کل جہاں PKK بے مہار پھِرتے تھے آج وہاں امن و امان کا دور دورہ ہے: صدر ایردوان

ہمارے نقطہ نظر سے ادلب کا مسئلہ بھی عفرین اور چشمہ امن آپریشن کے علاقے جتنا ہی اہم ہے، انشاء اللہ وہاں بھی ہم اپنے قومی اور شامی بھائیوں کے مفادات سے ہم آہنگ نتیجہ حاصل کر لیں گے: صدر رجب طیب ایردوان .

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ادلب چہار رکنی سربراہی اجلاس 5 مارچ کو استنبول میں منعقد ہو گا۔ کل ازمیرکے علاقے برگاما میں عوام سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے ملک کے اندر اور سرحد پار آپریشنوں کے ذریعے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم پی کے کے کو اس کی تاریخ کی کاری ترین ضربیں لگائی ہیں۔ ہم نے نہ صرف دہشت گردوں کو انہی کے کھودے ہوئے گھڑوں میں دفن کیا ہے بلکہ چشمہ امن، شاخ زیتون اور پنجہ آپریشنوں کے ذریعے شام اور عراق میں انہیں شکست بھی دی ہے۔ صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ہم نے شام میں 8 ہزار 300 کلومیٹر علاقے کو داعش اور PKK/YPG کے دہشت گردوں سے صاف کیا ہے۔ کسی زمانے میں جہاں PKK کے قاتل بے مہار پھِرتے تھے آج وہاں امن و استحکام کا دور دورہ ہے۔ انشاء اللہ ہم ایسا ہی امن و امان 4 لاکھ آبادی پر مشتمل علاقے ادلب میں بھی قائم کریں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے نقطہ نظر سے ادلب کا مسئلہ بھی عفرین اور چشمہ امن آپریشن کے علاقے جتنا ہی اہم ہے۔ میں نے جمعہ کے دن روس کے صدر ولادی میر پوتن، جرمن چانسلر اینگیلا مرکل اور فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی جس میں میں نے ترکی کے لئے ادلب کی اہمیت کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں بیان کیا ہے۔ صدر ایردوان نے کہا ہے کہ 5 مارچ کو ہم دوبارہ مذاکرات کریں گے جن میں ان موضوعات پر بات چیت کی جائے گی۔ انشاء اللہ اس مسئلے کا بھی ہم اپنے قومی ا ور شامی بھائیوں کے مفادات سے ہم آہنگ نتیجہ حاصل کر لیں گے۔