زخم بھرجاتے ہیں مگراف ، یہ کھرچنے والے - قدسیہ ملک

زخم بھرجاتے ہیں مگراف ! یہ کھرچنے والے ....باجی مجھے سمجھ نہیں آتاکہ لوگ میرے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں" وہ رو رو کر اپناغم ہلکا کررہی تھی ۔ مگر غم سے ہلکان ہوئے جارہی تھی۔وہ درس والی باجی کو بتارہی تھی"باجی جب میں اس ذہنی دباؤ کی کیفیت سے باہر آتی ہوں۔ذرا ہنستی مسکراتی ہوں۔

تھوڑی دیر کےلئےاپناماضی بھول جاتی ہوں۔تو لوگ مجھے دوبارہ اسی کیفیت میں پہنچادیتے ہیں۔ایسے ایسے سوالات پوچھتے ہیں کہ میرے زخموں سے دوبارہ خون رسنے لگتاہے۔کیا مجھے دوسروں کی طرح جینے کا حق نہیں ہے؟کیا میں ہمیشہ ایسی ہی حالت میں رہوں گی؟باجی نے اسکی تمام باتیں غور سے سنی اور کہا"اگر لــوگ تمہیں قــبول نہیں کرتے تو تم کبھی اللہ کی رحمت مایوس مت ھونا۔کیونکہ لوگ اکثر وہ چیزیں چھوڑ دیتے ہیں جن کی قیمت وہ دے نہیں پـــاتــے۔

تم تو بہت قیمتی ہو"۔وہ ایک دم خاموش ہوگئی ۔ ایسے جیسے کسی نے اس کے رستے ہوئے زخموں پر مرہم رکھ دیا ہو۔ ایک صاحبہ نے اپنے گھر کا احوال بتایا ان کے ہاں دو ذہنی معذور بہن بھائی تھے۔ابنے بھائی کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں "جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو میں نے دیکھا ہے کہ ہمارا بھائی جب زیادہ تر وقت گھر کے اندر گزارتا تھا تو قدرے بہتر حالت میں ہوتا تھا۔مگر جب اس کا رابطہ باہر دوستوں، رشتہ داروں اور عام لوگوں سے پڑتا تو اس کی حالت بگڑ جاتی تھی۔ ایک تو ایسے مریضوں کو اپنی مرضی اور منشا کے برعکس باتیں سن کر اور کام دیکھ کر غصہ آجاتا ہے اور دوسرا بعض دفعہ لوگ بھی خلوص اور نادانی سے ان سے ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں کہ جس کا وہ منفی اثر لیتے ہیں۔

اس لئے ایسے مریضوں سے احتیاط سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خصوصاً ان پر طنز کرنے سے یا ان کا مذاق اڑانے سے حد درجہ گریز کرنا چاہیے۔آخر میں انہوں نے بتایاکہ اسطرح لوگوں کے رویوں سے دل برداشتہ ہوکر بالآخر اس کا انتقال ہوگیا۔اس بات کو بھی دس سال ہوگئے لیکن لوگ ابھی بھی بعض لوگ ہمارے زخموں کو کریدتے اور مزہ لیتے ہیں۔ ایک خاتون بتاتی ہیں میری بیٹی بہت خوش اخلاق تھی۔اسکے ساتھ بہت مسائل تھے۔اس کے دونوں گردے فیل ہوچکے تھے۔اس کے والد نے اس کو اپنا گردہ دیا تھا۔وہ ڈائلیسس پر ہوتی تھی۔لیکن لوگوں کے درمیان بہت خوش رہتی۔پوری رات وہ بستر میں روتی رہتی کہ فلاں آنٹی آج مجھے اس طرح کہہ رہی تھیں۔

وہ خاتون بتاتی ہیں میں روز اس کی ہمت بندھاتی ،اسے لوگوں کے آگے کھڑا کرتی۔وہ بہت حساس تھی۔وہ کہتی لوگ مجھے کہتے ہیں تمہارے ابو صرف ایک گردے پر تمہاری وجہ سے ہیں۔اس عمر میں ایک گردے کے ساتھ زندہ رہنا کتنا مشکل ہے۔ لڑکیاں بوجھ نہیں ہوتیں ۔ مگر اللہ کسی کو ایسی آزمائش میں مبتلا ناکرے۔وہ خاتون بتاتی ہیں میں اسکے اتنی باتوں کے سوالوں پر اسےکہتی تم ہمارے لئے آزمائش نہیں تم ہمارا مان ہو۔

مجھے تم پر فخر ہے۔لیکن وہ یہی غم لئے بالآخر یہ دنیا چھوڑ گئی۔ جن کبیرہ گناہوں کا تعلق حقوق اللہ (اللہ کے حقوق) سے ہے، مثلاً نماز ، روزہ ، زکاۃ اور حج کی ادائیگی میں کوتاہی، اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنے پراللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا، ان شاء اللہ۔ لیکن اگر ان گناہوں کا تعلق‘ حقوق العباد (بندوں کے حقوق)سے ہے مثلاً کسی شخص کا سامان چرایا، یا کسی شخص کو تکلیف دی یا کسی شخص کا حق مارا، تو قرآن وحدیث کی روشنی میں تمام علماء و فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی معافی کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ جس بندے کا ہمارے او پر حق ہے۔

اس کا حق ادا کریں یا اس سے حق معاف کروائیں، لوگوں سے خوش خلقی سے پیش آئیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ واستغفار کے لئے رجوع کریں۔ آنحضورص نے فرمایا"قیامت کے دن مومن کے اعمال کے ترازومیں کوئی چیز خوش خلقی سے زیادہ وزنی نہ ہوگی، اور اﷲ تعالیٰ بدگو اور بد زبان کو بہت برا سمجھتا ہے"۔لوگوں کے مسائل نرمی اور خوش اخلاقی کے ساتھ اگر آپ سنتے ہیں تویہ بہت اچھی بات ہے۔لیکن ان تمام مسائل کو خلوص کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کیجئے۔

یاپھر انتہائی خوش اخلاقی کے ساتھ سننے سے معذرت کرلیجئے۔خدارا کبھی کس کی نجی زندگی کی باتوں کا تذکرہ کسی دوسرےسے مت کیجئے۔تاکہ میزان عمل میں آپ کے کاندھوں پردوسروں کو تکلیف دینے کا بوجھ ناہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے : کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا : ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی پیسہ اور دنیا کا سامان نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا مفلس وہ شخص ہے۔

جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزہ، زکاۃ (اور دوسری مقبول عبادتیں) لے کر آئے گا مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا پیٹا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے‘ ایک حق والے کو (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی، ایسے ہی دوسرے حق والے کو اس کی نیکیوں میں سے (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی۔

پھر اگر دوسروں کے حقوق چکائے جانے سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو (ان حقوق کے بقدر) حقداروں اور مظلوموں کے گناہ (جو انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے) ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دئے جائیں گے ، اور پھر اس شخص کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم ۔ باب تحریم الظلم) یہ ہے اس امت مسلمہ کا مفلس کہ بہت ساری نیکیوں کے باوجود ‘ حقوق العباد میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ کسی بھی طرح کے صدمات کو جھیل کر لوگوں سے میل جھول رکھنا کچھ آسان کام نہیں۔ دعا ہے کہ خدا ہمارے دشمن کو کبھی بھی کسی قسم کے مسائل و صدمات والے دن نہ دکھائے کہ اس کا احساس وہی لوگ رکھتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔

جو کسی بھی قسم کے صدمات کا سامنا کررہے ہوتے ہیں یا جن پر ایسے دن گزر رہے یا چکے ہوتے ہیں۔وہ لوگوں کے کڑوے کسیلے رویوں سے واقف ہوتے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات کے نزدیک منفی رویوں سے خود کو بچانے کے لئے کچھ کارآمد معلومات آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں۔ 1۔اکثر لوگوں کی یہ عادت ھوتی ہےکہ وہ ھر کام ھر بات کو اتنا سوچنے اور کریدنے میں لگ جاتے ھیں کہ جیسے کہ وہ کام ان سے نہ ھوا تو۔

اکثر لوگوں کی یہ عادت ھوتی ہےکہ وہ ھر کام ھر بات کو اتنا سوچنے اور کریدنے میں لگ جاتے ھیں کہ جیسے کہ وہ کام ان سے نہ ھوا تو پتہ نھیں کیا قیامت آجاۓ گی., ان پر بوجھ ڈالا جاتا ھے اور وہ اس بوجھ کو اپنے اوپر حاوی کۓ جاتے ھیں , یعنی کہ بچہ پڑھتا تو دوسری جماعت میں ھو اور ذمہ داری وہ آٹھویں جماعت کی اٹھا لیتا ھے ,ایسا کرنے سے وقت سے پھلے کمر ٹوٹ جاۓ گی۔

2۔آپ اگر آفس میں ھیں یا کسی بھی ادارے,کام سے منسلک تو اتنا کیجۓ جتنا کر سکتے ھیں, اضافی بوجھ,سوچ خود پر نہ ڈالیں ,پریشانی ھے تو بات کریں ,بولیں...!

3۔جیسے کچھ مشکلات وقتی ھوتی ھیں جنھیں ختم ہونا ہوتا ھے وہ ہو جاتے ھیں, کچھ مسئلوں کیلۓ وقت درکار ھوتا ھے اس کا پیمانہ صبر ھے اور کچھ مشکلات کا پھل آپ کو اس مشکل سے کئ گنا بڑی خوشی کی صورت ملتا ھے پس وہی مقام شکر ھوتا ھے جسے ھم نا شکری کر کے,جلد بازی کر کے مقام گلہ بنا دیتے ھیں, اصل وھی ٹائم صبر کا ھوتا ھے۔

4۔جیسا کہ ہر چیز کا اپنا ایک مقصد ھے کام ھے اور وہ اتنا ہی کر سکتا ھے اسی طرح انسان ,انسان کی سوچ کسی مقصد کے تحت ھے جسے ھم غیر ضروری بوجھ ,خیالات خود سے بناۓ گۓ نتیجوں سے کمزور کۓ جاتے ھیں۔

5۔آفس/سسرال/میکہ کے معاملات وہیں تک محدود رکھیں,کام کے معاملات کام ھونے تک, گھر کے معاملات گھر تک ,اگر ان سب کو ایک دوسرے سے جوڑیں گے تو پریشانی ہوگی۔

6۔گزارش اور مقصد یہ ہے کہ غیر ضروری بوجھ وہ چاھے جس شکل میں بھی ھو وہ خود پر نہ ڈالیں, سب کام اللہ تعالی بہتری کیلۓ ہی کرتا ھے اور وہ انسان پر اس کی دسترس سے زیادہ بوجھ,پریشانی بھی نھیں ڈالتا پر ہم خود ھی مزید گھبرا جاتے ہیں۔

7۔ سوشل میڈیا کا دور ھے اور فیس بک پر طرح طرح کی بحث کا سامنا ھوتا ھے اور نہ چاہتے ھوۓ بھی وہ انسان کی سوچ,فطرت,رویہ پر اثر چھوڑ جاتی ھیں اور سب غیر ضروری, اضافی بوجھ, منفی سوچ کو ہم اپنے ذہن میں رکھے جارھے ھیں, لہذا جو چیز جس مقصد کیلۓ ھے اس کا استعمال اتنا ھی رکھیں, کیوں کہ مزے کی بات یہ ہےکہ جس چیز کو جس پوسٹ کو جس موضوع کو جس بات کو لۓ ھم خود پر بوجھ ڈالے جارھے ھیں اصل میں اسکو کہنے والے یا چلانے والے محض کہہ کے سائیڈ پر ھو جاتے ھیں۔

8۔ابھی بھی وقت ہے ، سوچ بدلیں ، روٹین بدلیں ، خود میں نیا پن لائیں. . . بہت ضروری ہےخود سے اچھا بولۓ, اچھا سوچۓ,اچھا کیجۓ, پہلے آپ ھیں آپ کی سوچ ھے آپ کی جان ھے.خوش رھیں۔ خود کو بدلنا کا مطلب اپنی عادتوں کو بدلنا ہوتاہے۔بالکل آسان کام نہیں ہے ۔

اپنی بہت پرانی عادات جنکے ساتھ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا ہے جنکو بدلنا واقعی میں آسان کام نہیں ہوتا۔ بہت ہی زیادہ مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہوتی۔ مگر اگر آپ کچھ " خاص " بننا چاہتے هوں۔ایک مشن کے تابع ہوں ایک مشن کو لے کر اٹھنے والے ہوں، زندگی ایک " مقصد " کے تحت گزارنا چاہتے هوں تو پھر اچھی عادتیں اپنانا آپکا شوق بن جاتی ہیں۔ سستی ، کاہلی ، دل نہ لگنا ، مستقل مزاجی نہ ہونا ، ججھکنا وغیرہ جیسی منفی عادتیں عام بات ہے ، کسی کو بھی گھیر سکتی ہیں۔یاد رکھیئے شیطان ہمیشہ ہماری تاک میں لگاہے۔فرق پڑتا ان تمام برائیوں سے نجات کا ان سے چھٹکارے کا۔خود کو احساس دلانا ہے کہ کیوں نہ ایسی عادتوں سے دوری اختیار کی جاے جس سے شخصیت کمزور ہوتی ہو۔

نرمی پیدا کرنے کے لیے اور لوگوں سے محبت کرنے کے لئےلازمی ہے کہ ہم اپنے دل کو نرم کریں۔ حدیثِ پاک میں ہے: اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی گھر والوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تواُن میں نرمی پیدا فرما دیتا ہے۔ (مسند احمد) ایک اور مقام پر فرمایا گیا:جو نرمی سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا۔ (مسلم)کیونکہ دل انسانی اعضاء کا بادشاہ ہے، جب یہ نرم ہو گیا تو آپ کے کِردار، گُفْتَار اور اَطْوار میں خود ہی نرمی پیدا ہو جائے گی۔ زبان اور پیٹ کو حرام سے بچانا،موت کو یادکرنا، اچھی صحبتیں اپنانا اور ہر طرح کے گناہوں سے بچنا ہی دراصل ایک داعی کی زندگی کو مطلوب عمل ہے۔

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہوتو فولود ہے مومن

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com