عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔ افشاں نوید

آج آپ ادارہ نور حق آئیں گے۔اور۔ آج کے بعد کبھی نہیں آئیں گے۔آپ تو زندگی بھر یہاں آتے رہے ہیں۔مگر آج آپ کے استقبال کی انوکھی تیاریاں ہیں۔آپ کے چاہنے والے صبح سے پہنچے ہوئے ہیں۔انتظامات ہو رہے ہیں۔ٹریفک کیسے کنٹرول کرنا ہے کہ روانی میں خلل نہ پڑے۔کن راستوں سے آپ کو لے کر جانا ہے۔

ہزاروں کی خلقت جس رستے سے گزرے گی راستے نہ بند ہو جائیں۔انتظامات کچھ یوں کرنا ہیں کہ اللہ کی مخلوق کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔جس مخلوق کے لیے آپ نے خود کو وقف رکھا آج کے دن اس کے اکرام میں کوئی کمی نہ آئے۔

آپ جیتے جی بھی عزیز تھے اور آج عزیز جہاں ہوگئے۔۔سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ ۔ہر جگہ بس آپ ہیں۔سب آپ کو لکھ رہے ہیں، آپ کی ویڈیوز شئیر ہورہی ہیں۔آپ کا خطاب،آپ کا درس،آپ کی تذکیر،آپ کی لرزتی آواز آپ کا خوف خدا سے بھیگا لہجہ۔کتنے درد سے آپ بندوں کو بندگی کی طرف بلاتے تھے ۔آج ہم آپ کو ہمیشہ سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔اللہ نے آپ کو جو موقع دیا،جو زندگی دی اس کو آپ نے برت کے دکھایا کہ دیکھو کیسے جیتے ہیں،اشرف المخلوقات ہونا کسے کہتے ہیں۔آپ کی موت نے آپ کی زندگی کی کتنی خوبصورت گواہی دی ہے بابا جی۔ہر اپنا پرایا اشک بار ہے۔اس شعر کو ترمیم کے بعد یوں کیا جاسکتا ہے کہ

جس دھج سے کوئی دنیا سے گیا

وہ شان سلامت رہتی ہے۔

آپ کی دھج اور آپ کی شان آپ ہی کے حصے میں آئی تھی۔آپ پر سینکڑوں مضامین لکھے جائیں گے اس سے کئی ضخیم کتابیں آپ کے چاھنے والے تیار کریں گے۔آپ ہی جیسوں کے تو مجسمے بنا کر وہ اپنے عجائب گھروں میں رکھتے ہیں،جن کو انکے اکابرین اور اگلی نسلیں سلوٹ کرتی ہیں۔وہ یاد رکھتے ہیں اپنے عظیم لوگوں کو۔ہمارے پاس بھی آپ کی یاد کا طریقہ ہے۔آپ کے مشن کو جاری رکھنا۔

ہم نے ادارہ نور حق میں بارہا آپ کو سنا،آپ کو دیکھا،ٹرک پر کھڑے ہو کر جو خطابات آپ نے کیے،جو پیغام دئے وہ سب زندہ پیغام تھے لیکن آج آپ جو پیغام دیں گے ویسا پیغام تو ہمیں کبھی نہ ملا تھا۔آج جو بھی آپ کا دیدار آخر کرے گا،جو آپ کو کندھا دے گا،جو تابوت کے ساتھ ساتھ چلے گا،جو مٹی ڈالے گا آپ کی لحد پر،جو دعا کو ہاتھ آٹھائے گا،جو آستین سے آنکھوں کے گوشے صاف کرے گا،جو چشمہ اتار کر جیب سے ٹشو نکالے گا،جو اپنے گھر میں دپٹے کے پلو سے آنکھیں پونچھ رہی ہیں،کسی کے آنسو آنکھوں کے بجائے حلق میں گر رہے ہیں۔ان سب سے ایک ہی سوال ہے آپ کے جسد خاکی کا کہ۔۔بتاؤ کیسے جیو گے،کس کے لیے جیو گے؟اور سنو!اپنے لیے جینا بھی کوئی جینا ہے۔آج کے دن کے لیے زندگی سنوارو کہ نفس مطمئنہ کا استقبال فادخلی فی عبادی ودخلی جنتی کی صداؤں کے ساتھ ہو(ان شاءاللہ)۔

آج کچھ کھونے کے احساس سے ہم لرز گئے ہیں۔ہم خود اپنے آپ سے تعزیت کررہے ہیں،ایک احساس یتیمی رگ وپے میں اترا ہوا ہے اہلیان کراچی کے۔خود کو دلاسہ دے رہے ہیں،ہم نے ایک اور شاہ بلوط گرتے دیکھا ہے۔آپ کے چاہنے والے ہزاروں یا لاکھوں نہیں ہیں۔صرف انسان ھی نہیں ہیں۔وہ ہسپتال،وہ پارک،وہ مدرسے،وہ کنوئیں،وہ ہینڈ پمپ،وہ تعلیمی ادارے،وہ بستیاں جہاں آپ صرف خلق کی دست گیری کے لیے جاتے تھے،وہ سفر جو زندگی بھر آپ نے کیے،وہ ساری مٹی آج گواہی دے گی۔آپ جتنی گواہیاں سمیٹ کر گئے ہیں وہ تو گنتی کے لوگوں کے حصے میں آتی ہیں۔فلک تو بھی گواہ رہنا،یہ مٹی اور ہم اس پہ بسنے والے بھی گواہ ہیں۔

آپ کے حقیقی چاہنے والے تو وہ ہیں جو اس مشن کو زندہ رکھیں جو آپ کا مشن تھا۔آپ دوسروں کے لیے جئے اور سچ مچ جی گئے۔جی داروں کی طرح جیے۔جینا سکھا گئے۔کہہ گئے کہ
یہ جان تو اک دن جانی ہے پھر جان کے کیسے لالے ہیں ۔گر ساتھی منزل پانی ہے تو منزل آخر منزل ہے۔ادارۂ نور حق آپ کو خدا حافظ کہ رہا ہے۔ہم آپ سے جدائی کے دکھ کو قلب کی گہرائی سے محسوس کررہے ہیں۔

ہم تصور کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ فرشتوں نے روح قبض کرتے ہوئے کہا ہوگا کہ ایک تھکا ہوا آدمی آیا ہے خاک آلود پیروں کے ساتھ۔حکم ربی ہے کہ اس کے آرام کا خیال رکھا جائے۔
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے ۔ شبنم نورستہ اس گھر کی نگرانی کرے۔آمین یا رب العالمین