کرونا وائرس کے مقابل دُعا اور محبّت کا وائرس - ہمایوں مجاہد تارڑ

سوشل میڈیا پر کوئی ایسا براہِ راست واسطہ یقیناً موجود ہو گا ـــ کوئی فیس بُک پیج یا گروپ، یا ٹوِٹر اور اِنسٹاگرام پر ایسا کوئی پلیٹ فارم ـــ جس کی مدد سے ناچیز کی آواز اُن سینکڑوں پاکستانی طلبہ و طالبات تک پہنچائی جا سکے جو کورونا وائرس کی وجہ سے چین کی ووہانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ہاسٹل میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، پریشان ہیں۔ اُن کی طرف سے مطالبہ ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ ہمیں واپس بھجوائے۔

میری دُعا ہے، اللہ ان سب کو اپنی امان میں رکھے، اور جلد از جلد وہ اس مشکل صورتحال سے نجات پا جائیں۔ یہ عبارت یہاں سے کاپی پیسٹ کر کے مختلف واٹس ایپ گروپس میں ڈال دیں۔۔۔ نتیجتاً یہ وائرل ہو کر اُن بچوں تک پہنچ جائے گی۔
ایسی ہنگامی حالت میں عملی اعتبار سےجو کوشش ممکن ہے وہ تو کرنا ہو گی تا کہ راستہ نکلے۔
طِبّی اعتبار سے بھی آپ یقیناً اُن ہدایات پر عمل کر رہے ہوں گےجو کسی درجہ پرِی کاشن کا کام دی سکتی، اور آپ کو محفوظ بنا سکتی ہیں جیسا کہ دیکھا ہے آپ سب نے masks پہن رکھے ہیں وغیرہ۔
یقیناً آپ سب کے پاس موبائل فونز ہوں گے جن پر آپ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے رابطے میں رہ کر کچھ وقت آن لائن بھی گذار رہے ہوں گے تا کہ اُنہیں اپ ڈیٹ رکھ سکیں اور جواباً اُن کی جانب سے تسلّی، تشفّی کے بول میسّر آئیں، اور آپ اُن کی شمولیت سے حوصلہ پا سکیں۔

دو کام اور بھی کرنا ہوں گے تا کہ اِس آزمائش میں آپ اپنا وقت بہتر طور گذار سکیں۔ یہ کام کرنے کے عوض آپ کو نجات مل جائے گی۔ یہ نجات دو طرح کی ہے:
اوّل، آپ صحت کے اعتبار سے، جسمانی طور پر محفوظ ہو جائیں۔ بھلے آپ سرزمینِ چائنا سے باہر نکل سکیں یا نہ نکل سکیں۔
دوئم، اگر خدانخواستہ آپ اس مہلک بیماری کی گرفت میں آجاتے ہیں، تب بھی ذہنی و نفسیاتی دباؤ، خوف و ہراس کی فضا کا شکار نہ ہوں۔ یہ بھی نجات ہے۔ بہت اہم!
مجھ ناچیز کی جانب سے درجِ ذیل تجاویز ہیں۔ ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
پہلی بات، چاہے کسی خدا پر ایمان ہے یا نہیں، دونوں صورتوں میں آپ یہ دعائیں try کریں، اِنہیں پڑھیں۔ آپ میں سے ہر ایک، میری بات کا اعتبار کر کے، یہ دعائیں اِس نیّت اور سوچ کیساتھ پڑھے کہ اِس دنیا کو پیدا کرنے اور اس کی نگہبانی کرنے والا اگر واقعی کوئی ہے تو آئے میری مدد کو۔ ایسا آپ پوری قوٗت اور خلوص کیساتھ سوچیں، اور پھر پڑھیں۔
ہمارے نبیِ مہربان نے دعاؤں کی قبولیت والی کچھ خاص حالتیں یعنی situations and conditions بتا رکھی ہیں۔ اُن میں سے ایک یہ ہے:
جب کوئی مسافر یا کوئی بھی شخص کہیں بھی کسی خاص مصیبت کا شکار ہو، وہ امتحان گاہ کے عین بیچ میں کھڑا ہو۔

ایسے شخص کی دُعا اِس لئے قبول ہے کہ اُس کا دل ایسی حالت میں گہرے خلوص والے mode پر شِفٹ لے جاتا ہے۔ ایسے شخص کی آہ آسمانوں کا سینہ چیر ڈالتی، خدائے بزرگ و برتر تک براہِ راست رَسا ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ پکارے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ
Ask, and you will be given.
Call, and you will be responded.
دوسری بات، وہ دعائیں کیا ہیں؟ کوئی پابندی نہیں! ــــ آپ کچھ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ حتٰی کہ "رُوح کی مخلصانہ آرزو بھی دُعا ہے۔" کوئی ایک جملہ یا لفظ جو آپ اپنی زبان میں ادا کریں، وہ بھی کارگر ہے۔ تاہم، کچھ الفاظ ایسے ضرور ہیں جو خالق نے خود لکھ کر دئیے، اور اپنے پیغمبرؐ کی زبان سے ادا کروائے ہیں ـــ ہم تک پہنچانے کو! اِن کا سٹیٹس ٹیلی فون نمبر کی طرح کا ہے۔ آپ اِنہیں پڑھتے رہیں۔ خوب رغبت سے۔ اِن میں سے ہر کلام، ایک دن میں، آپ سو دو سو مرتبہ پڑھ لیا کریں۔
ایک:
بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ
اس کے نام سے ( کہ جس کے حکم کے بغیر) زمین و آسمان میں کوئی شے نقصان نہیں دے سکتی، اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔
دو:
آیت الکرسی پڑھیں۔ اگر ٹھیک سے نہیں آتی تو آپ کو اس تحریر سے ہٹ کر اسے الگ سے تلاش کرنے کا تردّد کرنا ہو گا۔۔۔ میں اِسے یہاں کاپی پیسٹ کر دیتا ہوں، ترجمہ سمیت۔ اس ترجمہ کو خوب توجہ سے دیکھیں۔ آپ نے ایسا خوبصورت ترجمہ پہلے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ یہی اِس کلام کا اصل مطلب ہے۔

اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۔ لَا تَاْخُذُہ سِنَة'' وَّلَا نَوْم۔ لَہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ۔ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہ اِلَّا بِاِذْنِہ ۔ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۔ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْْئٍ مِّنْ عِلْمِہ اِلَّا بِمَاشَآءَ۔ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔ وَلَایَئُوْدُہ حِفْظُھُمَا ، وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیم۔
"(یاد رکھو!) نظام خداوندی، اُس خدا کا نظام ہے، جس کے سوا کائنات میں کوئی صاحبِ اقتدار نہیں، وہ از خود زندہ ہے،اور وہ ہر شے کو قیام و توازن عطا کرنے والا ہے۔ وہ اپنی مخلوق کی حفاظت سے نہ کبھی غافل ہوتا ہے اور نہ کبھی بے خبر۔ کائنات کی پستیوں اور بلندیوں میں جو کچھ ہے، سب اس کے متعین کردہ پروگرام کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل ہے۔ کوئی ایسا نہیں جو کسی کا ساتھی بن کر (قانون خداوندی کے خلاف) کسی کی مدد کر سکے؟ جو کچھ کائنات میں سامنے (ظاہر) ہے اور جو کچھ اس کے پیچھے (پوشیدہ) ہے، وہ سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام کائنات بھی اس کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتی سوائے اس کے کہ جو اس کا قانون مشیت عطا کرنا چاہے۔ اس کا علم و اقتدار، کائنات کی پستیوں اور بلندیوں سب پر چھایا ہوا ہے، اور اس کی حفاظت و نگرانی سے وہ کبھی نہیں تھکتا، اور نہ اس کی حفاظت و نگرانی اس پر گراں گزرتی ہے، اس کا علم و اقتدار اور غلبہ و تسلّط کائنات کی بنیادوں سے لے کر اس کی انتہائی بلندیوں تک محیط ہے۔"

تین:
یہ دُعا پڑھیں:
الّلھُمّ استُر عَورَاتِنا وَآمِن رَوعَاتِنَا۔
اے اللہ، ہماری کمزوریوں کی پردہ پوشی فرما، اور ہمیں امن عطا فرما۔
چار:
دو تین سو مرتبہ یَا سَلامُ کا وِرد کریں۔
پانچ:
یہ مختصر دعا:
رَبّ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ
میرے رب، میں گِھر گیا ہوں۔ پس تُو میری مدد فرما۔
چھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ
اے پروردگار، مجھے دنیا و آخر میں عافیت عطا فرما۔
یہ تو تھا پہلا کام۔ آپ خود کو اِس میں مشغول رکھنے کی کوشش کرکے دیکھ لیں۔ یہ مشغولیت آپ کی اینگزائٹی کو، دل و دماغ میں لگی آگ کو بُجھا دے گی۔ آپ کی گھبراہٹ کم یا بالکل ہی ختم ہو کر رہ جائے گی۔ یاد رکھیں، دعا سے تقدیر پلٹتی، زمانہ بدلتا ہے۔ اِس قدر پابند زندگی میں دُعا ہی ایکسیپشن ہے۔ دُعا ایک راستہ ہے۔

دوسرا کام۔ دلی و دماغی اعتبار سے مضبوط رہنے اور اپنے نفسیاتی میک اَپ کو درست رکھنے کی شعوری کوشش۔ کیا اور کیسے؟
تھوڑا بے نیازی والا رویّہ اپنا لیں۔ ایک دوسرے سے، اور فضا اندر پھیلے اِس وائرس سے خوف زدہ و دہشت زدہ رہنے کی بجائے ایسی کی تیسی والا جارحانہ سا ذہنی رویّہ۔ آپ اپنے ساتھیوں سے دُور دُور بھاگنے، اور اس خوف میں رہنے سے خود کو آزاد کر لیں کہ اگر آپ نے کسی کو یا کسی نے آپ کو چھو لیا تو نجانے کیا ہو جائے!! ایک دفعہ آشوبِ چشم والا وائرس پھیل گیا۔ ہمارے ایک ساتھی دو تین روز غیر حاضر رہ کر سکول واپس آئے تو ابھی تک وہ رنگین چشمہ لگائے ہوئے تھے، اور اُن کی ایک آنکھ خاصی سُرخ تھی۔ وہ جب دوستوں سے ملنے کی کوشش کرتے تو ہر کوئی گھبرا کر دُور بھاگتا۔ بس ہاتھ سے مصافحہ کر لینے کو کافی سمجھتا۔۔۔ اُس بیمار دوست کو سخت صدمہ ہوا ــــ اگرچہ وہ سمجھدار تھا اور برداشت کر گیا۔ تاہم، جب میرے سامنے آیا تو میں نے اسے پکڑ کر سینے سے لگا لیا۔ پھر اُس کا چہرہ ہاتھوں میں جکڑ کر اُسے خوب پیار دیا۔ اب ردّ عمل میں وہ تقریباً رو پڑا۔ کہنے لگا "ایک آپ ہیں اور ایک پرنسپل صاحب، جنہوں نے ایسی کوئی پروا نہیں کی۔۔۔ وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا، خیر ہے وغیرہ"۔

وہ وقت گذر گیا۔ نہ مجھے کچھ ہوا، نہ دوسرے شخص یعنی پرنسپل صاحب کو ہی۔کہنا یہ ہے کہ تھوڑی احتیاط اچھی بات ہے مگر انسان سے محبّت بذاتِ خود ایک علاج ہے ــــ روحانی، نفسیاتی، اور جسمانی بیماریوں کا۔ تھوڑی بے نیازی، تھوڑی ہمّت میری جان!
تیسرا کام: ایسی صورتحال میں آپ سکڑنے سمٹنے کی بجائے اُلٹا ایسے مواقع تلاش کریں کہ آپ کہاں، کیسے، کس کی، کتنی مدد کر سکتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے، اس ہنگامی صورتحال میں کچھ ساتھی عجیب عجیب خود غرضانہ حرکتیں کرتے نظر آئیں گے۔ آپ ویسا نہ بنیں تو آپ اس مشکل گھڑی کے ہیرو ہیں۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر علاج یہ ہے کہ آپ محبّت کا وائرس پھیلا دیں۔
آپ سب کے لئے دُعا گو

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com