کشمیر ترکی کا ’چنا کلے‘ - ترک صدر رجب طیب ایردوان کا خطاب

ترک صدر نے کہا کہ 'کشمیر ترکی کے لیے 'چنا کلے' کی حیثیت رکھتا ہے'۔ خیال رہے کہ چنا کلے ترکی کا وہ مقام ہے جہاں موجودہ ترکی نے 1923 میں آزادی کی فیصلہ کن جنگ جیتی تھی۔ اس جنگ میں ہزاروں ترک فوجی مارے گئے تھے۔

طیب اردوغان اپنے ہر خطاب میں اس معرکے کا ذکر کرتے ہیں اور اس میں برصغیر کے مسلمانوں کا نوآبادیاتی چیلنجز کے خلاف کھڑے ہو کر ترکی کی سفارتی، اخلاقی، جانی اور مالی تعاون کرنے کے لیے ہر بار شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ترک صدر نے جمعے کے خطاب میں بھی کہا کہ ’اس وقت کشمیر بھی ہمارے (ترکی) کے لیے وہی ہے جو آپ کے لیے (چنا کلے) تھا۔ کل چنا کلے تھا اور آج چنا کلے ہے، کوئی فرق نہیں ہے ان میں۔‘ ترک صدر نے کہا کہ ’پاکستان کا درد ترکی کا درد ہے اور پاکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا لیکن مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔‘

انھوں نے کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل پر بھی زور دیا۔ ترک صدر نے امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن منصوبہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک قبضے کا منصوبہ ہے۔‘ رجب طیب اردوغان نے کہا کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کا ماحول سازگار ہو رہا ہے لیکن اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اور ترکی کی دوستی مفاد پر نہیں بلکہ عشق و محبت پر مبنی ہے۔‘