الٹی آنتیں گلے پڑتی نظرآ رہی ہیں- حبیب الرحمن

جب نیت خالص نہ ہو یا قریبی ساتھیوں کی فراہم کردہ اطلاعات کمزور ہوں تو پھر ہوتا یہ ہے کہ اٹھایا جانے والا ہر قدم اور کیا جانے والا ہر عمل بجائے حق میں جانے کے گلے پڑنے لگتا ہے۔ یہی حال اس وقت موجودہ حکمرانوں کا ہے۔

اپنے ڈیڑھ برس کے عرصے میں ہر کیا جانے والا دعویٰ اور قوم کے سامنے بڑے بڑے وعدے سارے کے سارے الٹے قدموں لوٹ لوٹ کے مونھ کو آ رہے ہیں اور ہر معاملے میں ہزیمت پر ہزیمت جیسے مقدر بن کر رہ گئی ہے۔ ان تمام معاملات کو سامنے رکھ کر یہ بہت ضروری ہو گیا ہے کہ موجودہ حکومت اس بات کا از سرِ نو جائزہ لے کہ آخر اس کی ہربات اور ہر تدبیر الٹ الٹ کر اسی کی جانب کیوں آ نے لگتی ہے۔

کسی بھی حکومت کیلئے دو ٹیمیں بہت ہی اہم ہوا کرتی ہیں ایک وہ ٹیم جس کی کار کردگی کا تعلق ملک کی معیشت سے ہوتا ہے اور ایک وہ ٹیم جس کا تعلق قانون کی باریکیوں سے ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے یہی دو اہم ترین ٹیمیں حکومتی وقار کیلئے ایک بہت ہی بڑا سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے موجودہ حکومت سخت مشکلات کا شکار ہے اور ہر طلوع ہونے والا سورج اس کی پریشانیوں میں اضافے کا سبب بنا نظر آتا ہے۔

ملک اس وقت جس سنگین معاشی بحران کا شکار نظر آ رہا ہے اور عام انسان کی زندگی دن بدن جس مشکل صورتِ حال میں گھرتی جا رہی ہے، معاشی ٹیم اس کے آگے نہ صرف یہ کہ بند باندھنے میں سخت ناکام نظر آ رہی ہے بلکہ ٹیم کے کسی فرد کو یہ بات بالکل ہی سمجھ میں آ کر نہیں دے رہی کہ بڑھتی مہنگائی کے آگے بند باندھا جائے تو کس طرح باندھا جائے اور عوام میں تیزی کے ساتھ پھیلتی بے چینی کو کس طرح کم کیا جائے۔

ایک جانب معاشی ٹیم کی کارکردگی حکومت کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے تو دوسری جانب قانونی ٹیم جس طرح کے گل پر گل کھلاتی نظر آ رہی ہے اس سے حکومت کا اپنا وجود بھی خطرے میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔ ان ٹیموں کی کارکردگی کی وجہ سے کوئی اور پریشان ہو یا نہ ہو، عمران خان سخت پریشان اور ہیجانی کیفیت کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔آرمی چیف کی ایکسٹنشن کے معاملے کے بعد سے قانونی ٹیم کی کارکردگی کچھ اس بری طرح بے نقاب ہونا شروع ہوئی کہ اس کے سنبھل جانے کے امکانات بھی دور دور تک نظر نہیں آ رہے۔

آرمی چیف کی ایکسٹنشن کیلئے نکالے جانے والے سارے نوٹسوں کا عدالت کی جانب سے مسلسل رد کیا جانا قانونی ٹیم کیلئے تو ایک بڑا دھچکا تھا ہی لیکن خود وزیر اعظم اور صدر کی اہلیت بھی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی تھی۔ اس مسئلے کو نمٹانے کیلئے اگر خود آرمی چیف درمیان میں نہ آتے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ اب تک آرمی چیف کی ایکٹنشن کا معاملہ کیا رخ اختیار کر چکا ہوتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کو گزشتہ کچھ مہینوں سے ایک کے بعد ایک بحران کا سامنے کرنا پڑ رہا ہے۔ کوئی ایک معاملہ سیدھا کر دیا جاتا ہے تو اسی کی کوکھ سے ایک اور ہنگامہ جنم لے لیتا ہے۔ ایک کے بعد ایک حماقت کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ حکومت ان مسائل کی جانب توجہ ہی نہیں دے پا رہی جن کا تعلق براہِ راست عوام کی فلاح و بہبود سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کب جاگے گی - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

قانونی ٹیم کے متعلق ایک عرصہ دراز سے یہ بات سامنے آ رہی تھی کہ ٹیم کے اپنے اندر ایسے اختلافات موجود ہیں جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت سخت مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے "حسبِ سابق" قوم کو یہ اطمنان دلایا گیا کہ یہ سب باتیں مخالفین کے پروپیگنڈے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ جب کوئی بات زباں زدِ عام ہونے لگے تو وہ کسی نہ کسی مرحلے پر ہو کر ہی رہتی ہے۔ قانونی ٹیم کے آپس کے اختلافات کی ہانڈی آخرِ کار بیچ چوراہے پر کچھ اس طرح پھوٹی کہ حکومت لاکھ منھ چھپانے کے باوجود شرمندگی کے طوق کو اپنے گلے سے اتار پھینکنے میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرنس داخل کیا تھا جس میں ان پر کئی سنگین الزامات بھی لگائے گئے تھے۔ حکومت کی قانونی ٹیم نہ صرف ان الزامات کو عدالت میں ثابت کرنے میں سخت ناکام رہی بلکہ ججز پر سخت الزامات لگانے پر اٹارنی جنرل انور منصور کو نہ صرف عدالت سے معافی مانگنا پڑی بلکہ انھوں نے اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفا بھی دیدیا جو صدر مملکت نے قبول بھی کر لیا۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عدالت کے خلاف سخت ریمارکس پاس کرنے کی وجہ سے انھوں نے اٹارنی جنرل سے خود استعفا طلب کیا تھا جس پر انھوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی استعفا دیا۔فروغ نسیم جو ایک بہت بڑے وکیل اور پاکستان کے وزیر قانون ہیں ان کے متعلق پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو بدنام کرنے کے ماسٹر مائنڈ فروغ نسیم ہی ہیں، بغیر کسی تاخیر انہیں وفاقی کابینہ سے الگ کیا جائے، پاکستان بار کونسل نے ہی انور منصور کو مستعفی ہونے کیلئے کہا تھا جس پر انور منصور نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفا دیدیا تھا۔

پاکستان بار کونسل نے انور منصور کے بعد فروغ نسیم کو وزیر قانون کے منصب سے فوری ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ بار نے سابق اٹارنی جنرل انور منصورخان کی عدالت عظمیٰ سے غیر مشروط معافی اور استعفے کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق انور منصور خان نے کہا کہ متنازع بیان کا حکومت اور متعلقہ شخصیات کو علم تھا۔ بار نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ عدلیہ کو بدنام کرنے کے ماسٹر مائنڈ فروغ نسیم ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فروغ نسیم نے ہمیشہ غیر جمہوری قوتوں کے لیے کام کیا اور اب مزید تاخیر کیے بغیر انہیں وفاقی کابینہ سے فوری الگ کیا جائے۔ پاکستان بار کونسل نے فروغ نسیم کے غیر جمہوری اقدامات کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے اب یہ بات کہ حکومت کوعلم تھا یا نہیں، لیکن یہ بات طے ہے کہ جو کچھ بھی بیانات عدالت کے سامنے آئے وہ وزیر قانون فروغ نسیم کی موجودگی میں ہی آئے تھے۔ ضروری تھا کہ عدالت کے سامنے فروغ نسیم اٹارنی جنرل کو فوراً ٹوک دیتے لیکن عدالت کے سامنے وزیر قانون کا کسی بھی قسم کا رد عمل سامنے نہ آنا ایک حیران کن قدم تھا۔ روبرو جج صاحبان تو کوئی بات نہ آ سکی لیکن وزیر قانون کا اپنے ہی اٹارنی جنرل سے استعفا طلب کر لینا، جیسا قدم کسی حد تک غیر معمولی سی بات محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت ہوش کے ناخن لے - حبیب الرحمن

ایک جانب قانونی ٹیم کی ایک دوسرے کے خلاف کھینچا تانی جاری ہے تو دوسری جانب جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سنیچر کو سپریم کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے اور صدر، وزیر اعظم، وزیر اعظم کے معاون خصوصی، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سمیت غیر قانونی جاسوسی کے عمل میں ملوث افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ ان کی جانب سے تحریری جواب میں کہا گیا کہ ایسے تمام افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بھی قائم کیے جائیں جنھوں نے سپریم کورٹ کے جج اور ان کے خاندان کے افراد کی غیر قانونی طریقوں سے جاسوسی کی اور ان سے متعلق ذاتی معلومات کو افشا کیا۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ اگر اثاثہ جات ریکوری یونٹ ہی غیر قانونی قرار دیا گیا تو پھر اس کی بنیاد پر کھڑی کی گئی پوری عمارت ہی منہدم ہو جاتی ہے اور یہ صدارتی ریفرنس اس یونٹ کی دی گئی معلومات کی بنیاد پر دائر کیا گیا۔ انھوں نے تحریری جواب میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے جس میں ان کے خلاف ایک ریفرنس خارج کیا گیا تاہم ان کے خلاف سخت ریمارکس بھی دیے گئے۔

گزشتہ دو دنوں کے کروٹ لیتے ہوئے حالات کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ بات بہت اچھے طریقے سے سامنے آتی جا رہی ہے کہ حکومت کی قانونی ٹیم کی کارروائیاں حکومت کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے مشکلات در مشکلات کھڑی کرتی جا رہی ہیں۔ اس مرحلے پر اگر عدالت کا رخ حکومت کی جانب مڑ جائے تو حکومت مزید پریشانی کا شکار ہو جائے گی۔ اس لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت اپنی ٹیم کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھے اور ایسے افراد پر مشتمل ٹیمیں بنائی جائیں جن میں ایسے لوگ ہوں جو ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنا جانتے ہوں اور کوئی بھی بات منھ سے نکالنے سے پہلے باہم مشوروں سے کام لیتے ہوں۔

معاشی ٹیم کی کار کردگی کا معاملہ بھی ابھی تک ایسا ہی رہا ہے۔ ٹیم کے افراد کا ایک دوسرے کے ساتھ ٹیم ورک کی بجائے انفرادی کھیل پر زیادہ زور دکھائی دیا ہے جس سے لگتا ہے کہ ٹیم کا ہر فرد اپنے آپ میں بزعمِ خود پوری ٹیم ہے اور سارے کام اس کی اپنی مرضی و منشا کے مطابق ہی ہونے چاہئیں۔

یہی ساری کمزوریاں قانونی ٹیم میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیمیں کوئی سی بھی ہوں، جب تک سارے کھلاڑی ایک دوسرے سے مربوط ہوکر نہیں کھیلیں گے اس وقت تک یہ سمجھ لینا کہ وہ میدان مار لیں گے، ناممکن ہے۔ یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ ایک دوسرے کے ساتھ پورے تعاون کے ساتھ کھیل کر ہی میچ جیتا جاسکتا ہے۔