زنگار نامہ کامطالعہ کیوں ضروری ہے - محمد قاسم سرویا

محترم عامر خاکوانی صاحب کا تعلق بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ سے ہے اور آپ سے میرا تب سے غائبانہ انٹروڈکشن اور ریلشین ہے جب آپ ڈیلی ایکسپریس میں کالم لکھا کرتے تھے اور میں ان کے کالم بہت شوق اور توجہ سے پڑھتا تھا۔

(پھر اب فیس بک پر اور دلیل ڈاٹ پی کے پر بھی آپ کو پڑھنا کافی اچھا لگتا ہے) کیونکہ سیاست سے ہٹ کے آپ کے تمام کالمز میں قاری کی بہتری کے بہت سے چانسز اور انگریڈی اینٹس موجود ہوتے ہیں۔

آپ اپنی تحریریں اتنے سادہ اور واضح انداز میں لکھتے ہیں کہ قاری کے دل میں "ہوم" بنا لیتے ہیں اور پھر وہ کسی اور سے مشورہ لیے بغیر خود ہی ان کی باتوں کو سمجھ جاتا ہے اور پھر وہی قاری انھی باتوں پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو بہتر سے بہترین بنانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ اگر عامر خاکوانی صاحب کو میگزین ایڈیٹری کا ماہر اعظم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ آپ نے تین بڑے اخبارات کے سنڈے میگزینز میں نئے ٹرینڈز متعارف کروائے، مڈویک ایڈیشنز اور اخبارات میں ڈائجست کی ٹرمز شروع کروائیں اور اپنی کری ایٹو سوچ اور انتھک محنت سے بہت سے نئے قارئین کو میگزین اور "پڑھائی" کی طرف موڑنے اور جوڑنے میں خوب کامیابیاں اور دعائیں سمیٹیں۔

عامر صاحب کی پہلوٹھی کی کتاب ان کے کالموں کا انتخاب دو سال پہلے "زنگار" کے نام سے شائع ہو چکی اور خوب داد سمیٹ چکی ہے، جس کی سدا بہار تحریریں پڑھنے والوں کا دل و دماغ موہ لیتی ہیں۔ زیرِ نظر کتاب "زنگار نامہ" میں بھی ایسی تحریریں شامل کی گئی ہیں جو قاری کی زندگی بدل سکتی ہیں۔کتاب کی طرف جانے سے پہلے جن کو معلوم نہیں ہے وہ "زنگار" کا مطلب جان لیجیے۔۔۔ یہ تانبے، آکسیجن اور گندھک سے مل کر بننے والا نیلے تھوتھے کی طرح کا ایک مادہ ہوتا ہے۔

دراصل زنگار اس کیمیکل سبسٹینس کو کہتے ہیں جو آئینے کے عقبی حصے پر گِھسے ہوئے تانبے کے روغن سے ملتا جلتا ہے اور اسے سامنے کی چیز منعکس کرنے کے لیے شیشے کے پیچھے لگایا جاتا ہے۔ یعنی آئینے کے حسین و شفاف رخ کا الٹ، جس کے بغیر خوبصورت رخ بے معنی ہو جاتا ہے۔ اگر منہ دیکھنے والے شیشے کے عکسی رخ کی دوسری طرف تانبے کا بدنما روغن (زنگار) نہ لگایا جائے تو عکسی رخ بھی کسی کام کا نہ رہے۔ ایسے ہی چمن بہار کے آئینے کا "زنگار" ہے، جب یہ خزاں میں ویران ہونے کے بعد پھر سے بہار میں پُربہار ہوتا ہے تو بہار اپنے اصلی جوبن کو دکھانے کے قابل ہو پاتی ہے۔

اسد اللہ غالب کا ایک شعر ہے

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

چمن زنگار ہے آئینہ باد بہاری کا

زندگی کا سیدھا سا فلسفہ یہ ہے کہ یہ اپنے متضاد سے پہچانی جاتی ہے۔ اور تضاد نہ ہوتو اصل اپنی پہچان ہی کھو دے۔ جیسے روشنی تاریکی سے پہچانی جاتی ہے، غم ہے تو خوشی ہے۔ اس لیے اس دورنگی کو ہی نیرنگئ حیات تسلیم کیا جاتا ہے۔

ابراہیم صاحب نے زنگار نامہ کا ٹائیٹل بہت سادہ بنایا ہے اور زنگار کی "ر" کو قلم بنا کر "عامر خاکوانی" صاحب کے نام کی طرف اشارے کا مطلب شاید یہ ہو کہ خاکوانی صاحب معاشرتی اونچ نیچ کو اپنے کالموں کے ذریعے پیش کرنے والے "زنگار" ہیں۔۔۔ یعنی معاشرے کے عکس کو منعکس کرنے کا باعث ہیں۔

جس طرح ہمارے نام کا ہماری شخصیت پر بہت اثر پڑتا ہے بالکل اسی طرح کتاب کے ٹائیٹل کا بھی کتاب پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس کی ایک زندہ مثال ہمارے بہت پیارے دوست محمد سعید جاوید صاحب کی ایوارڈ یافتہ کتاب "اچھی گزر گئی" ہے۔

جسے بہت سے لوگوں نے صرف اس کا ٹائیٹل دیکھ کر ہی خریدا اور کتاب پڑھ کر وہ خوب فرحاں و شاداں ہوئے۔ ویسے عامر خاکوانی صاحب "منے پرمنے" صحافی ہیں اور کتاب پر ان کا نام ہی کافی ہے۔"بہترین تمناؤں کے ساتھ" خاکوانی صاحب کا آٹو گراف پہلے صفحے پر خوب لشکاں مار رہا ہے اور ان کے سگنیچر اور ڈیٹ کے ساتھ یہ خاکوانی صاحب کی محبت کی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا۔۔۔ ( اللہ کرے یہ کتاب میرے پاس موجود رہے، کیونکہ اس کتاب کے دیوانے بہت ہیں۔

بک فیئر میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ اور مشہوری اسی کتاب کی دیکھنے میں آئی)۔ قاسم علی شاہ صاحب کے نئے اشاعتی ادارے "نئی سوچ" نے اس کتاب کو پرنٹ کیا ہے اور بہت خوب صورت انداز میں قارئین کو ایک "ودھیا" چیز پڑھنے کے لیے پیش کی ہے۔ شاہ صاحب خود ارفع وقار اور اعلیٰ معیار کا استعارہ ہیں تو ان کے کام بھی بڑے ویلیو ایبل اور ریلائبل ہوتے ہیں۔

اس کتاب کا انتساب خاکوانی صاحب نے اپنی والدہ مرحومہ کے نام کیا ہے، جو ان کا اپنی امی جی سے محبت و عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ "امی جی" کو اعلیٰ جنتوں میں مقام علیین عطا فرمائے اور عامر خاکوانی صاحب اور دیگر اہل خانہ کو صبر جمیل عطار فرمائے۔جنوری 2020ء میں شائع ہونے والی اس کتاب کی قیمت 700 روپے رکھی گئی ہے، جسے رعایتی قیمت پر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ 416 صفحات کی ایک ضخیم کتاب ہے جسے بین الاقوامی معیار اور اصولوں کے عین مطابق تیار کیا گیا ہے۔

اس لیے اس کتاب کو اپنی لائبریری کا حصہ بنا کر آپ بھی فخر محسوس کریں گے (تے فیدہ وادُو دا)، لیکن پھر آپ کو اس کتاب پر "سکاٹ لینڈ یارڈ" کا پہرہ بھی ضرور بٹھانا پڑے گا کیونکہ اگر کسی کی اس کتاب پر نظر پڑ گئی تو اس نے اسے ہتھیانے، دبانے اور گھر لے جانے کی بھرپور کوشش کرنی ہے چاہے منت سماجت کر کے ہی کیوں نہ کرے۔

فہرست کو دیباچہ اور حرف تشکر کے بعد دس حصوں میں تقسیم کرکے مختلف عنوانات پر کل 90 کالمز پیش کیے گئے ہیں۔ جن میں موٹیویشنل کالمز، عمل خیر، کتابوں کی دنیا، زندگی کے سبق اور تصوف و روحانیت پر زیادہ تحریریں موجود ہیں۔دیباچہ میں چند ابتدائی باتوں کے بعد خاکوانی صاحب نے نئے کالم نگاروں کے لیے بہت کام کی باتیں لکھی ہیں۔

جنھیں پڑھ کر خوب فائدہ لیا جا سکتا ہے، جیسے "گھڑا نہ بھرا ہو تو جلد خالی ہو جائے گا"، "صحافتی برادری سے ستائش کی توقع نہ رکھیں" اور "آپ سیاست سے گریز نہیں کر سکتے۔" خاکوانی صاحب کی یہ بات تو ہر کسی کو پلے سے باندھ لینی چاہیے کہ جب تک آپ اخبار میں اپنے آپ کو منوا نہیں لیتے، تب تک آپ رائیٹر کے طور پر اسٹیبلش نہیں ہوسکتے، چاہے فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا پر آپ کے لاکھوں فالوورز ہی کیوں نہ ہوں۔

حرف تشکر میں اپنے آباؤ اجداد اور فیملی کا ذکر خاص کرنے کے بعد آپ نے ہر اس انسان کا ذکر خیر کیا اور شکریہ ادا کیا ہے، جس نے اس کتاب کی اشاعت میں کسی نہ کسی طرح مدد کی یا اپنا تھوڑا سا بھی حصہ ڈالا۔ پہلا کالم "شمشیر وہی ہے"۔۔۔ 2012ء میں لکھی گئی وہ داستان ہے، جس میں سیکھنے والوں کے لیے بہت سی باتیں ہیں۔

"بگ باس" میں اپنی زبان سے پیار کرنے پر زور ہے تو "نالج لیس ڈگریاں" کالم نمبروں کی دوڑ سے بچنے کی ترغیب دیتا نظر آتا ہے۔ بچوں کو خواب دیکھنا سکھائیں۔ کمال کا کالم ہے۔ اپنے بچوں کو ذہین اور اچھے انسان بنانے کے لیے ہر والدین کو انھیں اپنے پاس بٹھا کر کہانیاں سنانے، ان کی پسند کی کتابیں اور رسائل پڑھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

عہد جو زندگی بدل سکتے ہیں۔۔۔ میں چیریٹی اور فلاح کے کاموں کی ترغیب بہت خوبصورت انداز میں دلائی گئی ہے۔ اللہ سے کیے گئے پکے عہد واقعی آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں لیکن اس میں بے ایمانی اور دونمبری کبھی شامل نہیں ہونی چاہیے۔

الغرض جس کالم کو بھی پڑھنا شروع کر دیں، وہ آپ کو زندگی کی نئی راہیں دکھاتا نظر آئے گا۔ میرا یقین ہے کہ جس نے بھی دل اور دھیان سے یہ کتاب پڑھ اور جذب کر لی، اس کی زندگی میں واقعی بہت بڑی مثبت تبدیلی آ کر رہے گی۔ تو پھر آج ہی برگر، پیپسیاں اور پیزے نہ کھا کر آپ یہ کتاب خریدیں اور اپنے دل و دماغ کی خوراک کا سامان پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنی خصوصی رحمتیں نازل کرے۔