جناب وزیراعظم،ایک شعبہ تعلیم بھی ہے - پروفیسر جمیل چودھری

مہنگائی زیادہ ہونے کی وجہ سے وزیراعظم کی توجہ بس ادھر ہی رہتی ہے۔ملک کے دوسرے بنیادی شعبے تمام کے تمام عدم توجہی کاشکارہیں۔پناہ خانے،لنگرخانے اوراب پرچون خانے۔اس عارضی انتظام سے کچھ ماہ کے لئے کچھ لوگوں کوفائدہ حاصل ہوگا۔

اس مسٔلہ کا صحیح حل صرف اور صرف پورے ملک میں معیشت کے تمام شعبوں میں روزگار کے مواقع پیداکرنا ہے۔اورروزگار کے مواقع پیداکرنے میں تعلیم کاشعبہ سب سے اہم ہے۔اس شعبہ کوپیداآور بنایاجائے ۔دنیابھر میں قوموں نے اپنی آبادیوں کوتعلیم دیکرہی برسرروزگار بنایا ہے۔سب سے زیادہ وسائل بھی تعلیم پرلگائے ہیں۔اسی سے پاکستان کی مجموعی ترقی جڑی ہوئی ہے۔گزشتہ1-1/2سالوں میں مجھے نہیں یاد کہ وزیراعظم نے کبھی کسی یونیورسٹی یاکالج کاوزٹ کیا ہو۔

ہمیں پاکستان میں تعلیمی اداروں کی تعداد توبڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔وزیراعظم کویہ پتہ ہوناضروری ہے کہ اس اہم ترین شعبہ میں کیا ہورہا ہے؟۔میں شروع میں ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہونے والے2۔انتہائی غیر ذمہ دارانہ کاموں کی طرف توجہ دلاناچاہتا ہوں۔ایک غلط کام کی اطلاع ہمیںمحترم انصارعباسی کے کالم سے ملی۔انہوں نے بیان کیا کہ اسلام آبادسے تعلق رکھنے والی ایک این۔جی۔او نے اپریل2018ء میں ایسی خواتین جنہیں Work Placeپرہراساں کیاجاتا ہے کے لئے ہیلپ لائن شروع کی۔این۔جی۔او کوتقریباً 21۔ہزار شکائتیں موصول ہوئیں۔

جن میں سے صرف17۔ہزار شکائتیں مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والی طالبات کی طرف سے موصول ہوئیں۔پرائیویٹ تعلیم اداروں کے برعکس سرکاری جامعات سے تعلق رکھنے والی طالبات نے زیادہ شکایات درج کرائیں۔جامعات میں آجکل سمیسٹر سسٹم نافذ ہے۔اوراسی بنیاد پر مرداساتذہ انہیں دباؤ میں لاکر جنسی طورپر ہراساں کرتے ہیں۔رات گئے اساتذہ کرام اپنی طالبات کو فون پر پریشان کرتے ہیں۔اوراگر طالبات اپنی انتظامیہ سے شکایت کرتے ہیں تو ادھر سے فوراً ایک کمیٹی بنادی جاتی ہے۔

لیکن کمیٹی میں بھی مرد اساتذہ ہی ہوتے ہیں اوروہ اپنے ہی ساتھیوں کی حمایت کرتے ہیں۔طالبات کی باتوں کوکوئی بھی صحیح انداز سے سننے کے لئے تیارنہیں ہوتا۔این۔جی۔او کوسب سے زیادہ شکائتیں پنجاب سے وصول ہوئیں۔اس صورت حال کوختم کرنے کے لئے جناب وزیراعظم کوئی سخت قدم اٹھایا جائے۔دوسری شکایت یہ بھی بذریعہ پریس معلوم ہوئی ہے۔کہ ابتدائی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلباء کونشہ آور اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔

نئی نسل میں یہ رجحان کافی بڑھتا جارہا ہے۔یہ ہمارے طلباء کی صلاحیتوں کوبرباد کرنے کاپروگرام ہے۔اس طرف وزیراعظم کسی ادارے میں جاکر جائزہ لیں۔کوئی کمیٹی اورکمیشن بنانے سے اس طرح کے مسائل فائلوں میں ہی دب جاتے ہیں۔وزیراعظم صاحب کو اپنے دفتر سے باہرنکل کرتعلیمی اداروں میں ہونے والے ایسے گھناؤنے واقعات کوسمجھنا اور ان کا توڑکرنا ضروری ہے۔اس کے بعد ہم تعلیمی نظام کی طرف آتے ہیں۔اس میں تعلیم کامعیار کیا ہے۔فیکلٹی ممبران کیسے ہیں۔فنڈ کی صورت حال کیا ہے۔کیا اعلیٰ یا ابتدائی تعلیم کے ادارے اپنے فرائض صحیح اداکررہے ہیں۔کیا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں علم میں اضافہ ہورہا ہے یا نہیں۔اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں تعلیم کے2۔مراحل ہوتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں اساتذہ پہلے سے موجود علمی ورثہ کوطلباء تک پہنچاتے ہیں۔دوسرا مرحلہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نیا علم تخلیق کرنے کا ہوتا ہے۔اسے ہم ریسرچ بھی کہتے ہیں۔اس دنیا ئے رنگ وبو میں قوموں کا اعتبار نئے علم کی تخلیق پرہوتا ہے۔یہ کام تب ہوتا ہے جب ادارے کاماحول پرسکون ہو۔اوربہت ضروری ہے کہ اساتذہ Competentہوں۔وہ اپنے مضموں میں راسخ فی العلم ہوں۔وہ یہ صلاحیت رکھتے ہوں کہ موجودہ علم کے ساتھ ساتھ طلباء میں نئی سوچ پیداکریں۔جب کسی بھی موجود علم کو آگے منتقل کیاجارہا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   مہنگائی مارگئی - الیاس محمد حسین

تو طلباء کھلے اور آزادانہ دماغ سے سوالات کرسکتے ہوں۔اساتذہ انہیں سوالات کرنے پر ابھاریں تاکہ موضوع کاکوئی بھی گوشہ تشنئہ تکمیل نہ رہے۔اس موضوع کے نئے دروازے بھی کھلیں۔اصل نئے علم کادروازہ سوال پوچھنے کی جرات ہوتی ہے۔ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شروع سے ہی اس طرح کاماحول مہیانہیں ہے۔اس لئے پاکستانی تعلیمی اداروں میں2سال یا4سال بعد صرف ڈگریاں تقسیم ہوتی ہیں۔استاد ایک طے شدہ سبق پڑھاکے کلاس سے نکل جاتا ہے۔سوچ بچار اوربحث وتمحیث کلاسوں میں نہیں ہوتی۔

پہلے سے موجود نظریات طلباء تک پہنچانے سے علم میں اضافہ تو نہیںہوتا۔اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تحقیق وتخلیق کاماحول پیداکرناانتہائی ضروری ہے۔کچھ قابل طلباء کوکچھ وقت کے لئے معروف سائنسدانوں کے پاس بھیجا جائے۔طالب علم اس بڑے سائنسدان سے پوچھیں کہ آپ نے سائنس میںیہ مقام کیسے حاصل کیا۔آپ نوبل انعام تک کیسے پہنچے اکثر ماہرین تعلیم کی یہ رائے ہے۔کہ اس کاتعلق ذہنی رجحان اورکسی بڑے سائنسدان کی صحبت سے ہوتاہے۔

جناب وزیراعظم صاحب آپ کبھی کسی یونیورسٹی میں آکر تودیکھیںکہ یہاں کیاہورہا ہے۔ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں اس طرح کاتخلیقی ماحول پیداکرنا انتہائی ضروری ہے۔کیمسٹری میں نوبل انعام حاصل کرنے والےH.A.Krebsنے اس ذہنی رجحان بارے خاصا مطالعہ کیا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ "اگر میں اپنے ابتدائی 4سال Otto Wornbergجیسے بڑے سائنسدان کے ساتھ نہ گزارتا تومیرے اندرسائنس کا صحیح ذوق پیداہونا محال تھا"۔Krebsنے بتایا کہ اعلیٰ سائنس دانوں کی صحبت جوسب سے بڑی چیز کسی کودیتی ہے۔وہ سائنسی حقائق اورسائنسی طریقوں کے بارے معلومات کاانبار نہیں۔یہ دونوں چیزیں توہرجگہ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

جوبات حقیقی فرق پیداکرتی ہے وہ دراصل فیضان نظر ہے۔جسے عظیم استاد اپنے شاگردوں میں پیدا کرتا ہے۔ یہی فیضان نظر ہے۔جس کووہ عمومی سائنسی روح کا نام دیتاہے۔یہی رجحان کسی شخص کوسچا سکالربناتا ہے۔سب سے بڑی بات تویہ ہے کہ ایک عظیم استاد یاسائنسدان اپنے شاگرد کے ذہن میںحقائق کے بارے معلومات سے زیادہ ایک ذہنی رویہ Attitudeمنتقل کرتا ہے۔اس ذہنی رویے میں2۔باتیں اہم ہیں۔ایک عجز(Humility)اور دوسراشوق یاگہری دلچسپی۔

یہ دونوں بڑے زینے ہیںجس سے گزرکرآدمی اونچی ترقی کی منازل تک پہنچتاہے۔شوق آدمی کو اکساتا ہے کہ وہ کہیں رکے بغیر اپناسفر جاری رکھے۔شوق آدمی کے اندر تجسس کاجذبہ ابھارتا ہے۔جس کی وجہ سے وہ چیزوں کوجاننے کی کرید کرتا ہے۔اس کے ساتھ عجز بھی انتہائی ضروری ہے۔عجز کا مطلب ہے۔اپنے آپ کو حقیقت اعلیٰ سے کم سمجھنا۔ایسا آدمی غلطی معلوم ہوتے ہی فوراً اس کا اعتراف کرلیتا ہے۔وہ حق کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔جناب وزیراعظم جب ہم اپنے تعلیمی اداروں میں تعلیم کے نظام کودیکھتے ہیں۔تو ہمیں بہت مایوسی ہوتی ہے۔طلباء میں اپنے مضمون میں شوق پیداکرنے کی کوشش نہیں کی جارہی۔میٹرک اورانٹر تک کاسارا نظام تو رٹے پرمشتمل ہے۔

ایک طے شدہ سلیبس ۔اس میں سائنس کے بارے کچھ معلومات لکھ دی گئی ہیں۔کلاس روم میں استاد باربار یہی باتیں یادکرواتا رہتا ہے۔سلیبس ایک دفعہ نہیں باربار دھرایا جاتا ہے۔اورطلباء کو یہ باور کرایاجاتا ہے کہ آپ نے دی گئی معلومات 100۔فیصد یاد کرنی ہیں۔اس سلیبس کا باربارٹیسٹ ہوتا ہے۔طلباء سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنی یاداشت بہت اونچی رکھیں گے۔اساتذہ کی توجہ سالانہ امتحان کے نتائج پرہوتی ہے۔A+اورAگریڈ کلاس میں کتنے لڑکوں نے حاصل کئے۔جہاں تک سائنسی Conceptsکاتعلق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترقی کی راہ میں رکاوٹیں - پروفیسر جمیل چودھری

وہ واضح ہوئے یانہیں اس کی طرف توجہ کسی کی بھی نہیں ہوتی۔سالہا سال سائنس کاطالب علم رہنے کے باوجود شوق اورجستجو کاجذبہ پیدانہیں ہوتا۔کریدنے اور آگے بڑھنے کی طلب نہ ہونے سے ہمارے ہاں بڑے سائنسدان پیدا نہیں ہورہے۔ملک سے باہر سائنس کی دنیا میں صرف2۔نام ڈاکٹر عطاء الرحمن اورڈاکٹر عبدالسلام جانے جاتے ہیں۔عبدالسلام کے بارے تو ملک کے اندرمذہبی لحاظ سے بڑا تعصب ہے۔اوپر بتائی گئی تفصیل ایسی ہوگئی ہے جو یونیورسٹیوں اورکالجوں میں ہونے والے لیکچرز میں بتائی جاتی ہے۔لیکن میں توپاکستان کے سب سے بڑے ذمہ دار کے سامنے بات رکھ رہاہوں۔وہ یہ باتیں تمام تعلیمی اداروں تک پہنچائیں۔

ہمارے ہاں یونیورسٹیوں کی تعداد اب250تک ہوگئی ہے۔پنجاب میں نئی یونیورسٹیاں بھی بن رہی ہیں۔جناب بزدار صاحب نے ہرضلع میں سرکاری شعبہ میں یونیورسٹی کے قیام کا پروگرام بنالیا ہے اوراس پرعمل درآمد شروع بھی ہوگیاہے۔یہ ایک اچھا پروگرام ہے۔ہمارے ہاں سائنسی تحقیقات کے15۔کے قریب معروف ادارے بھی ہیں۔جن میں کئی دھائیاں پرانے بھی ہیں۔لیکن تمام تعلیمی اور تحقیقی ڈھانچہ کے باوجود نئی تحقیق وتخلیق میں ملک کوئی مقام حاصل نہیںکرسکا۔جب تحقیق سے نئے تصورات اورطریقے پیداہوتے ہیں۔یہی طریقے آگے نئی نئی ٹیکنالوجیز میں ڈھلتے ہیں۔انہی کو معیشت کے مختلف شعبہ جات میں استعمال کیاجاتا ہے۔

یہی نئی نئی ٹیکنالوجیز معیشت میں پیداوار بڑھاتے ہیں۔یونیورسٹیوں میں تحقیق ہماری معیشت کی ضروریات اورصنعتوں کی ضروریات کوسامنے رکھ کر کی جائے۔اس طرح ہماری معیشتKnowldge base ہوجائے گی۔اور یہی دورجدید کی ضرورت ہے۔مغرب،چین،جاپان اورروس اسی طرح کی تخلیق سے تیزی سے آگے جارہے ہیں۔ایسالگتا ہے کہ مغرب نے پورے کرۂ ارض کوقبضہ میں لیا ہوا ہے۔

انٹرنیٹ کے تحت کام کرنے والی تمامApplicationsاور کمپنیوں کے ذریعے امریکہ کے پاس پورے کرۂ ارض پر آباد لوگوں کا Dataموجود ہے۔کرۂ ارض پرہونے والی تمام سرگرمیاں بھی امریکی جانکاری میں ہیں۔اسی لئے امریکہ کے جال سے بچنے کے لئے چین نے اپنا انٹرنیٹ سسٹم علیحدہ بنایا ہوا ہے۔روس بھی اب یہی سوچ رہا ہے۔مسلم ممالک کوبھی اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے اہتمام کرنا چاہئے۔بات ابتداء میں عمران خان کے شعبہ تعلیم کی طرف توجہ سے شروع ہوئی تھی۔

بات بہت دور نکل گئی۔تعلیمی اداروں کے فنڈز کے بھی مسائل ہیں۔فنڈز کی کمی کوبڑی صنعتوں اورکمپنیوں سے امدادلیکر پورا کیاجائے۔مشکل معاشی حالات کے دوران حکومت سے بہت زیادہ کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔جناب وزیراعظم کوئی دن نکالیں۔کسی تعلیمی ادارے کاوزٹ کریں۔جومسائل بتائے گئے ہیں۔اس طرف توجہ دلائیں۔اب ہم معاشی لحاظ سے بہت نیچے آچکے ہیں۔ہمیں سکولوں میں ہی بچوں کوتکنیکی کام سکھانے ضروری ہوگئے ہیں۔تاکہ میٹرک کے بعد ہی بچے اپنا چھوٹابڑا کام شروع کرلیں۔

مزید بے روزگاری میں اضافہ نہ ہو۔لیکن ملکی معیشت کوآگے بڑھانے کے لئے سائنسی تخلیقات انتہائی ضروری ہیں۔کرۂ ارض پرموجود تمام ترقی یافتہ قوموں نے سائنس وٹیکنالوجی میں آگے بڑھ کرہی کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔لہذا اسلام آباد کی دفتریت اورمیٹنگز سے باہر نکل کر ہی ملک کے تمام شعبوں میں کچھ حرکت پیداکی جاسکتی ہے۔ہم تعلیم میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔