عصر حاضر میں خواتین کو درپیش چیلنجز - افشاں مراد

گھر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اور دروازہ کھولتے ہوئے مجھے اپنے بیٹے کے چلانے کی آواز آئی ،اس کے ساتھ ہی بیٹی کے بھی کچھ زور سے بولنے کی آواز نے مجھے پریشان کردیا ۔گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے میں نے زور سے کہا ’’یہ کیا ہو رہا ہے ، کیا بد تمیزی ہے، یہ ایک دوسرے سے بات کرنے کا کونسا طریقہ ہے۔

‘‘مجھے دیکھ کر دونوں بچے خاموش ہو گئے۔’’مما بھیا مجھے تنگ کررہے ہیں ‘‘بیٹی نے شکایت کی ،’’مما میں نے کہا میرے کپڑے استری کردوتو یہ منع کر رہی ہے ‘‘۔بیٹے نے اپنی شکایت پیش کی ۔’’مما ہم لوگ ویسے ہی سارا دن کام کر کر کے تھک جاتے ہیں اوپر سے بھیا اپنے کام بتا دیتے ہیں ،ہمیں نہیں کرنا ان کے کام‘‘۔بیٹی نے بے چارگی سے کام نہ کرنے کی وجہ بتائی تو مجھے اس پر ترس بھی آیا اور پیار بھی۔میری جاب نے میرے بچوں کو بہت زیادہ مصروف کر دیا تھا۔وقت سے پہلے اور عمر سے پہلے ہی انہوں نے سارے گھر کی ذمہ داری اٹھا ئی ہوئی تھی ۔میں نے اس جھگڑے کو نظر انداز کر کے اپنا عبایا وغیرہ اتار کر باورچی خانے کی راہ لی جہاں رات کا کھانا پکانا تھا ۔شام کے ساڑھے سات بجے میری واپسی ہوتی تھی جس کے بعد مجھے گھر میں داخل ہوتے ہی پہلے باورچی خانے کی خبر لینی ہوتی تھی کیونکہ بچے کھانے کے منتظر بیٹھے ہوتے تھے ۔صبح ساڑھے سات بجے نکل کر جب شام ساڑھے سات بجے اپنی جاب سے واپسی ہوتی تھی تو اس وقت میرا دل بھی آرام کرنے کے لئے تڑپ رہا ہوتا تھا لیکن بچوں کی بھوک اس خواہش پر غالب آ جاتی تھی ۔

میرے شوہر کی شدید بیماری اور ان کے صحت یاب ہونے کے عرصے میں مجھے جاب کرنا پڑی ، ورنہ میرے شوہر نے کبھی اس کی اجازت نہیں دی ان کا کہنا تھا کہ ’’باہر کی دنیا میں جتنی خواری ہے تمہیں اس میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے ‘‘اس لئے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود میں نے کبھی نوکری کی کوشش نہ کی ۔لیکن شوہر کی اچانک شدید بیماری نے مجھے مجبور کیا کہ گھر سے نکل کر نوکری کر کے گھر کو چلایا جائے ۔میرے چاروں بچوں نے اس معاملے میں بھر پور ساتھ دیا۔جبکہ ان کی عمر اتنی نہ تھی ،بڑا بیٹا نویں جماعت میں ،اور بیٹیاں اس سے چھوٹی تھیں ۔ماسی رکھناممکن نہیں تھا کیونکہ اکیلے گھر میں ماسی کو کون دیکھتا اور آج کے حالات کے حساب سے اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جاتا تو مزید مشکلات ۔۔! چنانچہ اب بچے صبح اسکول چلے جاتے تھے ،میں آفس چلی جاتی ،چونکہ آفس خاصا دور تھا تو وہاں پہنچنے میں بھی کافی وقت لگتا اور واپسی میں بھی رش اور فاصلہ مصیبت بن جاتے تھے۔ آفس سے بھی سارا دن فون پر بچوں سے رابطہ رکھتی اور کام سے متعلق مختلف ہدایات دیتی جاتی تھی۔

دوپہر میں اسکول سے واپس آکر بچے گھر کی صفائی ستھرائی کرتے،کچن کے کاموں کو دیکھتے اور رات کا رکھا ہوا کھانا وغیرہ کھا کر اپنی پڑھائی میں لگتے۔کیونکہ ٹیوشن کا غیر ضروری خرچہ برداشت کرنا ممکن نہ تھا اس لئے بچے پڑھائی میں ایک دوسرے کی مدد کر دیا کرتے تھے۔میرے گھر آنے تک ان کی بھوک عروج پر ہو تی اور وہ بے چین ہوتے تھے کہ ’’مما کھانا کب پکے گا‘‘۔ شوہر کی صحت یابی کے بعد، ان کو نئی نوکری ملنے تک کے عرصے میں بچوں نے گھر اور اپنے والد دونوں کا ہر ممکن خیال رکھا ۔لیکن ان تمام بھاری ذمہ د اریوں نے ان کو مسلسل دبائو میں لانا شروع کر دیا تھا جس کا اثر ان کے مزاجوں پر بھی آنا شروع ہو گیا تھا ،دوسرے کزنز کو ہنستا بولتا دیکھ کر اب میرے بچے بھی فرسٹریٹڈ ہونا شروع ہو گئے تھے ، پھر یہ کہ پڑھائی میں بھی ماشاء اللہ ہمیشہ ٹاپ کرنے والے بچے،ان کو اپنی پوزیشن کی بھی فکر تھی ۔میں یہ سب دیکھ رہی تھی لیکن حالات ایسے تھے کہ میرا فوری طور پر جاب کو چھوڑنا ممکن بھی نہیں تھا ۔ایسے وقت میں جب عورت کبھی گھر سے باہر نہ نکلی ہو(نوکری وغیرہ یا باہر کے کاموں کے لئے)اور ایک دم اس کو مردانہ اور زنانہ سب کام کرنے پڑ جائیں تو اس کے لئے بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

میرے شوہر نے مجھ پر کبھی باہر کا کوئی کام نہیں ڈالا تھا ،بچوں کی فیس جمع کروانا ہو،بلز کی ادائیگی ہو،گھر کا سودا سلف ہو،یا دوسرا کوئی بھی باہر کا کام ہو ہر کام وہ خود کرنا پسند کرتے تھے کہ میں کر لوں گا،اور میں بے فکر ہوجاتی۔اب جو یہ بھاری بھر کم ذمہ داریاں نوکری سمیت میرے سر پر پڑیں تو پتہ چلا کہ ایک خیال کرنے والا شوہر اور باپ کیسی چھپر چھائوں ہوتا ہے اور یہ اللہ کی عطا کردہ کتنی بڑی نعمت ہے، اور اس کا چھن جانا یاوقتی طور پر دور چلے جاناعورت کی زندگی کا کتنا بڑاخلا ہے،اور اس کے ساتھ اور اس کے بغیر دنیا کیا سے کیا ہو جاتی ہے ۔یہ مجھے خوب پتہ چل گیا تھا۔اور وہ بچھ جن کو ماں کھانا بھی اپنے ہاتھ سے کھلاتی تھی ،ان پر پورے گھر کی ذمہ داریا پڑ جائیں تو سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ایسے وقت میں بچوں کو سمیٹ کر رکھنا،اپنے بیمار شوہر کا خیال رکھنا،نوکری پر بھی حاضر دماغ رہنا اور پھر واپس آکر بھی اپنے فرائض نبھانا ، اور پھر خاندانی معاملات بھی خوش اسلوبی سے چلانا،ایسے مراحل تھے جن سے ہر حال میں گزرنا تھا۔پوری ہمت اور حوصلے سے الحمد للہ ان سب سے گزر گئی ۔

لیکن جب میرے شوہر کی نوکری دوبارہ بحال ہوئی اور ان کی صحت بھی بہتر ہوئی تو مجھے ایک فیصلہ کرنا تھا ،کہ مجھے انڈیپینڈنٹ ہوکر اپنا کمانا ہے یا پھر بچوں کے مستقبل کے لئے نوکری چھوڑنے کا کڑا فیصلہ کرنا ہے۔لیکن اپنے بچوں کو دیکھتے ہوئے مجھے صرف ایک لمحہ لگا اپنا استعفیٰ لکھنے میں،میرے باس نے میرا استعفٰی دیکھ کر بہت سمجھا یا کہ دیکھو تم اپنا کما رہی ہو ،اتنی اچھی جاب ہے ،کیوں پھر اپنے ہاتھ پیر کٹوا کر گھر بیٹھنا چاہتی ہو،تو میں نے اپنے باس کو ایک ہی جواب دیا ’’سر میں اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لئے نوکری کرنا چاہتی تھی کہ ان کے فیوچر میں یہ پیسے کام آئیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں اگر نوکری کرتی رہی تو میں اپنے بچوں کا فیوچر دائو پر لگا دوں گی‘‘۔اور پھر میں نے نوکری چھوڑ دی۔آج ماشاء اللہ سارا خاندان میرے بچوں کی تربیت کی مثال دیتا ہے کہ ہر حالات میں انہوں نے اپنی ذمہ داری کیسے بخوبی نبھائی اور پڑھائی میں بھی اپنی پوزیشن گرنے نہ دی،اور برے حالات میں گھر کو بھی سنبھالا۔مجھے اطمینان ہے کہ میں نے درست وقت میں درست فیصلہ کیا،ورنہ میں اپنے بچوں کے مزاجوں ،ان کے رویوں میں ،جو بدلائو محسوس کر رہی تھی،ہو سکتا ہے کہ میں اپنے کیرئیر میں تو آگے بڑھ کر کو ئی جیت اپنے نام کر لیتی لیکن اپنے بچوں کو ضرور ہار جاتی۔

آج میرے ساتھ کی تمام خواتین مختلف میڈیا گروپس میں اور چینلز،اور اخبارات میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں ،بہترین پوزیشنز پر ہیں اور میں کہا ہوں؟
محض ایک ہائو س وائف۔۔۔!کبھی کبھار مایوسی کا ایک دورہ ضرور پڑتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو ضایع کر دیا لیکن پھر یہ سوچ کر کہ میری تعلیم نے مجھے یہ شعور ضرور دیا کہ مجھے کس وقت کیا فیصلہ لینا ہے اور بچوں کی تربیت میں میری یہ تعلیم میری رہنما بنی۔آج اپنے ساتھیوں کو آگے سے آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر کبھی دل میں ملال ضرور ہوتا ہے،لیکن کہیں یہ اطمینان بھی ہے کہ میں نے اپنا ماں اور ایک ذمہ دار ہونے کا فرض پوری دیانتداری سے نبھانے کی کوشش کی ۔ ایک عورت کو اپنی راجدھانی (اپنا گھر)کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے معاملات ،اپنے شوہر کے معاملات،خاندانی معاملات اور اگر نوکری پیشہ ہے تو وہاں کے معاملات کی چومکھی لڑائی لڑنی ہوتی ہے ۔عورت کا گھر سے نکلنا کو ئی آسان سلسلہ نہیں ہے ،اسے نوکری جانے سے پہلے اور آنے کے بعد گھر کی تمام ذمہ داریوں کو بھی بخوبی انجام دینا ہوتا ہے۔پھر اگر بچے چھوٹے ہیں تو ان کے الگ مسائل،بڑے ہیں تو ان کے علیحدہ مسائل ،پھر نوکری پر کیا صورتحال ہے ؟کس ادارے میں کام کر رہی ہے وہاں کیا معاملات ہیں ؟

ان سب سے نمٹنے کے لئے شیر کا جگر اور الو کا دماغ چاہیے ہوتا ہے کیونکہ کہیں بھی ایک ذرا سی کوتاہی اس کے تمام کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔میری وہ دوستیں جنہوں نے شروع سے نوکری کی اور آج بھی نوکری کر رہی ہیں ،انہوں نے ان مسائل سے نمٹنے کے لئے کیسی کیسی قربانیاں دیں ،کہاں کہاں کمپرومائز کیا ،کس طرح بچے اگنور ہوئے ،اپنی چھوٹی بڑی خوشیوں کو نظر انداز کیا،بھاگتی دوڑتی زندگی نے سب کو تھکا دیا۔کیونکہ عورت کی بنیادی ذمہداریوں سے جان چھڑانا تو ممکن نہیں ،بچے پیدا کرنے سے لے کر ان کو پالنے تک کی زمہ داری تو ہر حال میں عورت کی ہی ہے،اور یہ کیسا کٹھن مرحلہ ہے یہ جس پر گزرے اسکو ہی پتہ ہوتا ہے۔
موجودہ برق رفتار دور میں ہر شخص ترقی کی دوڑ میں بھاگا چلا جا رہا ہے۔ہر مرد وزن اس ریس میں شامل ہو نا چاہتا ہے،لیکن اس ترقی کی دوڑ میں شامل ہو کر ہم کیا کچھ کھو رہے ہیں کیا یہ کبھی کسی نے غور کرنے کی کوشش کی ،بچوں سے لگائو ،محبت،انسیت ،اور بچوں کا اپنے ماں باپ اور اپنے رشتہ داروں سے لگائو اور محبت آج اسی لئے عنقا ہے کہ ہم نے پیسے کے لئے اپنے مستقبل کو دائو پر لگا دیا ہے اور افسوس اس بات کا کہ ہمیں اس کا کوئی ادراک بھی نہیں ۔