عبرت - فیضان بٹ

ذاکر کی پیدائش نوے کی دہائی میں ہوئی- یہ وہ دور تھا جب کشمیر میں حالات کافی سنگین تھے -اسکی پیدائش سے ایک سال قبل ہی یہاں عسکری تحریک کا آغاز ہوا تھا -ذاکر پر بھی ان حالات کے کافی اثرات مرتب ہوئے ,ابھی ذاکر چار سال ہی کا تھا کہ اس کے والدین کو گھر چھوڑ کر ایک رشتہ دار کے ہار رہنا پڑا-

وہ مہینے میں کوئی ایک یا دو بار ہی گھر آیا کرتے تھے آ۶ے دن کرفیو ہڑتالوں اور محاصروں سے زندگی کا سکھ بے معنی ہو کر رہ گیا- ہر لمحہ ایک سخت کڑی کی مانند تھا اور ہر رات شب غم -ذاکر بچپن سے ہی شرارتی واقعہ ہوا تھا اپنی من مانیوں کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنی ماں سے کیا کیا نہیں کرواتا تھا- ذاکر اپنی ماں سے اکثر کہا کرتا تھا کہ" ماما ہم گھر کیوں نہیں جاتے"- ذاکر کی ماں اسے یقین دلانے کی کوشش کرتی تھی کہ حالات ٹھیک ہوتے ہی وہ اپنے گھر میں مستقل قیام کریں گے-

ایک دن جب صبح ہلکی ہلکی برفباری ہورہی تھی تو گاؤں کا محاصرہ شروع ہوا اس دن ذاکر اپنے والدین کے ساتھ گھر میں ہی تھا کچھ مدت بعد ہی گاؤں کے سبھی افراد کو ایک کھلے میدان میں جمع کیا گیا -ٹھٹھرتی سردی میں ہر کوئی کانگڑی کو سینے سے لگائے ہوئے کریک ڈاؤن کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا- سات سال کا ذاکر اپنی ماں کے گلے سے چمٹا ہوا تھا- دن گزرتا گیا اور لوگ انتظار کی اسی کشمکش میں مگن رھے-

کچھ وقت گزرنے کے بعد ذاکر بھوک سے بے حال ہوگیا مگر اس کی ماں کرتی تو کیا کرتی وہ ڈر کے مارے سہمی ہوئی تھی-وہ زاکر کو تسلی دینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی تھی-
اس کے پاس میں بیٹھی ایک دوسرے گاؤں کی عورت, جو یہاں اپنے رشتہ داروں کے ہاں آئی ہوئی تھی ذاکر کی اس حالت سے بے چین ہو گئی -وہ اٹھی اور کریک ڈاؤن توڑ کر ذاکر کے لئے کچھ کھانا لایا- حالانکہ اس کا یہ عمل اپنی جان پر کھیلنے کے مترادف تھا مگر اس نے بغیر کسی پرواہ کیے یہ قدم اٹھایا - اس نے ذاکر کے سامنے کھانا رکھا تو ذاکر اسے محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگا- پھر اس نے خود ھی اپنے ہاتھوں سے ذاکر کو کھانا کھلایا- اسی دوران برف باری دیرے دیرے تھمنے لگی-

کھانا کھاتے ہی ذاکر کو گہری نیند پڑھی اور اپنی ماں کے سینے سے لپٹ گیا-اس عورت کا یہ جذبہ ایثار ذاکر کے دماغ پر گہرے نقوش چھوڑ گیا -کچھ سال بعد حالات میں سدھار ہوا اور ذاکر پھر والدین کے ساتھ اپنے گھر میں رہنے لگا - وہ پڑھائی کے معاملے میں کافی تیز تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے درجہ بدرجہ ک۶ی ایک منازل طے کیں- وہ نہایت محنتی تھا- شاید بچپن کی سختیوں نے ھی اسے زیادہ سے زیادہ محنت کرنے کے لیے اکسایا تھا- بچپن کا شرارتی ذاکر لڑکپن کو پہنچتے پہنچتے شریف بن گیا-

اسکول میں اساتذہ ذاکر کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے وہ ہرسال امتحانات میں اول آنے لگا- بارہویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد ذاکر نے common entrance test کی تیاری شروع کی اور پہلے ہی ایڈپٹ میں کامیابی درج کی-اسطرح زاکر میڈیکل کالج پہنچ گیا-زاکر نے اپنی محنت سے وہاں بھی اپنا لوہا منوایا- اسی طرح کچھ سال گزرنے کے بعد وہ ڈاکٹر بن گیا-ڈاکٹر بننے کے بعد ذاکر میں ایک عجیب تبدیلی رونما ہونے لگی -اسے گاؤں کی زندگی سے جیسے نفرت سی ہو نے لگی-

اسے گاؤں کی زندگی میں اگنورنس نظر آنے لگی- اسے شہر کی رنگینیاں اتنی خوبصورت دکھا۶ی دینے لگیں کہ وہ گاوں کے سیدھے سادھے لوگوں کو حقیر سمجھنے لگا-وہ ماں باپ کو ساتھ لے کر شہر میں ہی قیام پذیر ہوا- شادی بھی شہر میں ہی طے ہوئی-گاؤں کی بچی کھچی زمین اور پرانے بوسیدہ مکان کو بیچ ڈالا-حالانکہ ذاکر کے والدین کو یہ ساری باتیں ناگوار گزری مگر وہ کیا کر سکتے تھے- ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے- انہیں بہرحال ذاکر کے بدلتے مزاج کے ساتھ ہم آہنگی جتانی پڑھی-

ذاکر قریب ہی ایک ہاسپٹل میں بطور چیسٹ سپیشلسٹ کام کرتا تھا حالانکہ ڈاکٹرذاکر نہایت ھی قابل ڈاکٹر تھا مگر مریضوں کے ساتھ اس کا رویہ نہایت ہی تند رہتا تھا- ایک دفعہ وہ opd روم میں پیشنٹس دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک دبلی پتلی ساٹھ ستر برس کی دہھاتی عورت داخل ہوئی- ڈاکٹر ذاکر نے تغافل برے انداز میں اس کو دیکھا- اسے جب opd card کے ریزڈنس کالم پر نظر پڑی پتہ چلا کہ یہ عورت اسی گاؤں کی مقیم ہے جہاں وہ بچپن میں سیب توڑنے جاتا تھا-

ڈاکٹر زاکر نے اس کے خاندان کے بارے میں پوچھا- اس کے پاوں سے زمين کھسکنے لگی جب اسے باتوں باتوں میں یہ پتہ چلی کی یہ وہی عورت ہے جس نے برسوں پہلے کریک ڈاؤن میں اسے کھانا کھلایا تھا- یہ جانتے ہی وہ اپنی سیٹ سے اٹھ گیا- ڈاکٹر ذاکر نے اس عورت کو گلے لگایا اور اس کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب ابھر آیا -بچپن کے اس واقعے کی دھندلی یادیں آج بھی ذاکر کے ذہن میں تھیں- آج ذاکر کو اپنے اوقات یاد آئے- آج کسی نے آکر کے اس کے وجود کو للکارا -اسے اپنا اصل یاد دلایا -

ڈاکٹر ذاکر کو اپنے آپ پر شرم آنے لگی- اس سوچ پر جو شہر میں رہ کر پروان چڑھی تھی- اسے یہ پتہ چلی کی کوئی انسان کتنا بھی خودمختاری کا دعوی کرے وہ اصل میں اپنی سوسائٹی کا قرض دار ہوتا ہے -اس میں یہ احساس ابرا کہ زندگی وہی ہے جو دوسروں کی بقا کے لیے استعمال ہو-

اپنے لیے تو حیوان بھی زندہ رہتے ہیں, دوسروں کے لئے جینا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے-اس واقعہ نے ذاکر کو جھنجوڑ کے رکھ دیا آج اس سیدھی سادی عورت نے ڈاکٹرذاکر کو انسانیت کا وہ سبق دیا جو اسے شاید ہی کسی اسکول یا کالج میں ملا ہو-

ٹیگز