پوری دنیا کا حکمران

حکمران جس کو ساری دنیا کے حکمران سلطان العالم (سارے عالم کا حکمران) کہتے تھے۔ "میرا سلطان" نامی ڈرامے کے ذریعے ان کی سیرت کو بگاڑ کر دنیا کو دکھانے کی کوشش کی گئی. اس ڈرامے میں انھیں صرف حرم کی خواتین میں مشغول اور ان کے نازنین اٹھاتے اور عیاش پرست دکھایا گیا ہے۔

یہ ہیں عثمانی سلطنت کا سب سے عظیم حکمران سلیمان القانونی رحمہ اللہ۔ سلیمان نے 48 سال حکومت کی۔ انھی کے دور میں خلافت عثمانیہ سپرپاور بن گئی۔ انھوں نے ہی سنت کو دوبارہ زندہ کیا۔ بدعات کا قلع قمع کیا۔ باغیوں اور سازشیوں سے ریاست کو پاک کیا۔

تمام مسلم اور غیر مسلم مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ خلافت عثمانیہ کا سنہری دور اس وقت تھا جب سلیمان القانونی خلیفہ تھے۔ انہوں نے ہی جہاد کو عروج پر پہنچایا۔ ان کی زندگی کا سب سے اہم معرکہ "موھاکس" ہے، جس پر پورے یورپ میں ماتم کیا گیا تھا۔

امت مسلمہ کا یہ عظیم قائد جن کی فوج کا ساری دنیا احترام کرتی تھی، اور ان کی فوج کی حر کت سے صلیبی حکمرانوں پر لرزہ طاری ہوتا تھا، اور ان کی حکومتیں ہل جاتی تھیں۔ ان کے عہد میں مسلم افواج یورپ کے قلب میں پہنچ گئی تھیں۔ دو بار ان کی فوج فینا کے فصیلوں سے ٹکرائی۔ ان کے زمانے میں خلافت عثمانیہ تین براعظموں تک پھیل گئی، ایشیا، یورپ اور افریقہ۔

سلیمان عالی شان کے دور میں خلافت عثمانیہ بلا شرکت غیر دنیا کی واحد سپر پاور بن گئی جس کے بارے میں کسی کو اختلاف بھی نہیں۔ انھی کی فوج دنیا میں نمبر 1 تھی۔ انھی کا اسلحہ سب سے جدید اور خوفناک ہوا کر تا تھا۔ سمندروں، ساحلوں، بندر گاہوں اور آبی گزرگاہوں پر انہی کی فوج کا راج تھا۔

جرمن مورخ "ہالمر" کہتا ہے کہ یہ سلطان ہمارے لیے صلاح الدین ایوبی سے بھی بڑا خطرہ تھے۔ انگریز تاریخ دان " ہارورڈ " کہتا ہے کہ ان کی موت کا دن ہی صلیبی دنیا کے لیے عید کا دن ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اپنے اس ہیرو کی سیرت کا علم نہیں۔ وہ صرف مغربی ڈراموں اور فلموں کے ذریعے ان کا نام سنتے ہیں، جن میں ان کی سیرت کو بگاڑ دیا گیا ہے۔ سلطان سلیمان القانونی خادم الحرمین الشریفین اسلامی تاریخ کا ایسا نام ہے جس پر خود تاریخ بھی نازاں ہے۔ ان کے تذکرے کے بغیر تاریخ کچھ بھی نہیں۔