محبت کا سوالی - ام محمد سلمان

دل میں محبت کی شمع جلائے وہ بوڑھا وجود تیز تیز قدم بڑھا رہا تھا۔ دور سے نظر آتی جبلِ اُحد کی چوٹیاں اس کے آتشِ شوق کو مزید بھڑکا رہی تھیں۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ احد کے دامن میں پہنچ چکا تھا، گہرے گہرے سانس لیتا ہوا وہیں کھڑا ہو گیا۔

ذرا سانس بحال ہوا تو دامنِ اُحد میں دفنائے ہوئے شہداء اُحد کے لیے دعا کی نیت سے ہاتھ اٹھائے تو بے اختیار آنکھوں سے موتی جھڑنے لگے۔ جانے کون کون سے مناظر آنکھوں میں جھلملانے لگے۔ تاریخ کے جھروکوں سے جھانکتی ہوئی جنگ احد کی جھلکیاں۔ شہداء کا بہتا خون، اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر مر مٹ جانے والوں کی ادائیں، گھوڑوں کی ہنہناہٹ، اونٹوں کی بلبلاہٹ، تلواروں کی جھنکار، نیزوں کا شور اور اللہ اکبر کی گونجتی صدائیں۔

میرے خدا میرے خدا! کیا منظر ہوگا وہ... بوڑھے وجود نے پھر سسکیاں بھرنا شروع کر دیں۔ شہداء اُحد کو محبت و عقیدت سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، جنت میں ان سے ملاقات کی تمنا دل میں لیے، جبلِ احد کی طرف ایک بھرپور نظر ڈالی اور گلو گیر آواز میں مخاطب ہوا ۔

"اے احد!! تجھے میرا سلام..!

تو جانتا ہے میں یہاں کیوں آیا ہوں؟"

کیوں کہ میرے نبی نے ایک دن کہا تھا:

"احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم بھی احد سے محبت کرتے ہیں۔"(صحیح بخاری)

اے پر شکوہ جبلِ احد!! میں بھی تجھ سے اپنی محبت کا اقرار کرنے آیا ہوں۔ جیسے میرے رسول ﷺ کو تجھ سے محبت تھی، میں بھی تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں تیری مٹی، چٹانوں اور سنگ ریزوں سے بھی پیار کرتا ہوں۔ اے اُحد!! تو بھی تو مجھ سے محبت کر... مجھے یہ نسبت بھی پیاری ہے کہ میں اتباع سنت میں تجھ سے محبت کروں اور تو مجھ سے محبت کا اقرار کرے۔

بوڑھے کی سفید داڑھی آنسوؤں سے بھیگ چکی تھی۔ تھکے وجود میں اب کھڑے رہنے کا یارا نہ رہا تو وہیں چند پتھروں سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ یہ جنوری کی ایک سرد سی شام تھی۔ سورج کی نرم چمکیلی شعاؤں نے ماحول کو خوشگوار کر دیا تھا۔ نیلے آسمان پہ کہیں کہیں تیرتے سفید بادلوں کے ٹکڑے سورج کی روشنی سے مزید چمک رہے تھے۔

ان بدلیوں کو دیکھ کر بوڑھے کے چہرے پر ایک مسکراہٹ دوڑ گئی۔ کیا شان تھی میرے نبی ﷺ کی! جب سورج آگ برساتا تو بدلیاں ان پر سایہ کرتی تھیں۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ اس نے بڑی محبت سے درود پڑھا اور پھر ایک جذب کے عالم میں پڑھتا ہی چلا گیا۔ پھر کہنے لگا:

یہ بھی پڑھیں:   محبت ان لاء - رقیہ اکبر چودھری

"اے احد!! ایک بات کہوں!

آج اگر یہاں میرے مربی، میرے حبیب، سیدی محمد مصطفیٰ احمد مجتبٰی ﷺ موجود ہوتے تو میں بصد شوق و احترام ان سے عرض کرتا۔"یا رسول اللہﷺ!! آپ کی محبت جوانی کے اولین دنوں سے میرے دل کی جڑوں میں بیٹھ گئی تھی۔ میں نے آپ سے محبت کی تو محبت کے تقاضوں کو نبھانے کی بھرپور کوشش بھی کی۔ یا رسول اللہ ﷺ! میرے یہ بال اسلام میں سفید ہو گئے، میرے چہرے پر جھریاں پڑ گئیں، میری ہڈیاں کمزور ہو گئیں، مگر اطاعت کا جذبہ ہمیشہ جوان رہا۔

مجھے ایسا لگتا ہے وہ منظر میری آنکھوں میں سمایا ہے جب ایک صحابی رضی اللہ عنہ آپ سے آکر کہہ رہے تھے کہ جب محبت و شوق کا سمندر دل میں ٹھاٹھیں مارتا ہے تو زیارت کے بغیر چین نہیں پڑتا. سوچتا ہوں جنت میں آپ بڑے اعلی درجوں میں ہوں گے تو ہم آپ سے کیسے مل پائیں گے؟اور سبحان اللہ!! کیا کہنے اس گھڑی کے جب فرش پہ سوالی نے سوالِ محبت کیا اور عرشِ معلیٰ سے جواب "اطاعت" آیا تھا۔

جبرائیل امیں نے آ کر مژدہ سنایا کہ "جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین۔ اور کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں ۔ اور یہ رفاقت محض اللہ کا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں ہر ایک کے عمل کو (سورہ نساء،70،69)

یا رسول اللہ!! میں نے یہ آیت سیکھی اور اپنی زندگی لگا دی، آپ کی رفاقت حاصل کرنے اور اس محبت کو سچا ثابت کرنے میں۔ اپنے اعمال کو نکھارنے میں، منکرات سے بچنے، احکام پر عمل کرنے اور آپ کے پیغام کو حتی المقدور آگے پہنچانے میں ۔

اور مجھے آپ کا وہ ارشاد گرامی بھی یاد ہے:

"لا یومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ" (حسن صحیح)

تم میں سے کوئی اس وقت تک صاحب ایمان نہ ہوگا جب تک کہ اس کی خواہش اور رجحان اس تعلیم و ہدایت کے تابع نہ ہو جائے جس کو میں لایا ہوں۔"اور میں نے اپنی خواہشات کو آپ کے احکامات کے تابع کر لیا۔

اور جب آپ ﷺ نے فرمایا تھا:

"من احب سنتی فقد احبنی و من احبنی کان معی فی الجنۃ"جس نے میری سنت سے پیار کیا، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔" (مسند احمد و کنز العمال)

یہ بھی پڑھیں:   رخصتی - طوبیٰ ناصر

تو میں نے اتباع سنت میں جان لڑا دی۔ میرا سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا اور زندگی کے سارے اختیاری معمولات آپ کی سنت کے مطابق ہو گئے۔
اور اے حبیب خداﷺ!! آپ نے یہ بھی فرمایا تھا نا "المرء مع من احب" (قیامت کے دن) آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے۔ تو میرا دل دیوانہ وار آپ کی محبت میں تڑپنے لگا۔ میں اپنے جان و مال، والدین اور اہل و عیال سے بھی زیادہ آپ سے محبت کرنے لگا۔

اور قرآن مجید میں بھی تو اللہ رب العزت نے جگہ جگہ شان بیان کی ہے آپ کی.. "اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول" یعنی اللہ کی اطاعت بھی اور آپ کی اطاعت بھی۔ پھر میں کیسے نہ آپ کی اطاعت کرتا؟ میں کیسے آپ کی نافرمانی کرتا؟ میں عمل سے خالی رہ کے محبت کے دعووں میں جھوٹا ثابت نہیں ہونا چاہتا تھا۔ میں تو.. میں تو.. یا رسول اللہ!! سچی محبت کرتا ہوں آپ سے۔ میں نے اس محبت کو نبھایا اور زندگی آپ کے اتباع میں گزار دی ۔ بشریت کے ناطے جو کمی کوتاہیاں ہوئیں وہ میری کمزوریاں تھیں.. میرا اللہ مجھے معاف کر دے۔

محبت کہیں اطاعت کے بغیر بھی ہوتی ہے؟ محبت تو دل کا سودا ہے۔ دل جب کسی کے سامنے اپنی انا و خواہشات کو زمیں بوس کر دیتا ہے اور صرف محبوب کی رضا کو مقدم رکھتا ہے ۔ یا رسول اللہ!!ﷺ

میری محبت کا یہ ادنیٰ تحفہ قبول کیجیے.. قبول کیجیے۔ بوڑھا آنکھیں بند کیے ایک عالم جذب میں پکارتا چلا جا رہا تھا۔ آنسوؤں سے دھلتے چہرے پر راہ کا گرد و غبار مٹ چکا تھا۔
ایک طویل ٹھنڈی آہ بھری.. اٹھا اور شہرِ مدینہ کی طرف رخ کرتے ہوئے، اُحد سے مخاطب ہوا:"اب چلتا ہوں!! دل تو چاہتا ہے تیرے پاس اور بیٹھوں اور اپنے محبوب کی باتیں کروں۔ مگر بیٹھوں گا نہیں۔ وہاں کچھ دور سواری میرا انتظار کررہی ہے۔ مغرب تو میں اپنے نبی ﷺ کی مسجد میں ہی پڑھوں گا ان شاء اللہ۔

بوڑھے نے ایک الوداعی نظر احد پہ ڈالی تو دل تھم سا گیا۔ یوں لگا اس بلند و بالا پہاڑ نے جیسے کچھ کہا ہو ...کیا کہا؟؟ مگر الفاظ کہاں تھے!!! وہ تو بس ایک احساس تھا... ہاں ایک احساس تھا۔ شاید یہ کہا تھا..."پھر کب آؤ گے؟"اور دو قطرے بڑی شدت کے ساتھ آنکھوں سے ڈھلک گئے۔

دو محب ایک دوسرے کو الوداع کررہے تھے۔ اور محبت کا پیہم یقین دل میں لیے بوڑھے قدم سواری کی جانب تیز ہو گئے۔