حقیقت یہ ہے کہ - جویریہ سعید

ڈراموں اور فلموں میں خاتون مرکزی کردار گھبرائی ہوئی اور چنچل سی سیدھی سادی لڑکی کا ہو جسے کسی کھڑوس قسم کے بندے کے ساتھ کام کرتا دکھایا جاتا ہے تو ناصرف عوام میں بہت پسند کیا جاتا ہے بلکہ مزیدار بات یہ کہ یہ گھبرائی ہوئی سادہ سی لڑکی اپنی احمقانہ حرکتوں سے اسی کھڑوس باس کے دل میں گھر کرلیتی ہے اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔

کہانیاں، ڈرامے اور فلمیں یہی باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی پروفیشنل ادارے کی مری ہوئی فضا اور تناؤ والے ماحول میں جہاں ساری بور خواتین فضا کو بوجھل بنائے رکھتی ہیں۔ ایک گھبرائی ہوئی، سادہ دل ، اور بہت خوش اخلاق اور نرم دل خاتون کی آمد تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح سارے ماحول کو بدل دیتی ہے۔ وہ کھڑوس باس کے گرد چڑھے ہوئے سخت خول کو توڑنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔

وہ ناصرف معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ ذومعنی گفتگو کرنے لگتا یے، لڑکی کے ابوجان کی طرح اس کا بغیر کہے خیال رکھنے لگتا ہے، بلکہ باقی لوگوں کے ساتھ بھی اس کے رویے میں خو شگوار تبدیلی آتی ہے اور سب لوگ اس پیاری سی لڑکی کو پسند کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک لڑکی سب سے مختلف ہوتی ہے، اس کا دل زندہ ہوتا ہے اور وہ ماحول کی یکسانیت سے بغاوت کرکے "اپنی سچی زندگی " جیتی ہے اور دوسروں کو بھی جینا سکھاتی ہے۔

مگر معاف کیجیے گا ۔۔۔ حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا۔ پروفیشنل اداروں میں ایسا رویہ رکھنے والی خواتین کے ساتھ خاصا برا ہوتا ہے۔اگر خاتون نوعمر اور/یا خوش شکل بھی ہیں تو ایک کے بجائے کئی حضرات کے دلوں کے دروازے کھلنے کا اندیشہ ہے۔۔۔ اور کئی بیک وقت ان سے دل بہلانے کی کوشش کرتے پائے جاتے ہیں۔

اور اگر خاتون اتنی پرکشش نہ ہوں یا پرکشش نظر نہ آنے کا اہتمام کرتی ہوں تو ان کے لیے ناپسندیدگی کے جذبات پیدا ہونے اور چارج شیٹ جمع ہونے کے امکانات کہیں زیادہ ہیں۔ خصوصا اگر آپ کہیں پیشہ ورانہ تربیت سے گذر رہی ہوں اور کسی نچلی تربیتی پوسٹ پر ہوں اور آپ کا جائزہ لیا جارہا ہو تو ان اوصاف کے ساتھ آپ کا "سپر نائس" ہونا آپ کے لیے مزید گڑبڑ کا سبب بن سکتا ہے۔

لہذا۔۔۔۔۔
سمجھدار خواتین اگر مزاجاً سادہ و زندہ دل بھی ہوں تب بھی باقاعدہ کوشش کرکے سنجیدہ و متین، خود اعتماد اور مضبوط نظر آنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لوگوں اور خصوصا حضرات کے ساتھ معاملات میں خوش اخلاقی کے باجود محتاط رویہ اختیار کرتی ہیں اور اپنی واضح حدود کا تعین کرتی ہیں۔

سادگی میں لوگوں پر بھروسہ کرنے کی کوشش، خوامخواہ میں سہارے تلاش کرنا، معاملات میں کچھ زیادہ گرم جوشی دکھانا ان کے لیے عموماہر دو صورتوں (زیادہ پرکشش یا کم پرکشش) میں خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

اس قسم کے فکشن کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ حقیقی زندگی کی تلخیوں سے فرار کی ایک خوش کن پناہ گاہ کے طور پر تخلیق کیا جاتا ہے۔ اسے ذہن کی جنت سمجھ لیں ۔ لیکن اگر آپ کے اپنے دل میں کچھ گڑبڑ قسم کے منصوبے و ارادے نہیں ہیں اور آپ پھر بھی ان پر حقیقی زندگی میں بھی عملدرآمد کا سوچ رہی ہیں تو آپ کا انجام احمقوں کی جنت میں ہونے کا قوی امکان ہے۔

بداخلاقی اور غیر ضروری "نائس" ہونے کے درمیان توازن کی راہ اختیار کرنا، اپنی حدود کا تعین کرکے ان کا خیال رکھنا ہی مفید حکمت عملی ہے۔

وہ حضرات بھی جو کام کرنے والی خواتین کے بارے میں بری رائے رکھتے ہیں ، خاطر جمع رکھیں، جائے ملازمت اکثر اوقات سرد جنگ کا میدان ہوتی ہے جہاں ہر ایک اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہوتا ہے۔

اس لیے ہر خاتون جو باہر جاتی ہے، پکنک منانے نہیں جاتی، اور جو حضرات خواتین کے ساتھ کام کرتے ہیں، اپنی کولیگز پر ہرگز فدا نہیں ہورہے ہوتے۔ بلکہ عموما ایک دوسرے کے لیے تلخ و ناپسندیدہ جذبات پائے جاتے ہیں۔ڈرامے اور فلمیں دیکھ کر اپنی خواتین پر شک نہ کیا کریں۔