مہمان صدر جو سوال چھوڑ گئے- مجیب الرحمن شامی

ترک صدر رجب طیب اردوان‘ جو عالمِ اسلام کے سب سے مقبول حکمران سمجھے جاتے ہیں، اور جنہیں مسلمان عوام میں ایک رول ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اسلام آباد کے دو روزہ سیاسی، جذباتی اور نفسیاتی دورے کے بعد واپس روانہ ہو گئے۔ ان کی اہلیہ اپنے سر کو پوری شدت سے ڈھانپے ہوئے ان کے ہمراہ تھیں۔ ان کے شوہر کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اِس بات کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا کہ جمہوریہ ترکیہ کی خاتونِ اول اس حلیے میں بیرون ملک تو کیا اندرونِ ملک بھی منظر عام پر آ سکے گی۔ سر ڈھانپنا وہاں ''گناہِ کبیرہ‘‘ سمجھا جاتا تھا، اور کسی خاتون عہدیدار کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ اس حلیے میں اپنے فرائض ادا کرے۔ یہی پابندی سرکاری عہدیداروں کے اہل خانہ پر بھی تھی، تعلیمی اداروں تک میں طالبات سکارف نہیں ''اوڑھ‘‘ سکتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ صدر اردوان کی اپنی دو بیٹیوں نے اس لئے امریکہ میں تعلیم حاصل کی کہ ترک یونیورسٹیوں میں وہ سکارف سمیت داخلہ نہیں لے سکتی تھیں۔ کئی برس پہلے ترک صدر سلیمان ڈیمریل پاکستان کے دورے پر آئے تو سیدہ عابدہ حسین ان کی وزیر مہمان داری تھیں۔ لاہور کے سٹیٹ گیسٹ ہائوس میں چند مدیران اخبارات کے ہمراہ ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ان دِنوں ترکی میں سکارف کے مسئلے پر بڑی گرماگرمی تھی۔

ان سے سوال کیا گیا کہ لباس کسی بھی شخص کا ذاتی معاملہ ہے، اگر کوئی عورت اپنا سر ڈھانپنا چاہتی ہے تو اس پر آپ کے ہاں اعتراض کیوں کیا جاتا ہے۔ وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو ان کی خدمت میں ایک ضمنی سوال پیش کر دیا گیا، سیدہ عابدہ حسین نے شاید مہمانِ گرامی کو مشکل سے نکالنے کے لئے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ مَیں سر ڈھانپ لوں۔ مَیں نے فوراً عرض کیا کہ مَیں یہ نہیں چاہتا کہ آپ میری مرضی کا لباس پہنیں، مَیں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ میری اہلیہ اگر سر ڈھانپے تو اس میں مداخلت نہ کی جائے... اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رجب طیب اردوان نے کس ماحول میں سیاست کا آغاز کیا، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے منظر پر چھا گئے۔ اپنی سیاسی جماعت بنائی، ایک عشرے سے زائد وزیر اعظم رہے، اور اب صدرِ مملکت کے منصب پر فائز ہیں۔ دستور میں ترمیم کر کے صدر کے اختیارات میں اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اب ترکی میں صدر براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے، اور امورِ مملکت میں اس کا وزن وزیر اعظم سے کہیں زیادہ ہے۔

پاکستان میں صدارتی نظام کئی بار قائم کیا گیا، فوجی صدور کو خاص طور پر یہ مرغوب و مطلوب رہا، لیکن کسی ایک صدر کو بھی براہِ راست عوام کے ووٹ حاصل کرنے کی توفیق نہیں ہو سکی۔ ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کے اسی ہزار ارکان کو اپنا حلقہ انتخاب بنایا، تو جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے یک طرفہ ریفرنڈم کے ذریعے اپنا سکہ چلایا۔ اس میں اکلوتے امیدوار ہی کو ووٹ دینا ہوتا تھا، سو دونوں ریفرنڈم اور ان کے نتائج ہماری تاریخ میں سوالیہ نشان بن کر رہ گئے۔ اگر عوام کو براہِ راست اپنے ووٹوں سے صدر منتخب کرنے کا موقع دیا جاتا، اور حکمران صدر کے مقابلے میں امیدواری ممنوع نہ ہوتی تو شاید پاکستان میں بھی پارلیمانی نظام کا نقشہ تبدیل ہو جاتا۔ رجب طیب اردوان ایک سیاسی رہنما ہیں، اور وہ بھی ایسے کہ کمال اتاترک کے بعد کا کوئی شخص ان کا ہم پلہ قرار نہیں پا سکتا۔ انہوں نے ترک سیاست کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان سے پہلے ترکی سیاسی طور پر منقسم، اور معاشی طور پر غیر مستحکم تھا۔ اسلامی ثقافت کی علامتیں بھی اعتراض کی زد میں تھیں۔ اردوان کا ترکی ایک ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ معاشی ترقی نے اسے معاشرتی اور سیاسی استحکام بھی عطا کیا ہے۔ ایک فوجی بغاوت کو عوامی مزاحمت کے ذریعے کچل کر ایک نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔ اب اس کے رہنما بڑی سے بڑی طاقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہیں ان کا وزن دنیا بھر میں محسوس کیا جاتا ہے۔

ترکی گزشتہ دو عشروں میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا، لیکن پاکستان ابھی تک ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اس کی معاشی مشکلات میں کمی آئی ہے، نہ سیاست میں ٹھہرائو پیدا ہوا ہے۔ آج بھی کاسۂ گدائی اس کے ہاتھوں میں ہے۔ آمدن کے مطابق خرچ ہے، نہ خرچ کے مطابق آمدن۔ ترکی کو چھوڑیے، یہ دیکھئے رینگنے والی بھارتی معیشت کی رفتار کیا ہے، اور بنگلہ دیش کس طرح چوکڑیاں بھر رہا ہے۔ کچھوے آگے نکل گئے ہیں، اور خرگوش میاں کے خراٹے ختم ہونے میں نہیں آ پا رہے۔ پاکستان کے سیاسی اور دفاعی ادارے تعلقات میں توازن ہی قائم نہیں کر پائے۔ یہاں ''میری مرضی‘‘ ''میری مرضی‘‘ کی گردان ہی چلتی رہی۔
ترک صدر نے پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں جس طرح مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ قرار دیا ہے، اور پاکستان کے ہر درد کو اپنا درد بنایا، اس نے ایک بار پھر کروڑوں پاکستانیوں کے دِل جیت لیے ہیں۔ کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، تجارت بڑھانے کے اعلانات کیے گئے، لیکن مہمانِ محترم جاتے ہوئے جو سب سے اہم سوال چھوڑ گئے ہیں، وہ یہی ہے کہ ترکی نے جو کر دکھایا ہے، وہ پاکستان بھی کر سکتا تھا، پھر یہ وہیں کا وہیں کیوں ہے؟ خود کو معتبر سمجھنے والے ہر شخص پر اس کا جواب واجب ہے۔ جب تک بڑے بن جانے والے یا بڑے کہلانے والے، اپنے اپنے گریبان کو ٹٹول کر جواب تلاش نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکیں گے، پیچھے کی طرف سفر جاری رہا تو پھر ترکی بننے سے تو رہے۔

یہ نکتہ بھی ذرا نوٹ کرتے جائیے کہ ترک مہمان نے اپنی کسی تقریر یا گفتگو میں ایک لفظ بھی اپنی داخلی سیاست، اپنے حریف سیاست دانوں اور اپنے ملک کو درپیش مشکلات کے حوالے سے نہیں کہا، جبکہ ہمارے محترم وزیر اعظم جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے دِل کے مبینہ داغ دکھاتے، اور پھپھولے پھوڑتے چلے جاتے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ رجب طیب اردوان جب گزشتہ دورِ حکومت میں پاکستان آئے، اور پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا تو تحریک انصاف نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ داخلی سیاست کو اس وقت بھی سمیٹنے پر تیار نہیں ہوئی تھی۔ صد شکر کہ آج کی اپوزیشن نے کل کی اپوزیشن کو اس کے سکوں میں جواب نہیں دیا، اور پوری یکسوئی کے ساتھ مہمانِ عزیز کو محض حکومت کا نہیں ریاست کا مہمان سمجھا... اور اس کی راہ میں آنکھیں بچھائیں۔
ہمارے چودھری اور سوشل میڈیا
ہمارے دوست چودھری فواد حسین بضد ہیں کہ سوشل میڈیا کی بین الاقوامی کمپنیوں کو اپنے دائرہ اختیار میں لا کر رہیں گے۔ انہوں نے وفاقی کابینہ سے ایسے قواعد و ضوابط بھی منظور کرا لیے ہیں جن کے مطابق مذکورہ کمپنیوں کو اپنے آپ کو پاکستان میں رجسٹر کرانا ہو گا۔ یہاں دفاتر کھولنا، اور اپنے رابطہ کار مقرر کرنا ہوں گے۔ ریاست پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والوں، اور اخلاقی قدروں پر حملہ آور ہونے والوں کی شناخت ظاہر کرنا ہو گی۔

اس حوالے سے ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ حکومت کی نیت اور صلاحیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسے سوشل میڈیا کو پا بہ زنجیر کرنے کی بھونڈی کاوش قرار دینے والے کم نہیں ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ حکومت بین الاقوامی کمپنیوں پر کمند کس طرح ڈال سکے گی، یہ ایسا مرحلہ نہیں جسے آسانی سے طے کیا جا سکے۔ اس سے قطع نظر یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا ایک پبلک ٹائلٹ بن چکا ہے۔ اس میں غلاظت انڈیلنے والوں کی شناخت بھی ظاہر نہیں ہو پاتی۔ اکثر اوقات نقاب پوش فیک نیوز پھیلاتے، اور عزتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کی شر انگیزی سماجی، اخلاقی اور مذہبی اقدار پر حملے کرنے سے بھی باز نہیں آتی۔ بیرون ملک بیٹھ کر تیر اندازی کی جاتی، اور اداروں کو مجروح کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کی افادیت کو مذکورہ عناصر کی حرکات نے دھندلا دیا ہے۔ اگر سنجیدگی کے ساتھ، اس بارے میں کچھ کیا جا سکے تو ضرور کرنا چاہیے۔ حکومت کو اپنی سیاسی ضرورتوں اور مفادات سے اوپر اٹھ کر قدم بڑھانا ہو گا، ایسا ہو سکے گا یا نہیں، اس بارے میں بہت زیادہ پُرامیدی کا اظہار نہیں کیا جا رہا۔ اس لیے سوچ سمجھ کر اقدام کیجئے، اور صرف قومی مفاد اور اقدار کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہو کر دکھایے، اپنے اقتدار کے لیے نہیں۔