اس ملک میں بیکار لوگ مزے میں ہیں- خالد مسعود خان

گزشتہ تین دن بڑے مزے کے تھے؛ نہ اخبار‘ نہ ٹیلی ویژن اور نہ ہی سوشل میڈیا کا ہنگامہ ‘بلکہ یہاں تک کہ ٹیلیفون بھی کبھی کبھار مرضی سے چلتا تھا۔ اس کی اس حرکت سے تنگ آ کر میں نے تو فون باقاعدہ بند کر کے بیگ میں ڈال دیا۔ اب بھلا ایسے فون کو خواہ مخواہ اٹھائے پھرنے کا فائدہ ؟جو فون تو میرا ہو‘ لیکن مرضی اپنی کر رہا ہو۔ سو‘ اسے اس کے اس اختیار سے محروم کرتے ہوئے تین دن کیلئے بند کر دیا۔ اس دوران دوستوں کو‘ گھر والوں کو اور ملنے جلنے والوں کو کافی تکلیف ہوئی‘ لیکن بہرحال یہ تین دن کم از کم میرے لیے خاصے پر سکون اور لاپروائی سے بھرپور تھے۔ یہ تین دن قلعہ دراوڑ سے قریب تین چار کلومیٹر آگے ایک صحرائی ٹیلے پر گزرے۔ یہاں آنے کی وجہ وہی پرانی تھی۔ ''چولستان ڈیزرٹ ریلی‘‘ میں شرکت اب تقریباً سالانہ ایونٹ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ نہ میں نے جیپ بھگانی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی جیپ کے ڈرائیور کے نیوی گیٹر کے فرائض سرانجام دینے ہوتے ہیں‘ مگر اس کیمپ میں دو سے تین دن گزارنے ایسے شاندار ہیں کہ سال بھر ان دو تین دن کا انتظار رہتا ہے۔

پہلے اسد بھی میرے ساتھ اس ریلی میں آتا تھا ‘مگر جب سے وہ اسلام آباد گیا ہے‘ اس کی شرکت ختم ہو گئی ہے اور سمسٹر میں نکلنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ وہ اس ریلی کو بری طرح ''مس‘‘ کرتا ہے۔ میرے دوست بھی ہر بار اس کا پوچھتے ہیں اور وہ خود ہر بار ''انکل سٹوری ٹیلر‘‘ (Uncle Story Teller) کے بارے میں ضرور دریافت کرتا ہے۔ یہ الطاف کمال ہے۔ ہمارے پرانے دوست حافظ اقبال خاکوانی کا بڑا بھائی۔ حافظ اقبال خاکوانی اس کیمپ کا باضابطہ یا بے ضابطہ جو بھی کہہ لیں‘ کیمپ کمانڈنٹ ہے اور یوں سمجھیں کہ ''امرت دھارا‘‘ ہے۔ ہر مرض کا علاج اس کے پاس ہے۔ کافی سے لے کر گھر کے بنے ہوئے سوہن حلوے تک اور مکھن سے لے کر گاجر اور سیب کے مربے تک کی بے وقت فراہمی اس کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ سب چیزیں کیمپ میں باافراط موجود بھی ہیں اور ہمہ وقت دستیاب بھی ‘لیکن حافظ اقبال کے ذریعے ان کی دستیابی انتہائی بے وقت بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہ ہمارے دوست اطہر خان خاکوانی کا کیمپ ہے ‘جہاں ہم گزشتہ دو عشروں سے زائد ہو گیا ہے‘ اس ریلی کے لئے آتے ہیں اور دوتین دن کا موج میلہ کر کے چلے جاتے ہیں۔ خاکوانی برادران‘ یعنی اطہر خاکوانی‘ انس خاکوانی اور اویس خاکوانی اس کیمپ کو ہر سال بنانے سنوارنے اور دوستوں کی فوج ظفرموج کو سنبھالنے کیلئے ریلی سے ایک ہفتہ قبل اہتمام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور صحرا میں اپنے اس ٹیلے پر ایسا بندوبست کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ ''جنگل میں منگل‘‘ والا محاورہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سمجھ آ جاتا ہے۔

اس بار ملتان سے قلعہ دراوڑ جانے کیلئے ملتان سکھر موٹروے والا راستہ اختیار کیا۔ ملتان سے سکھر جاتے ہوئے ہم جھانگڑہ اتر گئے اور وہاں سے ہتھیجی‘ مبارک پور اور نور پور نورنگا سے ہوتے ہوئے محراب پور والی سنگل سڑک کے ذریعے شاہی والا‘ کنڈے والے پل اور وہاں سے دراوڑ پہنچ گئے۔ دراوڑ سے کیمپ تک جانا ہمیشہ میرے لیے تھوڑا مشکل مرحلہ رہا ہے۔ رات کو پہنچیں تو صحرا کے اندر تین چار کلومیٹر اس طرح طے کرنے کہ نہ کوئی سڑک ہے اور نہ باقاعدہ راستہ۔ اوپر سے ہر طرف گزرتی ہوئی گاڑیوں اور جیپوں نے اتنے راستے بنا دیے ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ دن کو بلند و بالا کیمپ کی روشنیاں نظر نہیں آتیں اور ہر طرف اڑنے والی دھول نے سارا منظر دھندلا کیا ہوتا ہے۔ پہلے ہر بار غیور خان کو تکلیف دی جاتی تھی اور وہ دراوڑ کی شاہی مسجد سے ہمیں آ کر لے جاتا تھا۔ اب یہ آسان طریقہ نکالا ہے کہ قلعہ سے آگے جا کر شاہی مسجد اور قلعہ کو پشت کی طرف رکھ کر ریت بھرے ٹیلوں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں اور اللہ کے فضل سے ہر بار بالکل سیدھا اپنے کیمپ میں پہنچ جاتے ہیں۔

کنڈے والے پل سے دراوڑ تک کا راستہ پہلے بھی خراب تھا‘ لیکن اب مزید خراب ہو گیا ہے۔ اس خراب راستے سے مراد سڑک کا معیار نہیں‘ بلکہ عوام کے بڑھتے ہوئے ذوق و شوق کے باعث ٹریفک کی زیادتی اور ٹریفک قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھنے کے ہمارے قومی مزاج کے باعث ہونے والی بدانتظامی اور بے ہنگم پن ہے۔ احمد پور شرقیہ سے شاہی والا اور وہاں سے دراوڑ تک سڑک کافی بہتر ہو چکی ہے‘ لیکن سنگل ہونے کی وجہ سے ان چار دنوں میں آنے والی بے پناہ ٹریفک‘ جو سو فیصد ''اپنی مرضی اپنا قانون‘‘ کے روشن اصولوں پر چل رہی ہوتی ہے‘ ایسی ہے کہ بعض اوقات تو بالکل پھنس جاتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ وہی بے صبری اور جلد بازی ہے‘ آمنے سامنے سے آنے والی ٹریفک اس طرح ایک دوسرے کے مقابل سر جوڑ لیتی ہے کہ دوسری طرف سے آنے والی گاڑیوں کے گزرنے کے لیے سنگل لین بھی دستیاب نہیں ہوتی‘ لہٰذا اس بے ہنگم ٹریفک میں سب پھنس جاتے ہیں۔

کنڈے والے پل سے لے کر دراوڑ تک سڑک کے دونوں اطراف کوئی ہریالی تھی؟ جاتے ہوئے دائیں طرف زیادہ تر کھیتوں میں گندم لہلہا رہی تھی اور بائیں طرف رایا کی فصل بہار دکھا رہی تھی۔ گندم کی فصل اگیتی کاشت تھی‘ اور پودے پر سٹہ لگ چکا تھا۔صحت مند اور خاصے معقول سائز کا سٹہ۔یہ سارا علاقہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ٹڈی دَل کے حملے سے بچا ہوا ہے اور ابھی تک محفوظ ہے۔ رایا اور توریا کی فصل بھی پکنے کے قریب ہے اور خاصی اچھی نظر آ رہی تھی۔ اس علاقے کے آس پاس کے علاقوں میں ٹڈی دَل نے خاصا نقصان کیا ہے ‘لیکن ادھر بچت ہو گئی ہے۔ امید ہے گندم کی پیداوار اچھی رہے گی اور دعا ہے کہ ٹڈی دَل ادھرکا رخ نہ کرے۔ اس علاقے کے لوگوں کی سال بھر کی معیشت کا دارومدار انہی دو فصلوں پر ہوتا ہے اور اگر یہ برباد ہو جائیں تو اس علاقے کا کاشتکار تباہ ہو جاتا ہے۔
یہ چار پانچ دن کا میلہ اس علاقے کی معیشت کیلئے ایسا ہے‘ جیسے اس علاقے کی کمزور معیشت کو گلوکوز کی بوتل لگا دی جائے۔ اب یہ صورتحال ہے کہ بلا مبالغہ ساڑھے تین چار لاکھ لوگ اس جیپ ریلی کو دیکھنے اور لطف لینے کیلئے صحرا میں آتے ہیں اور جنگل میں منگل کا سا سماں بناتے ہیں۔ اطہر خاکوانی کا کیمپ ٹیلے پر ہوتا ہے اور رات کو وہاں سے دور تک کامنظر نظر آتا ہے۔ کیمپوں اور چھوٹے چھوٹے خیموں کا ایک وسیع منظر نامہ آپ کے سامنے ہوتا ہے۔

روشنیوں کا ایسا وسیع سمندر کہ آنکھیں اس منظر کو دیر تک دیکھتی ہیں اور تازہ دم ہو جاتی ہیں۔ سامنے دور روشنیوں میں نہایا ہوا قلعہ دراوڑ۔ ریت کے وسیع صحرا میں کھڑایہ بلند و بالا قلعہ آہستہ آہستہ ریت کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ مرمت اور تحفظ سے محروم یہ صدیوں پرانا قلعہ اس صحرا کے درمیان ایک دیو کی طرح کھڑا ہے اور اب اس کی ہمت جواب دیتی جا رہی ہے۔ اس کے گرد جلتی روشنیاں صرف ایک ہفتے کی بہار دکھا کر بجھ جاتی ہیں اور یہ قلعہ دوبارہ اندھیروں میں کھو جاتا ہے۔ اس علاقے کے لوگ بڑی شدت سے اس ڈیزرٹ ریلی کا انتظار کرتے ہیں۔ ہم سے بھی کہیں بڑھ کر یہ ایک ڈیڑھ ہفتے کی رونق ان کیلئے سال بھر کی خوشحالی لے کر آتی ہے۔
کیمپ کے دن رات دو مختلف ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ رات روشن‘ ہنگامہ پرور اور زندگی سے بھرپور۔
دن خاموش‘ پرسکون‘ سویا ہوا اور بے جان سا۔ ساری رات اردگرد کے کیمپوں سے لائوڈ سپیکر پر لگے گانے آپ کا دل بھی بہلاتے ہیں اور تنگ و پریشان بھی کرتے ہیں۔ اچھا گانا ہو تو دل برادرم ایاز امیر کی طرح شاد ہو جاتا ہے اور بور قسم کا گانا لگ جائے تو سارا لطف برباد کر دیتا ہے۔ ساری رات دائیں بائیں سے فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں۔ کبھی سنگل فائر اور کبھی لمبا بر سٹ۔ کبھی پٹاخے چلتے ہیں اور کبھی آتش بازی۔ ساری رات ایک لمحے کی خاموشی نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی ہوا آپ کی طرف آ رہی ہو تو دور سے کسی کیمپ میں کھنکتے گھنگھروئوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں اور طبلے کے ساتھ ہارمونیم کا ساز اور کسی مغنیہ کی آواز۔ دن خاموش اور تھکا ہوا۔ ہم سب لوگ ناشتہ کر کے کہیں صحرا کے اندر چلے جاتے ہیں اور کسی ایسے مقام کو تلاش کرتے ہیں‘ جہاں سے ریلی میں حصہ لینے والی گاڑیوں کو نا صرف دور سے آتا ہوا دیکھیں ‘بلکہ پھر دور تک جاتا ہوا بھی دیکھیں۔ دن کو ہمارا کیمپ تقریباً سنسان اور بے آباد ہوتا ہے۔ جن کیمپوں میں رات گئے رونق رہتی ہے‘ ان کے مقیم دن سو کر گزارتے ہیں ‘تاکہ اگلی رات کو دوبارہ جاگ سکیں۔ہم جیسے بیکار لوگوں کی تو خیر ہے سب سے تنگ و پریشان وہ ڈرائیور رہتے ہیں‘ جنہوں نے اگلے روز گاڑی دوڑانی ہوتی ہے۔ اس ملک میں بھی وہی تنگ و پریشان ہوتا ہے‘ جس نے کچھ کرنا ہوتا ہے۔ بیکار لوگوں کی خیر ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں اکثریت ہم جیسے لوگوں کی ہے۔