کیا واقعی اب گھبرانے کی ضرورت نہیں - پرویز بزدار

عمران خان صاحب نے حکومت سنبھالتے ہی جہاں این آر او نہ دینے کا وعدہ کیا وہیں انہوں نے قوم سے یہ بھی کہا کہ اس معاشی بحران میں آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ بس میرا ساتھ دیں اور میں ملک کو اس بحران سے نکالوں گا۔ گزشتہ چند ہفتوں سے وزیر اعظم صاحب قوم کو یہ خوشخبری سنا رہے ہیں کہ ہماری معیشت سنبھل چکی ہے اور اب گھبرانے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ معاشی اعشاریے یہی بتا رہے ہیں کہ ملک میں کافی حد تک معاشی استحکام آ چکا ہے۔ تجارتی خسارہ ختم ہو چکا، باہر سے سرمایہ کار ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ہمارے درآمدات بڑھ چکے ہیں اور برآمدات میں کافی حد تک کمی آچکی ہے۔ ایک اور خوشخبری یہ بھی ہے کہ ایف بی آر نے پچھلے مالی سال اس وقت تک جتنا ٹیکس اکٹھا کیا تھا اس سے سترہ فیصد زیادہ ٹیکس جمع ہو چکا ہے۔ ان سب مثبت اعشاریوں کو حاصل کرنے کےلیے پاکستانی عوام نے مہنگائی اور صنعت کار نے زیادہ شرح سود جیسے کڑوے گھونٹ پیے ہیں۔

چاہے مجموعی معاشی اعشاریوں میں استحکام آیا ہے مگر غریبوں اور سرمایہ کاروں کے دن ابھی بھی نہیں بدلے، نہ مہنگائی اور شرح سود میں کوئی کمی آئی اور نہ ہی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ پروگرام جب ختم ہوگا تب حالات کیسے ہونگے۔ بہت سے معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان میں بھی مصری ماڈل استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ اس کی وجہ نہ صرف یہ ہے کہ مصر کے آئی ایم ایف پروگرام میں بھی ہمارے سٹیٹ بنک کے چئیرمین ڈاکٹر رضا باقر صاحب کا کلیدی کردار تھا بلکہ اس کے علاوہ پاکستان اور مصر کے حالات میں بھی ناقابل یقین حد تک مماثلت ہے۔

پاکستان کو قرضہ دینے سے پہلے دو ہزار سولہ کے آخر میں آئی ایم ایف نے مصر کو تین سال کےلیے بارہ ارب ڈالرز کا بیل آوٹ پیکج دینے کا فیصلہ کیا تھا، یاد رہے کہ پاکستان کی قرضے کی رقم تین سال کےلیے چھے ارب ڈالر ہے۔ اُس وقت مصر بھی پاکستان کی طرح غیر ملکی ریزروز کی کمی، فسکل اور ٹریڈ ڈیفیسٹ، بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کا ہجم، کم گروتھ ریٹ اور بے روزگاری جیسے مسائل کا شکار تھا۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے بالکل پاکستان ہی کی طرح مصر نے بھی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے قرضے لیے مگر اس سے بھی مصر معاشی بحران سے نہیں نکل سکا۔

آئی ایم ایف نے معمول کے مطابق اس معاہدے کے ساتھ قرضہ دیا کہ مصر کو تین سالوں میں بہت سی اہم معاشی اصلاحات کرنی ہونگی۔ ان اصلاحات میں مانٹری پالیسی، فسکل پالیسی اور سٹرکٹرل اصلاحات سر فہرست تھے؛ اور بعنہٖ یہی تین باتیں ہمارے معاہدے میں بھی شامل ہیں۔ آئی ایم ایف نے ان اصلاحات کے مقاصد یہ بتائے کہ اس سے گروتھ ریٹ میں اضافہ ہوگا، بیرونی سرمایہ کاری بڑھے گی، ملک میں روزگار پیدا ہونگے اور پسماندہ طبقوں کو معاشی طور پر اوپر لایا جائے گا۔ پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی سرمایہ داروں نے اپنا ہارڈ پیسہ انویسٹ کرنے کی بجائے ڈالرز خرید کر اس کی ذخیرہ اندوزی شروع کی اور پاکستان کی طرح مصر میں بھی ڈالر کا بحران پیدا ہوا۔

معاہدہ ہونے کے بعد مصر نے آئی ایم ایف کے سب شرائط کو کسی نہ کسی حد تک نافذ کر نے کی کوشش کی۔ ایکسچینج ریٹ کو فکس رکھنے کی بجائے مارکیٹ کی بنیاد پر ایکسچیج ریٹ طے کرنے کا طریقہ متعارف کیا گیا۔ گورنمنٹ ڈیفیسٹ کو ختم کرنے کےلیے پارلیمنٹ نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ تیل، کھانے پینے کی اشیاء اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے سبسیڈی ختم کی گئی۔ معاشی ڈھانچے میں اصلاحات کےلیے انویسٹمنٹ کے نئے قانون بنائے گئے جس سے کم خطرناک صنعتیں لگانے کےلیے لائسنس کی فراہمی کو تیز کیا گیا۔

ان سب اقدامات کا مجموعی معیشت پر بہت اچھا اثر پڑا۔ نئے ایکسچینج ریٹ کے بعد ڈالر کی کمی پر قابو پا لیا گیا۔ بیرونی کرنسی کی قیمتیں زیادہ ہونے اور زیادہ شرح سود کی وجہ سے باہر سے لوگ زیادہ پیسہ مصر لانے لگے۔ اس پیسے سے ملک کے فارن کرنسی ریزروز، بیرونی سرمایہ کاری اور درآمدات جیسے معاشی اعشاریے بہتر ہوئے۔ ان سب ثمرات کے علاوہ بے روزگاری میں بھی کمی آئی۔ حکومت اور آئی ایم ایف کی خوش قسمتی سے نئے گیس کے ذخائر دریافت ہونے کی وجہ سے برامدات میں بھی اٹھارہ فی صد کا اضافہ ہوا۔ اور یہاں تک کہ جی ڈی پی میں آئی ایم ایف کی توقعات سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔ یوں دنیا بھر میں مصر کی معیشت کو مستحکم گردانا جانے لگا۔

دوسری طرف ان سب اصلاحات کا عام طبقے پر وہی اثرات ہوئے جن کا پاکستان میں عوام کو سامنا ہے۔ ملکی کرنسی کی قیمت میں کمی کی وجہ سے برآمدات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔ تیل اور کھانے کی اشیاء سے سبسیڈی ختم ہونے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کی شرح بیس فیصد تک پہنچ گئی۔ گورنمنٹ ڈیفیسٹ کو کم کرنے کےلیے تیرہ فی صد چیزوں پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگائی گئی۔ چونکہ آبادی کا زیادہ حصہ غریب تھا اور یہ چیزیں امیر اور غریب دونوں کے برابر کے استعمال کی تھی اس لیے اس مد میں بھی زیادہ پیسہ غریبوں سے ہی لیا گیا۔ ایسی مہنگائی میں کم آمدنی والے طبقے کےلیے بنیادی ضروریات کو پورا کرنا بھی مشکل ہوگیا۔ پسماندہ طبقوں کو معاشی طور پر اوپر اٹھانے کےلیے دو ہزار چودہ سے موجود سمارٹ کارڈ سسٹم کی رقم بڑھائی گئی اور ایک نیا پروگرام بھی متعارف کیا گیا۔

ان سب اقدامات کے باوجود بھی دی جانے والی رقم بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے سے کئی گنا کم تھی۔ اس وجہ سے ملک گیر احتجاج شروع ہوئے اور گورنمنٹ کو اس میں مزید اضافہ کرنا پڑا اور کم آمدنی والے گھرانوں کو اشیاءِ خورد و نوش اور دوائیوں پر سبسیڈی دینی پڑی۔ اگرچہ یہ سب سہولیات تو کسی حد تک مددگار ثابت ہوئیں مگر پھر بھی ناکافی ہیں۔ ان سہولیات کی اہلیت کے شرائط بھی اس حد تک سخت ہیں کہ اگر کسی کے پاس موبائل فون بھی ہو تو وہ ان سہولیات سے محروم رہے گا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت تین کروڑ افراد (آبادی کا ایک تہائی حصہ) دن میں دو ڈالرز سے بھی کم کما رہے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام سے پہلے ایسے لوگوں کی تعداد اڑھائی کروڑ کے قریب تھی۔ ان تین کروڑ میں سے چھے لاکھ ایسے انتہائی غریب بھی ہیں جو دن کا ایک ڈالر بھی نہیں کماتے۔ اس سب صورتحال میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے قوم سے کہا کہ پرانی حکومتیں کا گند صاف کرنے میں وقت تو لگے گا مگر آپ حوصلہ رکھیں جلد ہی ترقی کی روشنی کی کرنیں آپ تک پہنچیں گی، گویا

؎ تاریک بستیوں کے مکیں حوصلہ رکھیں

سورج کو اپنے ساتھ لیے آ رہے ہیں ہم ۔

مصر میں آئی ایم ایف پروگرام اب ختم ہونے کو ہے اس لیے ان کے ہاتھ میں شاید غریبوں کو صبر کی تلقین کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ مگر پاکستان میں ابھی معاشی ٹیم کے پاس وقت ہے کہ آئی ایم ایف کو مصر والی غلطیاں یہاں نہ دہرانے دیں۔ اس کا حل بہت سے معاشی ماہرین یہ بتا رہے ہیں کہ معیشت مستحکم ہونے کے بعد اب سرمایہ کاروں کےلیے آسانیوں کا کوئی رستہ نکالنا چاہیے۔ اس سے روزگار بھی پیدا ہونگے اور معیشت میں دیرپا استحکام بھی آئے گا۔ مصر میں جس طرح غریب طبقے کی مدد کرنے میں دیر کی وجہ سے غربت اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوا اس سے بچنے کےلیے گورنمنٹ احساس پروگرام پر زیادہ توجہ دے سکتی ہے۔

ایک بات واضح ہے کہ مصر کے ماڈل میں تبدیلیاں ہماری حکومت کو ہی کرنی ہونگی کیونکہ آئی ایم ایف، مصری حکومت اور مغربی میڈیا اُس پروگرام کو ابھی تک بہت کامیاب قرار دے رہے ہیں۔ اگر حکومت نے پسماندہ طبقے کی طرف توجہ نہ دی تو شاید آئی ایم ایف بھی گروتھ ریٹ اور فسکل ڈیفیسٹ کم ہونے پر مطمئن ہو کر قرضے کی اگلی قسطیں جاری کرتا رہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */