ہمزاد - جویریہ سعید

دن کے اجلےکنارے سے بھیگی رات کا سیاہ آنچل مس ہوا تو جامنی اور بنفشی رنگ چھوٹ کر آسمان پر پھیلنے لگے۔ کمرے کے ملگجے اندھیرے میں کرسی پر بیٹھا ہمزاد ٹانگیں ہلائے جارہا تھا۔ چیونگ گم چباتا ، اس کا غبارہ میرے ہی چہرے کے قریب لاکر بناتا اور پھر پٹاخ سے پھوڑ دیتا۔ مجھے احساس تھا کہ وہ پھر کئی سوالات میں الجھا ہے۔ ناراض ہے۔ خفگی کا اظہار مجھ سے نہ کرے تو اور کس سے کرے ؟ اور کون سننے کو تیار ہے ؟

اسے ضابطے بوجھ لگتے ہیں ۔ اور ہدایات زنجیریں ۔ "مذہب خواہش کے پرندے کو پنجرے میں کیوں قید کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ وہ تو اسے الٹی چھری سے ذبح کردینا چاہتا ہے! اور خواہش کا پرندہ امکانات کے لامحدود آکاش پر لمبی اڑانیں بھرنا چاہتا ہے۔ اتنی ساری دنیاؤں کی اتنی بہت سی وسعتیں اگر سیر کرنے اور لطف اٹھانے کو نہیں ہیں تو اس کی دسترس میں کیوں دی گئیں ؟ " میں نے مصحف کو دھیان سے طاق میں جماتے ہوئے کہنا چاہا ۔۔۔ "نہ ذبح کرتا ہے اور نہ ہی قید کرتا ہے۔ ہاں اتنا طے کرتا ہے کہ جہاں گھر کی محفوظ سرحدیں ختم ہوتی ہیں ، وہاں سے لوٹ آنا چاہیے۔ ساری ہی وسعتیں سیر کو نہیں بنائی گئیں۔ کہیں گہرے غار بھی ہوں گے اور تاریک دنیاؤں کے دروازے بھی۔ "
چاہا اس لیے کہ مجھے اندازہ تھا کہ جب بہت سے پرندوں کے کئی جھنڈ اپنے پروں میں آرزوئیں باندھ کر اڑانیں بھرنے کو تیار ہوں اور آخری صدائیں لگا رہے ہوں تو پیچھے تیار کھڑے متذبذب مگر پرشوق پرندے کو ہر وہ بات جو ترک سفر کی ترغیب دیتی ہو، ناگوار لگتی ہے۔ وہ سوچتا تھا کہ وہ ایک مقام پر قید کردیا گیا ہے۔ کسی ملک کی وسعتیں کتنے ہی ہزار میلوں تک پہنچی ہوں، اگر آپ کی منزل سرحد کے پرے ہو تو وہ مقام قید ہی لگتا ہے۔ اسے بھی ایسا لگ رہا تھا۔ اور اسے آئے روز سرحدوں پر کھنچے پردے ہٹا کر دور کے مدھم، دھندلے مگر بڑے دلکش معلوم ہوتے مناظر دکھائے جاتے تھے۔ اسے اس سے دلچسپی نہیں تھی کہ جس دنیا کے گرد سرحدوں کا حصار ہے خود وہ بھی کتنی وسیع اور دلچسپ اور دلکش ہوسکتی ہے۔ وہ تو سرحدوں کے قریب ڈیرہ ڈالے بیٹھا تھا اور اس کی نظریں انہی کے پار پھیلے دھندلے مناظر کی رنگینیوں کو کھوجتی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر میں بھی مرد کی طرح پتلون پہن کر سگرٹ سلگاوں، گھر کے جھنجھٹوں سے بھاگ لوں، اگر میں اس موٹی ہوتی اور گدلی پڑتی رنگت والی عورت کی پرواہ کیے بغیر جسے سب بیوی کہہ کر ویسے بھی نشانہ تضحیک پر رکھتے ہیں، خوبصورت تتلیوں کے پروں کی نرماہٹ کو محسوس کروں، اگر میں اپنی ہی جنس میں لطف و سرور کے نئے جہان دریافت کر کے ایک نئے طرز کا ایڈونچر کروں، اگر میں نکاح کی بوسیدہ مگر مضبوط گانٹھ کو جرات سے کاٹ کر ریشمی دھاگے کی نازک اور عارضی گرہیں لگا کر عارضی پناہ گاہوں کا لطف اٹھاؤں، اگر میں اپنے وجود کی لطافتوں اور ہوش ربا نظاروں سے دنیا کو روشناس کرواؤں اور اس طرح اونچی مسندوں پر متمکن ہو سکوں، تو ابدی مسرتوں سے ہم کنار ہوجاوں۔ اس طرف تو گھٹن ہے درد ہے۔
------------------------------------------------------------------------
ہمزاد ایک جھٹکے سے کرسی سے اٹھا میری تھوڑی کو انگلیوں میں جکڑ کر اوپر اٹھایا اور دانت پیس کر بولا، "اے تنگ نظر ! زنجیریں صرف لطف اندوزی اور سرور کی تلاش میں ہی نہیں توڑی جاتیں، کبھی نظام اور قدر کے جبر کے نیچے دبا کوئی جاں بہ لب بھی فرار کی آس میں سسکتا ہے۔ کسی کے لیے زندگی گلے پڑے میں پھانسی کے پھندے کی طرح پھنس جاتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس جبر کو تقویت دینے میں انہی ضابطوں کا ہاتھ ہے۔ انسان سرحدیں اذیت سے رہائی پانے کو اور ابدی مسرت کے امکان کے ساتھ عبور کرنا چاہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے مرد کی جنس اختیار کرنی ہے کیونکہ آنکھ کھلتے ہی سارے زمانے نے مجھے شعوری و لاشعوری طور پر احساس دلایا کہ عورت ہونا کس قدر گھٹیا بات ہے۔
میں نے عورت بننا ہے کہ میرے وجود سے اٹھنے والی آوازیں مجھے اذیت میں رکھتی ہیں،
نکاح میرے لیے بندھن نہیں گلے کا طوق تھا ۔ یہ دیکھو میرے گلے پر کس قدر سرخ نشان پڑے ہیں اور میرے سفید کرتے نے نہ جانے کیسے میرے بدن پر جگہ جگہ نیلے رنگ کے دھبے چھوڑ دیے ہیں۔ میرے جی میں ہے کہ اس مقدس طوق کو ہی دنیا کے رشتوں میں کریہہ ترین بوجھ بنا کر دکھا دوں۔
میرے وجود پر گندی نگاہوں اور چپچپاتی انگلیوں کے اتنے نشان ہیں کہ کوئی صابن ان کو صاف نہیں کرتا۔ ان نشانات سے نہ بچاؤ ممکن تھا نہ نجات۔ کیوں نہ ان کو تمغے بنا کر دکھایا جائے اور ان کانام اعزاز رکھ دیا جائے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے میرا چہرہ ایک جھٹکے سے چھوڑ دی ہے۔ اور چیونگ گم منہ سے نکال کر میری ہتھیلی پر چپکا دی ہے۔ رد کی شدت نے مجھے اس طرح سن کردیا ہے کہ اپنی ہتک کا مجھے احساس نہیں ہورہا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں پسپا ہورہی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے.

ٹیگز

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com