ کو اپنی خودکار چھلنی سے گزار کر جالندھر چکی کے گڑ گڑاتے پاٹوں کے درمیان رکھ رہے تھے۔

ٹھیک ہے ناں؟ انہوں نے مجھ سے پوچھا وہ میرے پھسڈی حساب کتاب‘ میری کچھوے کی چال اور کھولی کے جال ہر تین سے بہت آگے نکل گئے تھے۔ جیسے یہ سب کچھ پہلے سے طے تھا۔ اندھے کو دو آنکھیں ہی تو چاہئیں تھیں۔ اب جلدی سے مجھے دو سوالوں کا جواب دے دو۔ جنرل نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ پہلا یہ کہ میجر اور جنرل گروپ کا آپس میں براہ راست تعارف اور رابطہ کب کہاں اور کیسے ہونا تھا۔ کب کہاں اور کیسے؟ مجھے یقین ہو چلا تھا میں اور وہ ایک ہی راہ کے مسافر تھے اور وہ میرا سفر آسان کیے دے رہے تھے۔ ان کے سوال میرے جواب کی گھڑائی کے لئے کیسی پرمعنی لذیذ اور زود ہضم غذا تھے۔ ہمارے اور جنرل گروپ کے نمائندوں کا آمنا سامنا کارروائی سے کچھ پہلے شارجہ میں ہوتا‘ جہاں جنرل امتیاز اس کی میزبانی اور سارے معاملے کو مربوط کرتے‘‘مقتول ذوالفقار علی بھٹو کے وفادار ملٹری سیکرٹری کا نام آخری اور حتمی تصدیقی مہر تھی جو رہا سہا شک شبہ دور کر سکتی تھی۔ جنرل ضیاء کے ہاتھوں سے بچ کر نکل جانے والے کمانڈوجنرل امتیاز ‘گجر بھی تھے اور میرے ’’گرائیں‘‘ بھی ۔لیکن مجھے یہ دعویٰ کرنے کی اس لئے ضرورت نہیں تھی کہ میرے کھاریاں اور ان کے گائوں’’بھاگو‘‘ کے گجروں کی مشترکہ نانی اور آپس میں ہمسائیگی ڈی جی آئی ایس آئی کی ان عقابی نگاہوں سے کیسے چھپ سکتی تھی۔ جن کی مارکابل اور قندھار سے ماسکو اور واشنگٹن تک وسیع تھی۔ ’’Plausible۔۔۔۔ونڈر فل۔۔۔بالکل درست جنرل نے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کھولی کے میرے پتھروں کی زبان ‘مقصد اور مشن میری ہر تمنا کی تائید کر دی تھی۔

دوسرا سوال’’ تم اتنی مصیبت اور سختیاں جھیلتے رہے۔ اتنی اہم اطلاع آج تک چھپائے کیوں رکھی‘‘؟جنرل ایک بار پھر گھڑی پر نگاہ دوڑاتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ اب وہ قیامت کی جلدی میں دکھائی دے رہا تھا۔ سر مجھے یقین تھا وہ لوگ کچھ کر لیں گے اور ہماری جانیںبچ جائیں گی۔ اب وہ بھاگ گئے ہیں تو ہم کیوں اور کب تک مار کھاتے رہیں۔آخر کار میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب سب کو بھگتنا ہو گی۔ ویل ڈن جنرل مجھے شاباش دیتے ہوئے بالمقابل کمرے کی طرف چلا گیا۔ میں نے دیکھا دیوار پر نصب کلاک رات کے اڑھائی بجا رہا تھا قیامت کے اس گھنٹے میں پاکستان اور جنرل کے پانچوں رفقاء کا مقدر اس کے پینڈولم کی طرح ہل گیا تھا۔ بنائو یا مزید بگاڑ کی سمت یہ تو خدا ہی جانتا۔ سائیں میجر آفتاب نے آج سب کچھ اگل دیا ہے میں آپ کی طرف ابھی آ رہا ہوں۔ کاریڈور کے پار کمرے میں جنرل فون پر کسی سے مخاطب تھا ۔ ’’آفتاب کا خیال رکھو۔ اگلے لمحے جنرل لوٹ آیا۔ اسے کافی پلائو اور باہر بڑے کمرے میں منتقل کردو۔ پریذیڈنٹ (جنرل ضیاء الحق) میرا انتظار کر رہے ہیں میں جا رہا ہوں۔ آفتاب اس سلسلے میں اگر مزید کچھ بتائے تو مجھے رنگ کر دینا‘‘ وہ ایک ہی سانس میں اپنے نائب کو ڈھیری ساری ہدایات دیتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔

آسمان قیادت سے بیک وقت پانچ ستارے ٹوٹ کر گرنے کی وہ رات قیامت سے کم نہ تھی لیکن بوڑھا آسماں رویا نہ ہمالہ اور نیند میں کھوئی سنگدل دنیا بھی بے خبر ہی رہی۔ جولائی 1977ء کے پانچ رفقا کو ان کی صدیوں برابر طویل رفاقت کے لئے دو حرفی شکریہ ادا کرتے بینڈ باجوں کی الوداعی دھنوں کے ساتھ رخصتی کے لئے پندرہ دنوں کی حفاظتی مہلت دی گئی تھی۔ ادھر سورج ڈھلے پرچم اترتے ہی پانچوں آشیانوں کی مانوس گاردوں نے فرائض تازہ دم اجنبی چہروں کے حوالے کرتے ہوئے راہ لی۔ طیارہ بردار پیغامبروں نے اپنا اپنا مشن کمال حسن و خوبی سے ادا کیا۔ Operational lmmediateحربی اہمیت کی سرخ مہر والا خط ملا تو سالہا سال سے اپنے جونیئرز کا حق غصب کرنے والے وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل سوار خان 23مارچ یوم جمہوریہ کے قوس و قزح ہارس شو کی فل ڈریس ریہرسل ملاحظہ کر رہے تھے۔ جنرل سی اے مجید پشاور گالف کورس کے اٹھارہویں ہول پہ پہنچ رہے تھے اور کشمیر کی کنٹرول لائن کی سرخ بتی پر منجمد دسویں کور لیکن ہر دم تیار‘ ٹرپل ون بریگیڈ کے سربراہ جنرل احمد جمال قریب ہی راولپنڈی کے اپنے پروقار آفس میں مصروف کار تھے۔ ادھر جنرل اقبال اور جنرل عباسی کے لئے نامزد پیغامبر لاہور کے جناح اور کراچی کے فلیگ سٹاپ ہائوس دستک دے رہے تھے۔ (ختم شد)