سنگاپور کورونا وائرس... سنگاپور کے وزراء کی پریس کانفرنس - اعظم علی

چین میں کورونا وائرس سے بڑہتی ہوئی اموات اور اب تک ۲۰۰۰ سے زیادہ متاثرین سنگاپور کی کثیرالوزارت ٹاسک فورس جو کہ اس وباء سے تمام محاذوں پر مقابلہ کرنے کے لئے بنائی گئی ہے نے نئےاقدامات کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے ۔

جن میں چین سے واپس آنے والے کچھ شھریوں کے لئے دفاتر سے جبری رخصت ، اور ممکنہ مریضوں کی اسکرینگ اور چیک کے نظام کو مزید سخت کیا جائے تاکہ اس وباء کو ملک میں پھیلنے سے روکا جاسکے ۔ سنگاپور کی حکومت نے اپنے شھریوں کو چین کے غیرضروری سفر سے احتراز کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ بدھ ۲۹ جنوری سے تمام آنے والے فضائی مسافروں کے ائرپورٹ پر ٹیمپریچر چیک کیے جائیں گے ( اسکے لئے تھرمل اسکینر استعمال ہوتے ہیں کسی کو بطور خاص رُک کر ٹیمپریچر چیک کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی ) ۔ لیکن چین اور بالخصوص چین کے صوبے ہیوبی سے آنے والے مسافروں کو خصوصی چیک کیا جائےگا ۔ چین سے واپس آنے والے طلباء اور کارکنان کے لئے مزید اقدامات نافذ کیے جارہے ہیں۔ہر شخص جس نے گذشتہ ۱۴ دنوں میں چین کا سفر کیا ہے اسے اپنی کمپنی کو مطلع کرنا ہوگا، اسکی صحت اور ٹیمپریچر کو اسکی چین سے واپسی کے ۱۴ دن تک دن میں دو بار چیک کرانا ہوگا ۔ وہ افراد جو بچّوں ، بوڑھوں اور صحت کے شعبے میں کام کر رہے انہیں واپسی کے ۱۴ دن تک جبری رخصت پر گھر میں رہنے کا حُکم دیا جارہا ہے۔

توقع ہے کہ جنوری کے درمیانی عرصے میں تقریباً ۸۰۰ طلباء چین سے واپس آئے ہیں ان سب کو واپسی کے بعد ۱۴ دن تک گھر میں رہنے کا حُکم دیا جاتا ہے ۔ ایک پریس کانفرنس میں جس میں کئی وزراء نے شرکت کی ٹاسک فورس کے شریک چیئر مین سنگاپور کے وزیر صحت نے کہا کہ حکومت سنگاپور کو اس وباء سے محفوظ رکھنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی ۔ حسب ضرورت تمام ضروری اقدامات بشمول ، سفری مشورے ، بارڈرز پر سخت نگرانی اور ٹیمپریچر چیک کئے جارہے ہیں ۔ اسپتال اور ڈاکٹرز بھی ہائی الرٹ ہیں، ابھی تک کوئی ایسی علامت نہیں ہے کہ مرض سنگاپور میں پھیل رہا ہے (ابھی تک چار مصدقہ مریض ہیں ) ۔ لیکن صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے ، ہم اسپر کڑی نظررکھّے ہوئے ہیں اگر ضرورت پیش آئی تو مزید اقدامات کیے جائیں گے۔اسوقت تک چین میں اس وباء سے ۸۰ اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔۲۳۰۰ سے زیادہ افراد بیمار ہیں ۔ان اموات کی رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ وائرس سے اموات کی شرح ۲۰۰۳ کے سارس وائرس سے نسبتا کم ہے ۔ ان طلباء جنہیں جبری رخصت دی جارہی ہے کے بارے میں وزیر تعلیم نے کہا ہے یہ انکے لئے اضافی چھٹیاں نہیں ہیں.

ہم انکی تعلیم میں رخنہ نہیں چاہتے اور اساتدہ ان سے رابطے میں رہیں گے تاکہ انکی تعلیم گھر سے بھی جاری رکھی جاسکے۔ وزیر محنت کش نے اس بات پر زور دیا کہ آجروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے کارکنان کے تحفظ میں اپنا کردار انجام دینے کے لئے وقتا فوقتا دیئے جانے والے سرکاری مشوروں پر توجہ دیں اور بغیر کسی تامل کے عمل کریں۔ اسکے علاوہ کارکنان کو بھی چاہیے کہ اپنی صحت اور ذاتی صفائی کی ذمہ داری قبول کریں۔ وزیر ماحولیات و آبی وسائل نے کہا کہ کہ انکی وزارت کی توجہ صفائی اور کسی بھی خطرناک فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے پر ہے۔ وزیر مواصلات و اطلاعات نے توجہ دلائی کہ خبریں معاشرے میں غیرضروری ہیجان و خوف پیدا کرسکتی ہیں، اس لئے حکومت نے عوام کو بروقت درست اطلاعات فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے۔ ٹاسک فورس کے شریک چیئرمین اور وزیر قومی ترقی و تعمیرات نے قومی یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا اور عوام سے اپیل کی ہے مطمئن رہیں اپنی روزمرہ کے معمولات پر عمل کریں، جھوٹی افواہوں پر توجہ نہ دیں اور اپنی معلومات کے لئے سرکاری زرائع پر اعتماد کریں۔