خدائی مو اوبخہ - مدیحۃالرحمن

خدائی مو اوبخہ۔۔۔یہ بولنے کے فورا بعد مجھے احساس ہوا کہ نہیں بولنا چاہیے تھا اماں جی پھر غلط فہمی کا شکار نہ ہو جائیں یہی سوچ کر میں نے جلدی سے اسی روانی میں بول دیا کہ آنٹی بس اتنی ہی پشتو آتی ہے اور پھر ان کے تاثرات جانچنے لگی۔

شکر اللہ کا ان کے ککھ پلے نہ پڑا تھا۔کیونکہ میں تیزی سے دونوں باتیں ایک ہی فقرے میں بول گئی تھی۔ہوا کچھ یوں کہ آج امی کی رپورٹس چیک کروانے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانا ہوا۔میں ریسیپشن پہ پہنچی تو ایک لمبی قطار منتظر تھی خوب رش تھا۔رش دیکھ کر ہی تھکن سی طاری ہو گئی کہ جانے کتنا انتظار کرنا پڑے گا ۔

خیر میں انتظار گاہ میں موجود کرسیوں میں سے ایک پہ بیٹھنے لگی ہی تھی کہ ایک اماں جی تیزی سے بولنے لگیں رش اور شور کی وجہ سے مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔جب میں بیٹھ چکی تو وہ دوبارہ بولیں اب جو غور کیا تو پتہ لگا پشتو بول رہی ہیں۔میں نے ہنس کر کہا مجھے نہیں سمجھ آ رہی آپ کیا کہہ رہی ہیں؟۔۔۔انہوں نے مایوسی سے بد مزہ سا ہو کرکہا "اردو"۔۔۔۔میں سمجھ گئی کہ انکو میری سمجھ نہیں آئی وہ اردو سے نا بلد ہیں۔

میں نے پھر ان سے تھوڑی پشتو جھاڑی جسکا ذکر اوپر کیا ہے اور بعد میں خود کو سرزنش کی کہ وہ اگر میرا خدائی مو اوبخہ سن کر مزید بات کرتیں تو میں پھر ہونق بنی انکو دیکھ رہی ہوتی لہذا نیم پشتون بننے کی کیا ضرورت ہے؟ ؟؟نیم حکیم اور نیم ملا ہی کافی ہیں۔شکل سے تو میں ہرگز پٹھان نہیں لگتی تھی۔

مکمل نقاب میں شاید انکو ہائیٹ سے مغالطہ لگا ہو خیر جو بھی تھا یہ جاننے کے بعد کہ مجھے پشتو نہیں آتی اماں نے دوبارہ دیکھا ہی نہیں خفا خفا سی بیٹھی رہیں۔شاید وہ بور ہو رہی تھیں مجھے بے حد افسوس ہوا کہ مجھے پشتو آتی تو انکا مغز کھا جاتی۔خیر اصل بات کی طرف آتی ہوں ایک آنٹی میرے برابر میں بیٹھی ہوئی تھیں وہ مسکراتی نظروں سے ہمارا مکالمہ سن رہی تھیں میں نے پوچھا آپ بھی پٹھان ہیں؟ ؟؟؟بولیں نہیں میں ایکدم سکون میں آئی کہ شکر ہے میری نیم پشتو سے یہ بھی ناواقف ہیں۔

تھوڑی دیر گزری تو وہ بولیں آپ نے چیک اپ کروانا ہے میں نے کہا نہیں امی کا چیک اپ کروایا تھا 3 دن قبل تو کچھ ٹیسٹ ڈاکٹر صاحب نے کروانے کو دئیے تھے وہ چیک کروانے ہیں ۔آپ کس کے ساتھ ہیں؟ ؟؟اب سوال پوچھنے کی باری میری تھی۔۔۔وہ گویا ہوئیں میں نے اپنا چیک اپ کروانا ہے ملتان سے آئی ہوں۔اصل میں میرے شوہر کی کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوئی تھی 20 سال قبل۔۔۔۔اب تھوڑی تکلیف تھی تو ہم آئے ہیں میں نے سوچا میں اپنی شوگر بھی چیک کروا لوں انہوں نے تفصیل بتائی۔

تھوڑی دیر بعد جیسے ماضی کی یادوں کو یکجا کرتے ہوئے بولیں کہ پتہ ہے جب میرے شوہر کو گردے کا مسئلہ ہوا تھا اور ٹرانسپلانٹیشن کی ضرورت پیش آئی تھی تو ڈاکٹرز نے واضح کہا تھا کہ پرایا گردہ ہے کوئی گارنٹی نہیں کتنا چلے گا اور دیکھو آج بیس سال کا طویل عرصہ گزر گیا ہےاسی گردے پر۔۔۔۔۔جانتی ہو کیسے؟؟؟میں حیران حیران انکو سن رہی تھی۔۔۔۔بولیں ہمارا بہت بڑا مدرسہ ہے اور میرے شوہر وہاں بخاری شریف اور مشکوۃ شریف پڑھاتے ہیں بیماری کے باوجود کبھی پڑھانا نہیں چھوڑا پھر انہوں نے اپنے مدرسے کی تفصیل بتائی ماشاءاللہ دل خوش ہو گیا۔

کہنے لگیں میرابڑا بیٹا اور بیٹی بھی اسی مدرسے میں پڑھاتے ہیں اور الحمدللّٰہ بہت عزت ہے اسی اثنا میں ایک خاتون آئیں جن کے ہونٹ انتہائی عجیب ہیت کے تھے ہم انکو دیکھ کر بے ساختہ استغفار کرنےلگے۔آنٹی نے دعاپڑھی جو کہ مسنون دعا تھی مجھے بہت محسوس ہوا کہ بہت بار کی پڑھی ہوئی دعا مجھے زبانی یاد نہیں۔مسنون دعائیں جو سراسر ہماری حفاظت کا بہترین کڑا ہیں ان دعاؤں کو اگر ہم یاد کر لیں اور جو دعا جس موقعے کی سکھائی گئی ہے۔

اسی طرح پڑھیں تو زندگی کتنی پرسکون ہو جائے ۔آنٹی کا اللہ کے دین سے جڑے رہنےپہ شفا اور عافیت حاصل ہونے کا یقین اور مسنون دعا کا اہتمام مجھے یہ سوچنے پہ مجبور کر گیا ۔ خوش نصیب ہے وہ شخص نصیحت کے لیے جس کے پاس الفاظ نہیں اعمال ہوں۔